ہندوستان کی یہودی سنگ تراش مصورہ اور نامور ادیبہ ایسٹر ڈیوڈ


کانکنیہ تالاب پر ایک دفعہ ایک سلطان نے ایک خرگوش کو ایک حملہ آور کتے سے بہادری اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کرتے دیکھا اور طے کر لیا کہ یہاں ایک شہر بسائے گا، جہاں خرگوش جیسا کمزور طاقتور کتے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہی تھا وہ دن جس دن احمد آباد کی تخلیق ہوئی!۔ آج کردار بدل رہے ہیں عجیب و غریب جانور، آدھے خرگوش آدھے کتے، سب ایک دوسرے کو کھاتے ہوئے!۔

کرفیو، فساد اور خون خرابہ! آنسوؤں کا ایک دریا ہمیں دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ پرانے شہر کی دیواروں کے نام پر آج صرف اینٹوں کا ایک ڈھیر باقی بچا ہے۔ یہ احمد آباد کی ’’دیوار گریہ‘‘ ہے جو اپنے لوگوں کے آنسوؤں کو دیکھا کرتی ہے۔ اب اس کے پاس کوئی نہیں آتا، کوئی مدد کی گہار نہیں کرتا۔ اس کے دراروں میں اب کبوتروں تک کو پناہ نہیں ملتی۔ مگر شاید اس کی بنیادوں پر چوہوں اور چیونٹیوں نے اپنے گھر بنا لئے ہیں۔ مگر شاید احمد آباد کی روح آج بھی زندہ ہے، پر ایک بوڑھی نانی کی موت مر رہی ہے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے یا پھر شاید وہ ہماری مدد کر سکتی ہے!۔

دروازے تنہا سنتریوں کی مانند کھڑے ہیں جیسے وہاں کوئی نہیں جس کی وہ حفاظت کریں۔ کرفیو ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک ایسے سفر طے کرتا ہے جیسے فوجی جوتوں، بندوقوں، پانی کی توپوں اور آنسو گیس سے لپٹا کوئی سانپ ہو جو سارے شہر میں گردش کر رہا ہو۔ سڑکوں پر کوئی چلت پھرت نہیں، صرف سناٹا ہے اور اس خاموشی میں گونج ہے سازشوں کی، مظلوم ہے کون اور کون ہے ظالم، سمجھنا مشکل بتانا مشکل!۔

یہ اقتباس ہے ہندوستان کی ایک نمایاں انگریزی افسانہ نگار ایسٹرڈ ڈیوڈ کے پہلے ناول (دیواروں کا شہر) سے جو 1997ء میں منظر عام پر آیا!۔ احمد آباد ایسٹرڈ ڈیوڈ کا وطن ہے اور ایسٹر ڈیوڈ احمد آباد کی آتما کے رکھوالوں میں سے ایک۔ جن میں کچھ اور نمایاں نام ہیں ہلکا سا بھائی اور تیستہ ستلواڈ!۔

ایسٹر ڈیوڈ ایک نامور ادیبہ ہی نہیں ممتاز سنگتراش اور مصورہ بھی ہیں۔ ایسٹر کو ان کی زندگی بھر کی خدمات کے لئے گجرات للت کلا اکادمی کا سبب سے بڑا انعام مل چکا ہے اور وہ اکادمی کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں!۔

آپ کے مجسموں اور تصویروں کی نمائشیں ساری دنیا میں ہو چکی ہیں جن میں اہم ہیں پیرس کی اور نام کی تحریک کے ذریعے احمد آباد کے گپتا نگر علاقہ کی جھوپڑ پٹیوں میں ایسٹر نے بڑا کام کیا جس کے بعد انہیں کی تہذیب و ثقافت اور تعلیم کی تنظیم نے دعوت دی کہ وہ فرانس میں اپنے کام کی نمائش کریں۔ اس نمائش کا عنوان تھا ’’میرے گھر کے سامنے والی سڑک‘‘۔ دو ناولوں اور ایک کہانیوں کے مجموعے کی مصنفہ ایسٹر کی تصانیف کے ترجمے فرانسیسی اور گجراتی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ آپ نے نو بھارت ساہتیہ مندر کی دعوت پر زلزلے پر مختلف افسانہ نگاروں کی لکھی کہانیوں کے ایک مجموعے کو بھی مرتب کیا جس نے بڑی مقبولیت پائی!۔

