طیبہ تشدد کیس؛ بچی کے باپ نے جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا


\"\"

 ایڈیشنل سیشن اسلام آباد جج راجا آصف محمود کی عدالت میں طیبہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ بچی کے والدین کون ہیں، جس پر طیبہ کے باپ اعظم نے کہا کہ میں بچی کا باپ ہوں اور بچی کی ماں علیل ہے۔ عدالت نے اعظم سے استفسار کیا کہ کیا وہ بیان دینا چاہتے ہیں جس پراعظم نے کہا کہ میں نے ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا ہے۔

والد کا بیان سن کر عدالت نے استفسار کیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، عدالت آپ کا تحفظ کرے گی، آپ پہلے بھی بیان دے کر مکر گئےتھے جس پراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دباؤ میں آگیا تھا جب کہ یہ مقدمہ ہی بے بنیاد ہے اور میں ہوش و حواس میں راجا خرم اوران کی اہلیہ کومعاف کرتا ہوں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ تحریری طور پر دیں جو کچھ کہنا ہے جس پر اعظم نے کہا کہ تحریری طور پر بھی مقدمے سے دست برداری لکھ کردیتا ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کی ضمانت کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ، مدعی بیان حلفی جمع کروائیں تب ضمانت پر فیصلہ دیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