مذہبی ذہن کا نفسیاتی تجزیہ – خورشید ندیم کی خصوصی تحریر


\"\"ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا ایک اہم تجزیہ نظر سے گزرا۔ ’ہم سب‘ کے مدیر اور معاون ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ایسا فورم فراہم کیا جہاں متنوع موضوعات پر متنوع پہلووں سے بات ہو سکتی ہے۔

انسانی نفسیات کے باب میں میری معلومات سطحی ہیں۔ مذہب کا البتہ میں کم وبیش تین عشروں سے طالب علم ہوں۔ مجھے خیال ہوا کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے عالمانہ تجزیے کے ساتھ، میری چند گزارشات شامل ہو جائیں تو شاید یہ بحث ایک مثبت سمت میں آگے بڑھے۔ میں اپنی بات چند نکات کی صورت میں بیان کر رہا ہوں۔

1۔ مذہبی تجربہ، فلسفے کا موضوع رہا ہے اور نفسیات کا بھی۔ علامہ اقبال کا ایک پورا خطبہ مذہبی تجربے کو عصری منہجِ علم کے پیرائے میں بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ اس میں کتنے کامیاب رہے ہیں، اس پر اہلِ علم گفتگو کرتے رہے ہیں۔ اس باب میں پیغمبرانہ تجربے اور ایک صوفی کے تجربے میں جو فرق ہے، اسے سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرجاوید اقبال نے اسی لیے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اقبال نے’مذہبی تجربہ‘ کیوں کہا’روحانی تجربہ‘ کیوں نہیں کہا؟

2۔ مذہب اصلاً ایک ما بعد الطبیعیاتی معاملہ ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز فرد کا اخلاقی وجود ہے۔ وہ اگراس کے مادی وجود سے مخاطب ہوتا ہے تو اسی راستے سے۔ اب اخلاقی وجود کا مرکز کیا ہے؟ یہ علمِ نفسیات کا موضوع رہا ہے اور ساتھ ہی مذہب کا بھی۔ روح، نفس،وجدان وغیرہ کی بحث اس کی گواہ ہے۔ نفسیات بھی، اصلاً مابعدالطبعیاتی اساس رکھتا ہے۔ یوں ایک دائرے میں مذہب اور اس کی دلچسپی کا میدان مشترک ہو جاتا ہے۔

3۔ صوفی کا میدان مذہب نہیں، نفسیات ہے۔ وہ انسان کو اسی حوالے سے اپنا مخاطب بناتا ہے۔ صوفی کا تعلق جس مذہب سے ہوتا ہے، وہ اسی کی پیرائے میں اپنی بات کہتا ہے۔ ایک کامیاب صوفی کے لیے لازم ہے کہ وہ ماہرِ نفسیات ہو۔ وہ فرد کے نفسیاتی مسائل سے اس کی ذات تک رسائی حاصل کر تا اور یوں اس کو اپنے حلقہ ءاثر میں لا تا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے مولانا اشرف علی تھانوی کے کام پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔

جدید صوفیوں کے جو حلقے وجود میں آئے، میرے علم کی حد تک ان کے متاثرین میں سے غالب اکثریت کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔ سب سے بڑا عارضہ یہ ہے کہ ایک شخص دنیا داری میں حرام و حلال کی تمیز سے اٹھ گیا ہے۔ تاہم اپنے سماجی پس منظر کے باعث وہ اس رویے پر غیر مطمئن اور ایک خلش میں مبتلا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کیے بغیر، اس کیفیت سے نکل آئے۔ اس کے ساتھ اس کی یہ بھی خواہش ہے کہ کسی روحانی طریقے سے دنیاوی ترقی کے درجات بھی تیزی کے ساتھ طے کرتا جائے۔ صوفی اس باب میں اس کی مدد کرتا ہے۔ وہ اسے ایک وظیفہ یا کوئی ایسا عمل بتا دیتا ہے جس سے اسے یہ خیال ہونے لگتا ہے کہ اس نے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا اور اسے ترقی بھی مل جائے گی۔ یہ عمل بعض اوقات یہیں رک جاتا ہے اور بعض اوقات کسی شعوری تبدیلی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