ایسٹر ڈیوڈ کی پیدائش 1940ء میں احمد آباد میں ہوئی۔ ایسٹر کا تعلق ہندوستان کی تین یہودی ملتوں میں سے ایک، بینی اسرائیل ملت سے ہے (یہودی زور دیتے ہیں کہ تلفظ بینی اسرائیل کیا جائے، نہ کہ بنی اسرائیل)۔ اس ملت کے تقریباً ساڑھے تین سو افراد احمد آباد میں آباد ہیں۔ ایسٹر نے، مہااجہ سایا جی راؤ یونیورسٹی بڑودہ سے گریجویشن کیا اور پھر ایک لمبے عرصے تک اور اور احمد آباد میں پڑھائی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ایسٹر نے اپنی، مجسموں اور ڈرائنگس کی نمائشیں کیں تاج آرٹ گیلری اور جہانگیر آرٹ گیلری ممبئی میں۔ 1979ء سے انگریزی روزنامے ٹائمس آف انڈیا، احمد آباد کے لئے آرٹ کریٹک رہیں۔ نوے کی دہائی میں ایسٹر ڈیوڈ گجرات للت کلا اکادمی کی چیئرپرسن رہیں۔ 204 صفحات پر مشتمل ان کا پہلا ناول (دیواروں کا شہر)۔ 1997ء میں منظر عام پر آیا جسے ایسٹ ویسٹ بکس مدراس نے شائع کیا۔ ایسٹر ڈیوڈ کی دوسری کتاب ان کی کہانیوں کا مجموعہ تھا۔ (سابرمتی کے کنارے) 2002ء میں Viking نے اپنی تیسری تصنیف۔ دوسرا ناول۔ 394 صفحات پر مشتمل (کتاب ایسٹر) شائع کیا۔ اسی سال یروشلم (اسرائیل) کی ہبریو یونیورسٹی کی مشہور ڈاکٹر شیلوا وائل کی تاریخی کتاب (ہندوستان کی یہودی وراثت) میں ایسٹر کا مقالہ شریک کیا گیا۔ ایسٹر ڈیوڈ ساری دنیا کی ادبی کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ آخری کانفرنس جس میں آپ شریک ہوئیں وہ تھی برطانیہ میں منعقد جنوبی ایشیا کی خاتون ادیباؤں کی کانفرنس !۔

ایسٹر ڈیوڈ ایک ممتاز صحافی بھی ہیں۔ آپ برابر لکھتی رہی ہیں، اور مختلف گجراتی جرائد کے لئے۔ سنگتراشی اور مصوری پر U.G.C کی ڈاکو مینٹری فلموں کی اسکرپٹس بھی لکھتی رہی ہیں۔ احمد آباد میں مقیم ایسٹر ڈیوڈ شریک حیات ہیں ایک فرانسیسی کی اور ماں ہیں دو اولادوں کی، ایک بیٹی، ایک بیٹا۔ امرتا اور روبن!۔

ایسٹر ایک ایسی حساس افسانہ نگار رہیں جس نے اپنے نسلی اور تہذبی پس منظر، ہندوستان کی رنگارنگی، گجرات کی مذہبی کشیدگی اور عورتوں کے سنجیدہ مسائل کا گہرا اثر قبول کیا ہے جو ان کی ادبی تخلیقات میں صاف جھلکتا ہے۔ ایسٹر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کی ہر تخلیق سوانح حیات ہی محسوس ہوتی ہے۔ افسانے اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ قاری کو موقع فراہم کرتی ہیں ایک ہندوستانی یہودی کی نظر سے دنیا کو دیکھنے کا۔ ایسٹر نے ہمیں متعارف کرایا ہے ہندوستان کے انسانی سمندر میں چھپی ہوئی ننھی یہودی ملت سے، اس کی اقدار سے، اس کے سماجی تانے بانے سے، اس کی تہذیب و ثقافت سے، اس کے مسائل سے، اس کی فکروں سے۔ ایسٹر کی تحریر تحریک دیتی ہے عورت کو ظلم و زیادتی سے لڑنے کی اور مرد کو دریچہ فراہم کرتی ہے عورتوں کی زندگی میں جھانکنے کے لئے۔

ایسٹر کی تخلیقات دنیا کو ایک نیا زاویہ دیتی ہیں، یہودیوں کو دیکھنے کے لئے اور ہمیں راغب کرتی ہیں سوچنے کے لئے!۔\"\"

ایسٹر کا پہلا ناول کہانی ہے احمد آباد کی ایک یہودن کی زندگی کی، داستان ہے احمد آباد کے ایک یہودی گھر کی، عورتوں کی تین پیڑھیوں کی، تعارف ہے احمد آباد کے یہودی سماج کا، بیورا ہے اپنی الگ یہودی شناخت قائم رکھنے کی کوششوں کا، بیانیہ ہے ہندوستانی یہودیوں کی تہذیب اور ثقافت پر منڈلاتے خطروں کا!۔

