کیا عورت ہونا جرم ہے؟


\"\"  اگر آپ ایک عورت ہیں، کبھی کسی عام بازار میں خریداری کے لیے جاتی ہیں یا کسی کام سے جانا پڑتا ہے، آپ پیدل ہیں کسی گاڑی پہ سوار نہیں، آپ کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے تو آپ بخوبی جانتی ہوں گی کہ یہ معاشرہ عورت کی کتنی عزت کرتا ہے….

اسکول کالج یا یونیورسٹی میں، کچھ مرد استاد (استاد قسم کے استاد مرد) جو آپ کو خصوصی طور پر اکیلے اپنے کمرے میں تشریف لانے کا فرمان جاری کریں، دفتر میں قابل احترام باس اور کولیگز کے درمیان آپ کی موجودگی اور عدم موجودگی میں بولے جانے والے جملوں کا فرق جانتی ہیں تو اپ سمجھ سکتی ہیں کہ یہ معاشرہ عورت کی کتنی عزت کرتا ہے….

اگر اپ اس معاشرے کے مردوں کا گند سمیٹتی ہیں، اپنی معاشی ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر تب بھی یہ معاشرہ آپ کو فاحشہ کہے گا، آپ بری سمجھی جائیں گی مگر جو مرد آپ کے پاس تشریف لاتے رہیں گے ان کی شرافت پہ انگلی اٹھانا گناہ سمجھا جائے گا…اسی مرد کو دن کی روشنی میں تمام لوگ جھک کے سلام کریں گے اور یہ سب آپ کو سمجھانے کے لیے کافی ہو گا کہ یہ معاشرہ آپ کی حقیقت میں کتنی عزت کرتا ہے…

اگر خوش قسمتی سے آپ کماؤ جاب کرتی ہیں تو آپ میں اور ایک اے ٹی ایم مشین میں کچھ زیادہ فرق نہ ہو گا۔ جب تک ہڈیوں میں دم ہیں کماتی رہیں گی ورنہ آپ پر جلد ہی اپنے ان عزیز رشتہ داروں کے اس عزت و احترام کی حقیقت کھل جائے گی جو آپ کے لیے آپ کی مالی حیثیت کے سبب قائم تھی – ہو سکتا ہے اس طرح اپنی عزت کو رسوا ہوتے دیکھ کر آپ شدید دکھ میں خود کو مزید اذیت دے بیٹھیں –

ایک عورت کو بازار میں دیکھ کرستر سے اسی فیصد مرد اپنے دماغ، سوچ، زبان،جسم، نظراور ہاتھ قابو میں رکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں…. مگر یہ اس بات کی ہر گز گارنٹی نہیں کہ یہ سب صرف بازار میں ہوتا ہے، آپ کے گھر میں بھی ممکن ہے کہ کوئی ملازم یا رشتے دار اپنی جسمانی بھوک مٹانے کو آپ پر چڑھ دوڑے….

ایک تین یا پانچ سال کی بچی، جو معاشرے کی ہوس کا شکار ہوتی ہے اس کا مسئلہ یہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں…. اس کا مسئلہ وہ ہے جو آپ سمجھنا اور جاننا نہیں چاہتے….

میں جب یہ سطریں لکھ رہی تھی تو مجھے ایرانی شاعر شاہ رخ حیدری کی یہ نظم بار بار یاد آتی رہی جس کا ترجمہ داکٹر مجاہد مرزا نے کیا ہے – نظم کے آخر میں شاعرہم سب سے ایک سوال کرتے ہیں. اس سوال کاجواب اگر کسی کے پاس ہے تو براہ کرم میری مشکل حل کر دے ۔ معصوم شاعر کی بے ساختگی، حسن بیان، اور حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرنے والے اشعار یقینا قابل تعریف ہیں

