10 فروری 1846ء: جب کشمیر کا پہلی بار سودا ہوا


\"\" جیسے اپنی من پسندیدہ چیز کے دل سے اُتر جانے والا کوئی شخص، پھراپنے زندہ رہنے کی خاطر کسی اور کے دل میں جگہ بنانے کیلئے متحرک ہو جاتا ہے، 17ویں صدی میں بالکل ایسے ہی انگریز بھی، ولندیزیوں کی جانب سے جزائر شرق الہند سے نکالے جانے کے بعد، اُس زمانے میں سونے کی چڑیا کہلاتے ہندوستان پہ اپنی تمام ترتوجہ مرکوز کرنے پر بالآخر مجبور ہو گئے تھے!۔ ۔

ولندیزیوں کے دل سے اُترنے کے بعد، 1623ء میں انگریز جب مکمل طور پر جزائر شرق الہند سے نکال دیئے گئے، تووقت کی اِسی نزاکت کو قبل از وقت ہی بھانپتے ہوئے عیار انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے کا پروانہ حاصل کر چکی تھی۔ اوراِس سے قبل اِس کمپنی کا سفیرسر تھامس رو ہندوستان کے بادشاہ جہانگیر کے دل میں صرف چند ہی برس کے اندراتنی جگہ بنا چکا تھا کہ سورت کے مقام پر پہلی تجارتی کوٹھی قائم کرنے کی کامیابی نے جزائرشرق الہند سے نکالے جانے کا زخم جلد ہی بھر دیا۔۔ دراصل، یہ ایسٹ انڈیا کمپنی مشرقی ملکوں کے ساتھ تجارت کرنیوالی سلطنت برطانیہ کی کمپنی تھی۔ یہ دنیا کی پہلی لمیٹڈ کمپنی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اگرچہ ایک تجارتی کمپنی تھی، ڈھائی لاکھ سپاہیوں کی یہ مگرذاتی فوج بھی رکھتی تھی۔ جہاں تجارت سے منافع ممکن نہ ہوتا وہاں 250000 فوج اِسے ممکن بنا دیتی۔ کمپنی کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72000 پاونڈ کے سرمائے سے شروع کی گئی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 2690 جہاز تھے۔ 1600ء میں ہندوستان اور چین کی معیشت یورپ کی معیشت سے دوگنی تھی۔ 1874ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ ہوا اس وقت یورپ کی معیشت ہندوستان اور چین کی معیشت کا دگنا ہو چکی تھی۔ اس کمپنی نے ساری دولت لوٹ کر انڈیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے دو حربے استعمال کئے تھے۔ پہلا یہ کہ فیصلہ کرنے والوں کو رشوت سے قابو کرو اور دوسرا یہ کہ عوام کو تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ (1857ء کی جنگ آزادی کے بعد 1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ 2010ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت سنجیو مہتا نے خرید لیا تھا)۔

\"\"

ہندوستان کے بادشاہ جہانگیر کے دل میں جگہ بنانے کے بعد 1689ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے علاقائی تسخیر کی کوششیں شروع کیں۔ اِس 257 سالہ عرصے کی، 1600ء سے لے کر جنگ آزادی 1857ء تک، ایک دردناک تاریخ ہے…. اِسی درد ناک تاریخ میں ایک داستان 1846ء میں انگریزوں کے ہاتھوں پہلی مرتبہ کشمیر کے سودے سے تعلق رکھتی ہے۔ انگریزوں نے کشمیر کا سودا دوسری جنگ عظیم ہارنے کے بعد اپنے قبضے سے ہندوستان کو آزادی دینے کے وقت صرف 1947ء میں ہی نہیں کیا تھا، وہ پہلی بار اِس کا سودا 75 لاکھ روپے کے عوض آج  10 فروری کے دن 1846ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور پنجاب کی سکھ حکومت کے درمیان ہونے والی لڑائی میں سکھوں کی بدترین ہار کے بعد بھی کر چکے تھے۔ اِسی ہار کے نتیجے کے طور پر پنجاب میں سکھ راج 31مارچ 1849ء کومکمل طور پر ختم ہوگیا اور 10 فروری 1846ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے ستلج پار کر کے پنجاب کو بھی فتح کرتے ہوئے پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا تھا۔