اپنے والد، عالم گیر شہرتوں کے مالک، جانوروں کے ڈاکٹر، قدم شری روبن ڈیوڈ کے قائم کئے ہوئے چڑیا گھر کی بغل کے مکان میں ایسٹر کا بچپن گزرا۔ ایسٹر کو تبھی سے انس ہے جانوروں سے جو ان کے دوسرے ناول میں کچھ اہم کرداروں کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، انسانوں کے شانہ بشانہ، جیسے گنگا رام (طوطا)، کیا (مور) اسٹیلہ (سارس)، شوا (بیل)، وغیرہ۔ اس میں کچھ سچے واقعات کا بھی ذکر ہے جیسے ہندوستان کے دو بڑے وزیروں (نہرو اور اندرا) کے احمد آباد کے چڑیا گھر کے دورے اور چڑیا گھر کی بنیاد رکھنے والے، ایسٹر کے والد، ڈاکٹر روبن ڈیوڈ سے ان کی ملاقاتیں، جنہیں 1974ء میں ’’پدم شری‘‘ کا اعزاز ملا، کے میدان میں، ان کی ناقابل فراموش خدمات کے لئے!۔ لیکن کا بنیادی مزاج تاریخی ہے۔ یہ دو سو سال کے عرصے میں ایک بینی اسرائیل یہودی خاندان کی پانچ نسلوں کی طویل داستان ہے، جو 19ویں صدی میں کونکن کے ساحل پر علی باغ کے گاؤں ڈانڈ سے شروع ہوتی ہے اور جدید احمد آباد پر ختم ہوتی ہے۔ ڈانڈو ہی کو نکنی گاؤں ہے جس سے ایسٹر ڈیوڈ کے بینی اسرائیل بزرگوں نے پہلی مرتبہ ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا، جب ان کا جہاز ڈوب گیا۔ یہ بینی اسرائیل یہودی اپنے مذہبی عقیدے پر تو قائم رہے مگر پوری طرح ہندوستانی طرز زندگی میں ڈھل گئے، یہاں تک کہ مراٹھی نام بھی اپنا لئے۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے وقت ہندوستانی یہودی آبادی تھی 25000، جس میں تقریباً 20000 مہاراشٹر کی اسی بینی اسرائیل ملت کے افراد تھے۔ آج یہ آبادی گھٹ کر 5271 رہ گئی ہے جس میں تقریباً 5000 بینی اسرائیل ہیں۔ آبادی میں یہ کمی ان کے بڑے پیمانے پر اسرائیل چلے جانے کے نتیجے میں آئی!۔

میں مختلف کرداروں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ برٹش فوج کے ایک ہندوستانی یہودی سپاہی کی کشمکش بھی ہے \"\"جسے اپنی ملازمت کی مجبوری کے تحت شیر میسور ٹیپو سلطان کے خلاف لڑنا پڑ رہا ہے، جن کے لئے وہ بے پناہ عقیدت رکھتا ہے۔ ایسٹر ڈیوڈ کا ماننا ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں مسلسل رابطہ نہایت ضروری ہے ۔ کتاب ایسٹر، ایسٹر کے ناول کا دلچسپ نام ہے صرف اس لئے نہیں کہ خود ان کا نام ایسٹر ہے بلکہ اس لئے بھی کہ بائبل کے ایک مخصوص حصے کو بھی Book of Esther کہا جاتا ہے!۔ ایسٹر ڈیوڈ کی 21 غیر معمولی کہانیوں کا مجموعہ جھانکتا ہے ہندوستانی عورت کی زندگی میں!۔

اپنی اسرائیلی جڑوں کی تلاش میں ایسٹر ڈیوڈ اسرائیل گئیں لیکن ہندوستان سے دور، اپنے شہر احمد آباد سے دور، ان کا جی نہ لگا اور وہ جلد ہی واپس لوٹ آئیں۔ اسرائیل میں انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں سے آئے یہودیوں سے ان کے اوپر ہوئے مظالم کی کہانیاں سنیں۔ ایسٹر نے محسوس کیا کہ ان یہودیوں کے لئے تو اسرائیل ہجرت کرنا ایک بہتر فیصلہ تھا، لیکن خود انہیں اس ہجرت کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دو ہزاربرس سے ان کی ملت ہندوستان میں سکون و قرار کے ساتھ رہ رہی تھی۔ ہندوستان دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کے ساتھ کبھی کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ ایسٹر کو ہندوستان سے عشق ہے وہ اس دھرتی سے دور نہیں رہ سکتیں:


Comments

FB Login Required - comments

نورس آفریدی کی دیگر تحریریں
نورس آفریدی کی دیگر تحریریں