میں کہ اک شادی شدہ عورت ہوں

میں کہ اک عورت ہوں۔۔۔ ایک ایرانی عورت۔۔۔

رات کے آٹھ بجے ہیں۔۔۔

یہاں خیابان سہروردی شمالی پر۔۔۔

باہر جا رہی ہوں۔۔۔ روٹیاں خریدنے کو۔۔۔

نہ میں سجی بنی ہوں۔۔۔ نہ میرے کپڑے جاذب نظر ہیں۔۔۔

مگر یہاں سرعام۔۔۔

یہ ساتویں گاڑی ہے۔۔۔ مرے پیچھے پڑی ہے۔۔۔

کہتے ہیں، شوہر ہے یانہیں، میرے سنگ سیر کرو۔۔۔

جو بھی چاہو گی تجھے لے دوں گا۔۔۔

یہاں تندورچی ہے۔۔۔

وقت ساڑھے آٹھ ہوا ہے۔۔۔

آٹا گوندھ رہا ہے مگر پتہ نہیں کیوں مجھے دیکھ کر آنکھیں مار رہا ہے۔۔۔

نان دیتے ہوئے اپنا ہاتھ مرے ہاتھ سے مس کر رہا ہے۔۔۔

یہ تہران ہے۔۔۔

سڑک عبور کی تو گاڑی سوار مری طرف آیا۔۔۔

گاڑی سوار قیمت پوچھ رہا ہے۔۔۔ رات کے کتنے؟

میں نہیں جانتی تھی راتوں کی قیمت کیا ہے۔۔۔

یہ ایران ہے۔۔۔

میری ہتھیلیاں نم ہیں۔۔۔ لگتا ہے بول نہیں پاو ¿ں گی۔۔۔

ابھی میری خجالت اور رنج کا پسینہ خشک نہیں ہوا تھا

کہ گھر پہنچ گئی۔۔۔

انجنیئر کو دیکھا۔۔۔ ایک شریف مرد جو دوسری منزل پر

بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔

سلام آقائے مہندس۔۔۔ بیگم ٹھیک ہیں؟ آپ کی پیاری بیٹی ٹھیک ہے؟

والسلام، تم ٹھیک ہو؟ خوش ہو؟ نظر نہیں آتی ہو؟

سچ تو یہ ہے آج رات میرے گھر کوئی نہیں۔۔۔

اگر ممکن ہے تو آ جاو، نیلوفر کا کمپیوٹر ٹھیک کر دو۔۔

بہت گڑ بڑ کرتا ہے۔۔۔ یہ میرا موبائل ہے، آرام سے جتنی بات چاہے کرنا۔۔

میں دل مسوستے ہوئی کہتی ہوں، بہت اچھا۔۔۔ اگر وقت ملا تو ضرور۔۔

یہ سرزمین اسلام ہے۔۔۔

یہ امام رضا اور امام زادوں کی سرزمین ہے۔۔۔

یہاں اسلامی قوانین رائج ہیں۔۔۔ مگر یہاں جنسی مریضوں نے مادہ منویہ بکھیر رکھا ہے۔۔۔

دین، نہ مذہب، نہ قانون…. اور نہ تمارا نام حفاظت کر سکتا ہے۔۔۔

یہ ہے اسلامی جمہوریہ….

 اور میں ایک عورت ہوں

میرا شوہر چاہے تو چار عقد کرے اور چالیس عورتوں سے متع،

میرے بال مجھے جہنم میں لے جائیں گے

اور مردوں کے بدن کا عطر انہیں بہشت میں لے جائے گا

مجھے کوئی عدالت میسر نہیں ہے

اگر میرا مرد طلاق دے تو باغیرت کہلائے

اگر میں طلاق مانگوں تو کہیں:

حد سے گذر گئی، شرم کھو بیٹھی۔۔۔

میری بیٹی کو بیاہ کے لیے میری اجازت درکار نہیں

مگر باپ کی اجازت لازمی ہے۔۔۔

میں دو کام کرتی ہوں، وہ کام سے آتا ہے آرام کرتا ہے

میں کام سے آ کر پھر کام کرتی ہوں اور اسے

سکون فراہم کرنا مرا ہی کام ہے۔۔۔

میں کہ ایک عورت ہوں۔۔۔

مرد کو حق ہے کہ مجھے دیکھیں، مگر غلطی سے اگر

مرد پر مری نگاہ پڑ جائے

تو میں آوارہ اور کثیف خیال کہلاو ں۔۔۔

میں ایک عورت ہوں، اپنے تمام محدود پن کے بعد بھی عورت ہوں۔۔۔

کیا مری پیدائش میں کوئی غلطی تھی؟

یا وہ مقام غلط تھا جہاں میں بڑی ہوئی۔۔۔

میرا جسم، میرا بدن، میرا وجود

ایک اعلٰی لباس والے مرد کی سوچ اور عربی زبان کے چند فقروں کے نام بیع ہے

اپنی کتاب بدل ڈالوں یا سرزمین کے مردوں کی سوچ۔۔۔

یا کمرے کے کونے میں محبوس رہوں۔۔

میں نہیں جانتی

میں نہیں جانتی کہ کیا میں دنیا میں برے مقام پر پیداہوئی ہوں،

یا برے موقعے پر پیدا ہوئی ہوں ….


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “کیا عورت ہونا جرم ہے؟

  • 11-02-2017 at 10:39 pm
    Permalink

    we all know that Muslim men from our society defend to their death shareef women. I have never found any women who is modestly dressed, observes genuine parda, and subscribes to islmic value system ever harrasses by men…It is only the westoxicated liberaloons secularoons and murtadoons wheather men or women who behave in such vulgar ways emulating the SUNNAT of their western masters. Women who are subject to vulgar remarks by the awaam (read: non-westoxicated types) deserve this becaus ethese women are trying through their style and actg in western “values” into the Islamic fabric of Pakistan. That Irani’s poem is also by a westoxicated anti-mulla anti-Islam Iran. Shareef Irani women are all praise for their men and their Mullaas. This third rate poet is reall missing the hedonistic times of the drunkard debaushed adultery days of the pre-Islamic Pre-Khomeini days. Pakistanis must uproot such kind of budding thoin Pakistan. HUMSUB is trying to do that it its own nefarious ugly westernised way.

Comments are closed.