1845ء کے ہندوستان میں ستلج کے اُس پار برطانیہ کی حکومت تھی ، تو ستلج کے اِس پار پنجاب میں سکھ راج قائم تھا۔ 1799ء سے 1849ء تک سکھ راج کے چار صوبے تھے۔ لاہور ، ملتان ، پشاور اور کشمیر۔ 27جون 1839ء کومہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اِن کا سب سے بڑا افیون کا رسیا بیٹا مہاراجہ کھڑک سنگھ حکمران بنا تو اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے صرف ایک سال ہی کے اندر پنجاب کے سکھ دربار میں ان کے خلاف سازشیں عروج پر پہنچ گئیں۔ ایک طرف مہاراجہ کھڑک سنگھ کے اقتدار کی ہوس کے شکار بھائی اِنہیں اِن ہی کی بیوی چاند کور اور ان ہی کے بیٹے نونہال سنگھ کے ہاتھوں موت کے انجام تک پہنچانے کیلئے سرگرم ہونے لگے تو دوسری طرف ستلج کے اُس پار قائم ایسٹ انڈیا کی حکومت اس تمام تر صورت حال سے بے خبر نہیں تھی۔ بلکہ وہ سکھوں کی اِس ساری چپقلش سے فائدہ اُٹھانے اور پنجاب کو بھی اپنی سلطنت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر چکی تھی!۔\"\"

5 اکتوبر 1839ء کی رات جب کھڑک سنگھ اپنی راجدھانی لاہور کی خواب گاہ میں سو رہا تھا تو دھیان سنگھ، اس کے بھائی سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ، اس کا بیٹا ہیرا سنگھ، لال سنگھ شیش محل میں داخل ہوئے۔ بدقسمت کھڑک سنگھ نے مزاحمت کی مگر اِن کی چہیتی بیوی مہارانی چاند کور اوربیٹے نونہال سنگھ نے کنیزوں کے ساتھ مل کر انہیں بے بس کردیا! اور پھرگرفتار کر لیا گیا۔ کھڑک سنگھ معزول ہونے کے بعد 10ماہ تک زندہ رہا۔ اورآخر زہر خوانی کے ذریعے مہاراجہ کھڑک 5 نومبر1840ء کو اپنوں ہی کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا!۔ مہاراجہ کی وفات کی خبر کا باقاعدہ اعلان قلعہ لاہور میں توپیں چلا کر کیا گیا۔ مہاراجہ کھڑک سنگھ کی چتا میں دو بیواؤں اور سات کنیزوں نے ستی ہونا قبول کیاتھا!۔

 5 نومبر 1840ء کولاہور میں ایک طرف مہاراجہ کھڑک سنگھ کو زہر دے کر مار دیا گیا تودوسری طرف ان کی قاتلہ رانی چندکوراب پنجاب کاراج سنبھال کے راج کماری بن گئی تھی۔ اور یہی وہ وقت تھا جب ستلج کے اُس پار قائم برٹش راج کے دل میں پنجاب پر قبضہ کرنے کیلئے ہل چل ہونے لگی۔ اور اُن کی یہ خواہش اُس وقت پوری ہوئی جب مہاراجہ شیر سنگھ کے قتل کے بعد امرائے سلطنت،وزیراعظم ہیرا سنگھ ،پنڈت جلا ،سردار لال سنگھ نے باہمی مشاورت سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سب سے چھوٹے بیٹے کنور دلیپ سنگھ کو، جس کی عمر صرف 5سال اور 11دن تھی، تخت لاہور پر لابٹھایا۔ یہ ایک کٹھن دورتھا۔ کہا جاتا ہے کہ لال سنگھ نے، جو انگریزوں کےساتھ ملا ہوا تھا ، یہ فیصلہ جان کر کیا تاکہ انگریزوں کو پنجاب پر حملہ کرنے میں آسانی ہو…. اور پھر ایسا ہی ہوا….

15ستمبر 1843ء کو تخت نشین ہونے والا پنجاب کا 5 سالہ مہاراجہ دلیپ سنگھ ستلج کے اُس پار قائم انگریزراج کے لئے راحت جاں ثابت ہوا! 2 ہی سال بعد لال سنگھ نے ستمبر 1845ء میں خود کو سکھ راج کا پردھان منتری بنوا لیا اور انگریزوں اور سکھوں کے درمیان آخری فیصلہ کن جنگ کا باعث بننے والی وہ لڑائی 18دسمبر 1845ء کوآخرکار شروع ہوگئی، جس میں انگریزوں کی فیصلہ کن جیت کیلئے لال سنگھ نے خود کو پردھان منتری بنوایا تھا اور جس کے بعد انگریزوں نے کشمیر کا بھی پہلی بار سودا کر دیا تھا!۔ دراصل، 18 دسمبر کو \"\"