4۔ یہ کام مذہبی مبلغین اور جہادی بھی کرتے ہیں۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں نکلنے سے تین کروڑ حج کا ثواب ملتا ہے۔ یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے انسان ویسا پاک صاف ہو جا تا ہے جیسے وہ پیدائش کے وقت تھا۔ ان مقدمات کے لیے مذہب کے ماخذات میں کوئی نہ کوئی اساس تلاش کر لی جاتی ہے، اکثر سیاق وسباق سے ہٹا کر۔ یہ لوگ ان مذہبی تعلیمات کا اطلاق اپنی جماعت پر کرتے اور یوں لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی حد تک انسان کی نفسیاتی تسکین کا سامان ہو جا تا ہے۔ ایسی تمام ترغیبات میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو درست قرار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی جہادی سے تبلیغی جماعت کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ اسے جہاد کے راستے سے ہٹانے کی ایک سازش قرار دے گا۔ یہ انسان کی اپنی افتادِ طبع ہے جو اسے تبلیغی جماعت کا حصہ بنادیتی ہے یا جہادی تنظیم کا۔

5۔ ڈاکٹرخالد سہیل صاحب نے جنید جمشید مرحوم سمیت، مشہور لوگوں کی جس طرح نفسیاتی تحلیل کی ہے ،مجھے اس سے بڑی حد تک اتفاق ہے۔ ہم سب اپنے ارد گرد اس طرح کے بہت سے افراد کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنے نفسیاتی مسائل کا حل مذہب میں تلاش کرتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب انہیں کسی نفسیاتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی مذہبی گروہ یا شخصیت ان کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مذہب کا کون سا روپ ان کے سامنے ہے۔ یہ تبلیغی جماعت ہو سکتی ہے۔ کوئی صوفی ہو سکتا ہے اور کوئی دہشت گرد یا فرقہ پرست تنظیم بھی۔

6۔ مذہب کے یہ مظاہر انسانی معاشرے میں ہمیشہ رہے ہیں۔ تاہم ان مظاہر کو اگر مذہب کا حقیقی ترجمان قرار دے کر، مذہب کو ان پر قیاس کیا جائے تو میرا خیال ہے یہ درست تجزیہ نہیں ہو گا۔ مثال کے طور پر مولانا طارق جمیل نے اگر جنید جمشید کو موسیقی سے دور کیا تو اس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں۔ یہ مولانا کااپنا تصورِ مذہب ہے۔ اگر جنید جمشید مجھ سے ملتے تو میں انہیں بتاتا کہ جمالیات سے تعلق، اﷲ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ میں ان سے کہتا کہ جو موسیقی کے رموز کو جانتا ہے ،اس کے لیے اﷲ تعالیٰ کو جاننا اور اس کے کلام کو سمجھنا کتنا آسان ہے۔ میں انہیں کہتا کہ وہ زبور پڑھیں اور پھر میں قرآن مجید کے بارے میں بتاتا۔ میں ان پر واضح کرتا کہ اﷲ کے رسولﷺ کا جمالیاتی ذوق کیسا تھا اور کیسے ان کی شخصیت جمالیاتی حسن کا شاہکار تھی۔ میں ان کے احساسِ گناہ کو احساسِ نعمت میں بدل دیتا۔

مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک دفعہ مجھے عامر خان کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کی روداد سنائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آپ سے صرف ایک درخواست کروں گا۔ آپ عامر خان کو فلموں میں کام کرنے سے نہ روکیے گا۔ دنیا ایک بڑے خیر سے محروم ہوجائے گی۔

