ایک نادان لڑکی، غیرت مند گھرانہ اور چار گولیاں


\"\" میں نے بہت کوشش کی ہے کہ میں اس تصویر کو نہ دیکھو جو اس وقت میرے کمپیوٹر کی سکرین پر موجود ہے اور مجھ سے ایک ہی سوال کر رہی ہے کہ میرا جرم کیا تھا۔ میرا کیا گناہ تھا۔ میرا گناہ ایک عورت ہونا تھا یا تعلیم ہونا اور یا پھرزندگی کے کٹھن سفر پر سر نہ جھکانا ہی میرا گناہ تھا۔ یہ تصویر 6 جنوری کو کوہاٹ میں اپنے ”غیرت مند“، ”اعلیٰ تعلیم یافتہ“ چچا زاد کزن کے ہاتھوں قتل ہونے والی حنا شاہنواز کی ہے۔ آج صبح جب میں نے خون آلودہ چہرہ دیکھا اور ساتھ میں ایک ہنستا مسکراتا زندگی سے بھرپور مسکراتا چہرہ دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ چہرہ مجھ سے کچھ پوچھ رہا ہے۔ پوچھ رہا ہے کہ اس کا گناہ کیا تھا۔ پہلے پہل تو میں نے اس کو دوسرے فیس بک، ٹوئیٹر طفیلیوں اور ہمارے معاشرے کے اکثر بے حس لوگوں کی طرح ٹالنا چاہا۔ یو ٹیوب چلا کر کچھ دل بہلانے کی کوشش کی تو اس کا چہرہ سامنے آگیا۔ میں نے فیس بک میں دل جمانے کی کوشش کی تو اس کا خون آلودہ چہرہ سامنے گیا۔ میں نے ٹوئیٹر پر جا کر کچھ دل لگایا تو وہاں بھی وہ موضوع سخن تھی۔ استغفر اللہ۔ یہ سوچ کر میں نے اس کا بائیو ڈیٹا سرچ کیا تو ساری تفصیلات سامنے آ گئی۔

حنا شاہنواز ایک نادان لڑکی تھی۔ ایک بے وقوف اور ناتواں۔ اس کے جرائم کیا تھے۔۔۔ اس کا پہلا جرم کہ وہ پاکستان میں میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کا دوسرا جرم اس کا لڑکی ہونا تھا۔ اس کا تیسرا جرم اس کی تعلیم تھی۔ چوتھا جرم اس کا ایم فل تھا۔ پانچواں جرم اس کی پی ایچ ڈی کےلئے تیاری تھی۔ چھٹا جرم اس کا کٹھن حوصلہ تھا جو کبھی نہیں ٹوٹا۔ جو اس وقت نہ ٹوٹا جب اس نے اپنے والد کے کینسر کی بیماری کی خبر سنی۔ اس وقت بھی نہیں جب اس نے والد کی بیماری کا بوجھ اٹھایا۔ اس وقت بھی نہیں جب اس کے والد کا انتقال ہوا۔ اس وقت بھی نہیں جب اس کے بھائی کا قتل ہوا۔ اس وقت بھی نہیں جب اس کے بھائی کی بیوہ اور دو بچوں کی ذمہ داری اس کے ناتواں کندھوں پر آگئی تھی۔ اس وقت بھی نہیں جب اس کی بہن بیوہ ہوئی۔ اس وقت بھی نہیں جب اس کی بہن کی ذمہ داری بھی اس کو اٹھانی پڑی۔ اس کے پاس کیا تھا۔ کچھ بھی نہیں تھا کچھ تھا تو صرف ایک حوصلہ ہی تھا جس کے بل پر وہ ڈٹی رہی اور کھڑی رہی اور عورتوں کے لئے ڈٹے رہنا کتنا مشکل اور کٹھن ہے، میں اس کو اچھی طرح سے سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میری بڑی بہن نے جب آرمی جوائن کی تھی تو ہمیں بھی کئی ساری ایسی باتیں سننے کو ملی تھیں۔ ایسے میں حنا شاہنواز کا تعلیم حاصل کرنا تو اس کے خاندان کے غیرت مندوں نے بڑی مشکل سے ہضم کیا ہوا تھا مگر اس کے ساتھ اس نے نوکری کر لی۔ استغفر اللہ۔ ایک عورت اور ایسی بے غیرتی۔ اس کا تو یہی انجام ہی ہونا تھا۔ ایک غیرت مند مرد بھلا کب یہ برداشت کر سکتا ہے۔ سونے پر سہاگا جب ایسی عورت جو غیرت مند کی پاﺅں کی جوتی بننے سے انکار کر دے۔ اس کا رشتہ بھی ٹھکرا دے۔