میں جمشید سے یہ بات کیوں کہتا؟ موسیقی سمیت سب فنونِ لطیفہ انسان کے اندر لطیف جذبات پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا احساس بہت لطیف احساس ہے۔ یہ رحمت وکرم اور قدرت کا ایسا منفرد امتزاج ہے کہ ایک لطیف نفس ہی اس کو محسوس کر سکتا ہے۔ (اس سے عبادت کا جو ذدق جنم لیتا ہے،وہ کتنا فطری،حقیقی اور شعوری ہے،یہ اس وقت میراموضوع نہیں۔ ورنہ میں عرض کرتا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ شعوری احساس کیوں عبادت کا لازم کر دیتا ہے اور اِس میں چھپی لذت کیا ہے۔ ) فنونِ لطیفہ انسان کو مادے کے پیچ وخم سے نکال کر ایک غیر مرئی اور مگر حقیقی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ انسان نغمے کی لے میں چھپی لطافت کو محسوس کرتا ہے تو اُس پر وجد طاری ہوتا ہے۔ یہ وجد غیر مرئی ہے لیکن اس کے وجود سے انکار محال ہے۔ احساس کی یہی قوت جب لطیف تر ہوتی ہے تو انسان خدا کو محسوس کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔ یوں فنونِ لطیفہ خدا شناسی میں حائل نہیں ہوتے، معاون ہوتے ہیں۔

7۔ مذہب کی تعلیمات کا مرکز وحی ہے اور وحی کا ماخذ اﷲ کے رسول ہیں۔ پیغمبروں کی تعلیمات میں انسان، اخلاق اور نفسیاتی وجود ہی زیرِ بحث ہیں۔ وہ انسان کے اخلاقی وجود کی تطہیر کو اپنا مشن قرار دیتے ہیں۔ ان کے پیشِ نظر ایک ایسے انسان کی تعمیر ہے جس کے اخلاقی وجود کا تزکیہ ہو چکا ہو۔ وہی صحیح معنوں میں اپنے رب کا بندہ ہوتا ہے۔ وہ سراپا خیر ہوتا ہے۔ ایسی شخصیت کی تعمیرمسلسل محنت اور ریاضت سے ہوتی ہے۔ انسان کو یہ تعمیر معاشرے کے ایک فعال کرداربن کر کرنی ہے۔ اسے سماج میں حسن اور خیر کی علامت بننا ہے۔ میں نہیں جان سکتا کہ جمالیات اور اس کے مظاہر، جنہیں ہم فنونِ لطیفہ کہتے ہیں، ان کی نفی کرکے، کوئی کیسے حسن کی علامت بن سکتا ہے؟ میرے نزدیک بے رحمی،ظلم، درندگی اوروحشت اسی وقت کسی مذہبی تعلیم یا کلچر کا حصہ بنتے ہیں جب مذہب کی تعلیم یا سماجی ڈھانچہ حسِ لطافت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حسِ لطافت سے محرومی کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان اس صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے جو اسے خدا کی پہچان کراتی ہے۔

8۔ مذہب انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔ کہیں اس کے برعکس کوئی مثال ہمارے سامنے آتی ہے تو اس کی ذمہ داری مذہب پر نہیں، تفہیمِ مذہب پر ہے جو نظرثانی کا مستحق ہے۔ ظاہر ہے کہ نظرثانی کا یہ کام مذہب کے ماخذ کی روشنی میں ہو گا۔

9۔ مسلم سماج کی تہذیبی روایت پر ایک دور میں فقہ اور ایک عہد میں تصوف کا غلبہ رہا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے نقائص کا حل پیش کرنا چاہے۔ اس سے خلطِ مبحث پیدا ہوا اور افراط و تفریط بھی۔ یہ واقعہ ہے کہ مسلم معاشرے میں پیدا ہونے والی اعلیٰ ترین ذہانتوں نے بالآخر تصوف میں پناہ لی۔ ابنِ عربی، امام غزالی، شاہ ولی اﷲ اور علامہ اقبال سمیت بہت سے لوگوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں۔ اس کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ عدم توازن کیوں وجود میں آیا؟ ورنہ مذہب، قانون، جمالیات اور نفسیاتی یا مذہبی لغت میں روحانی تجربات کے لیے وہ راہنمائی دیتا ہے، جس سے انسان کی تخلیقی قوت کو جلا ملتی ہے۔ وہ افراط وتفریط سے بچ سکتا ہے۔ قانون انسانی معاشرے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ اس کے اخلاقی وجود کو بھی ارتقا سے گزرنا ہے۔ اس میں حسنِ توازن کے لیے پیغمبروں کی طرف رجوع کرنی کی ضرورت ہوتی ہے۔

10۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے مضمون سے یہ غلط فہمی جنم لے سکتی ہے کہ مذہب فی نفسہ انسان کی تخلیقی قوت کے لیے پیغامِ موت ہے۔ بعض تبصروں سے اندازہ ہوا کہ کچھ پڑھنے والوں نے یہی سمجھا۔ یا یہ کہ مذہب ایک سراب ہے ،جونفسیاتی عوارض میں مبتلا لوگوں کے لیے جائے پناہ ہے۔ میرا کہنا ہے کہ مذہب کا ماخذ پیغمبر اورآسمانی الہام ہے۔ مولانا طارق جمیل جیسے لوگ میرے لیے بہت محترم ہیں، لیکن ان سمیت، کوئی عالم یا سکالر فی نفسہ دین کے ماخذ بہرحال نہیں ہیں۔ مذہب کا معاملہ وہ نہیں جو ڈاکٹرخالد سہیل صاحب کے مضمون سے معلوم ہو تا ہے۔ مذہب فرد کے عقلی، فکری اور تہذیبی ارتقا میں نہ صرف معاون بلکہ اس کا حقیقی راہنما ہے۔ شرط یہ ہے کہ اسے پیغمبروں سے جانا جائے۔ ڈاکٹر صاحب کے تجزیے میں اگر اس فرق کو پیشِ نظر رکھا جائے تو میرا خیال ہے ان کے مضمون سے دوسرے حصے سے اتفاق کیا جا سکتا ہے جس کا تعلق افراد کی تحلیلِ نفسی سے ہے۔

ہمیں بہر حال ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے یہ موقع فراہم کیا کہ ہم اپنے قائم شدہ مذہبی تصورات پر نظر ثانی کریں اور انہیں دیگر علوم کے ماہرین کی محنت سے دریافت ہونے والے علمی نکات کی روشن میں میں سمجھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “مذہبی ذہن کا نفسیاتی تجزیہ – خورشید ندیم کی خصوصی تحریر

  • 10-02-2017 at 8:59 pm
    Permalink

    Dear Khursheed Nadeem sahib, I would like to thank you for finding my essay worthy of your scholarly reflections.I feel honored. Peacefully, Dr Khalid Sohail

  • 10-02-2017 at 11:06 pm
    Permalink

    Thank you Dr Sohail sb. Your article inspired me to write this piece.I Think such healthy debate should be encouraged. Khurshid Nadeem

  • 12-02-2017 at 10:59 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے بلخصوص پاکستان جیسے ملک میں بیٹھ کر اتنی جرأت کا اظہار۔ یہ بات درست ہے کہ مذہب کی ضرورت انسانی فطرت میں موجود ہے اور بسا اوقات انسان کو جو چیز پہلے نظر آتی ہے اسی کو درست مان کر اسکی پیروی شروع کردیتا ہے لیکن بدقسمتی سے پھر خود کو درست سمجھ کر دوسروں کو غلط خیال کرنے لگتاہےاور اسکا بس نہیں چلتا کہ کسطرح دوسروں کو اپنا پیرو بنائے۔ حقیقی اولیاء نے تو زندگی کا ایک بیشتر حصہ ریاضت اور عبادت میں گذار کر خدا کو پایا اور پھر جب تک اِذن نہ ہوا دوسروں کی اصلاح کا بیڑا نہ اُٹھایا لیکن ہمارے ہاں تو چار احادیث اور ایک آدھ کتاب پڑھ کر لوگ اوریاجان مقبول جیسے مصلح بن جاتے ہیں۔

Comments are closed.