تمام غیر ت مند اس وقت بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے جب حنا شاہنواز اکیلی لڑکی ہو کر اپنی زندگی کی جدوجہد کر رہی تھی۔ اس وقت اس کے چچا کی غیرت بھی اور اس کے چچا زاد کی غیرت بھی منہ لپیٹے سو رہی تھی جب وہ اکیلی سارے خاندان کی کفیل تھی۔ اس کا انجام یہی ہونا چاہیے تھا۔ کیا ملا حنا شاہنواز کو تعلیم حاصل کر کے۔ کیا ملا ایم فل کر کے۔ کیا ملا اس کو پی ایچ ڈی کی تیاری کر کے۔ کیا ملا اس کو سارے خاندان کا سہارا بن کے۔ کیا ملا اس کو۔ چار گولیاں اور موت۔

بہت نادان لڑکی تھی۔ بے وقوف بھی تھی۔ اس کو چاہیے تھا کہ جیسے ہی اس کو اس کے چچا زاد نے طلب کیا تھا وہ سر کے بل چل کر جاتی۔ غیرت مند محبوب عالم نے جب اس کو کہا کہ تم نوکری چھوڑ دو اس سے ہماری بدنامی ہو رہی ہے تو اس کو چاہیے تھا کہ وہ اس کے قدموں کو ہاتھ لگاتی اور کہتی جو حکم جاہ پناہ، میں تو آپ کے حرم کی باندی ہوں۔ آپ ہی کا تو ترکہ ہوں۔ جیسے آپ کی مرضی۔ مگر نکلی ناں وہی آدھی گواہی والی۔ ناقص العقل، پھر اس نے کی نا چھوٹی بات کہ میں کیسے نوکری چھوڑ سکتی ہوں۔ اس سے تو میں گھر چلا رہی ہوں۔ تو محبوب عالم نے جب اس کے سینے میں چار گولیاں اتاریں اور بولا کہ ایسے چھوڑو گی نوکری۔ ابھی تم کو کیا ملا حنا شاہنواز۔ نہ نوکری رہی اور نہ ہی زندگی۔ اب کیا کرو گی۔ اب تم بیٹھ کر دیکھو کہ تمہاری اس موت پر ہمارے غیرت مندحکمران جب انہیں فیتے کاٹنے، پانامہ کا دفاع کرنے اور ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملے کرنے سے فرصت ملے گی تو وہ خوب گرجیں گے۔ مذمت بھی ہو گی۔ ٹوئیٹر اور فیس بک پر تو خاصی ریٹنگ تو اپنی دیکھ چکی ہو۔ الیکٹرانک میڈیا بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے گا۔ ایک ہفتہ، دس دن تک خوب لے دے ہو گی۔ مگر پھر اس کے بعد تم سکون سے بیٹھ کر دیکھو کہ محبوب عالم اور تمہارا چچا کس طرح آرام سے بیٹھ کر تمہارے والد کی جائیداد کے کھائیں گے۔ عیاشی کریں گے۔ بزنس کریں گے، پیسے بنائیں گے، باہر کے چکر بھی لگائیں گے۔ زندگی سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔ ہر ایک چیز اپنی جگہ پر واپس آجائے گی۔ نہیں ہو گی تو صرف تم نہیں ہو گی۔ سب تمہیں بھول بھال کر اپنے اپنے مسائل میں غرق ہو جائیں گے۔ اگر تم چپ چاپ اپنے غیرت مند چچا زاد کی بات مان لیتی اور اس کی باندی بن جاتیں تو دیکھو کم از کم زندگی میں تو چار گولیاں تو کھانے سے بچ جاتیں۔

تھی ناں آخر نادان لڑکی ….خواہ مخواہ میں چار گولیاں ضائع کروا دیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آصف رضا بلوچ کی دیگر تحریریں
آصف رضا بلوچ کی دیگر تحریریں