انگریزوں اور سکھوں کے درمیان پہلی جنگ ، ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت اور سکھ راج کے مہاراجہ دلیپ سنگھ کے درمیان نہیں ہوئی تھی، یہ توایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج اور برطانوی فوج کی براہ راست سکھ فوج کے ساتھ جنگ تھی، جس کی نگرانی لندن سے برطانوی حکومت بذات خود کر رہی تھی۔ بے شک اِس جنگ کا بنیادی آغاز مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد پنجاب کے سکھ راج میں سکھوں کے درمیان اقتدار کی وجہ سے گڑبڑ پھیلنے کے سبب ہی ہوا تھا، اِس جنگ کی اصل وجہ مگرسردیوں کی ایک یخ بستہ رات دسمبر 1845ء کو لاہور میں پھیلائی گئی وہ سازش بنی جس میں کہا گیا تھا کہ” مہاراجہ دلیپ سنگھ نے انگریزوں کے ساتھ ہاتھ ملا لئے ہیں“۔ ۔ اور یہ سازش بھی انگریزوں نے پھیلائی تھی تاکہ سکھ فوج جذبات میں آکر اُن پر حملہ کر دے۔ ۔ اور پھر ایسا ہی تو ہوا تھا۔ ۔ سکھ فوج جس کو خالصہ فوج کہا جاتا تھا، وہ انگریزوں کے بھڑکاﺅ میں آکراور انگریزوں کی سامراجی سکیمیں دیکھ کر ستلج پار کے انگریزی راج پر حملہ کر بیٹھی تھی۔ اب 5 سالہ اور 11 دن کے بچے کو پنجاب کا مہاراجہ بنانے والے لال سنگھ کا کردار بھی کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ سکھ فوج آج 10 فروری کے دن 1846کو سبھراﺅں کے مقام پرلڑائی کیلئے 30ہزار فوج 70 توپوں کے ہمراہ بیڑیاں کا پل کراس کر کے دریائے ستلج کے پار لڑائی کے لئے آگئی۔ بے شک سکھ فوج میں اپنے پردھان منتری لال سنگھ اورکمانڈران چیف تیز سنگھ کی غداری کے باوجود اب بھی حوصلہ تھا۔ لاہور دربار میں مگرانگریزوں کی راجا گلاب سنگھ کے ساتھ مل کر سکھ فوج کو تباہ کرنے کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔

انگریزوں نے راجا گلاب سنگھ کو، جو لاہور کی سکھ ریاست کا ایک بارسوخ درباری اورمہاراجہ رنجیت سنگھ کا منظور نظرجموں و کشمیر کا پہلا مہاراجہ تھا، لیکن یہ اِس سکھ انگریز جنگ میں سکھوں سے غداری کرتے ہوئے لدھیانہ کے بریگیڈیئر وہلر کو خفیہ فوجی معلومات دے رہا تھا، اِس کو جموں سے بلا کر لاہور دربار کے ساتھ ایک گپت سمجھوتہ کروا لیا۔ اورساتھ ہی ساتھ سکھ فوج کو ختم کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا گیا۔ دوسری طرف سکھ فوج کے سارے راز اورانگریزوں کے خلاف سکھ فوجی مورچہ بندی کی کارروائی لال سنگھ نے 8 فروری کو اپنے رازدان شمس دین خان قصوریئے کے ذریعے میجر لارنس کے پاس پہنچا دی تھیں۔ اور پھر 10 فروری 1846ء کو دونوں فوجوں \"\"میں انتہائی بھیانک لڑائی ہوئی۔ اورایک بار پھر اُسی سازش کے تحت سکھ فوج کا کمانڈر ان چیف تیز سنگھ پہلا گولہ چلتے ہی جنگ کے میدان سے بھاگ نکلا اور جاتے جاتے بیڑیاں کا پل بھی توڑ گیا تاکہ سکھ فوج اب کی بار واپس بھی نہ جاسکے ! سردار شام سنگھ اٹاریوالہ نے اس لڑائی میں بڑی بہادری کے ساتھ اپنی پنجاب دھرتی کی حفاظت کے لئے جنگ کی مگر آخر کار اپنوں کی مہربانیوں کے باعث سکھ فوج کے پیر اُکھڑ ہی گئے!اوراب کی بار تو پل بھی ٹوٹ چکا تھا۔ جانے کا راستہ بھی نہیں تھا۔ اب اپنی جانیں بچانے کیلئے سکھ فوج دریا میں کود پڑی مگر دشمنوں کی توپوں اور بندوقوں کے ساتھ ان کی اپنی بندوقیں اور توپیں بھی باہر تھیں۔ انگریزوں نے ہزاروں سکھ فوجی بھون ڈالے۔ اورپنجاب کی دھرتی کی حفاظت کرنے والی سکھ فوج بری طرح ہار گئی !

ابھی ستلج دریا سے سکھ فوج کے خون کی سُرخی بھی نہیں گئی تھی کہ انگریز سرکاراور لاہورسکھ دربار کے درمیان لڑائی سے پہلے جو گپت سمجھوتہ ہوا تھا ، اُسی کے مطابق 12فروری 1846ء کو گورنر جنرل دریا کے پار قصور پہنچ گیا اور گلاب سنگھ لاہور دربار کے کچھ اہلکاروں کے ہمراہ انگریز گورنرجنرل کو لینے قصور آیا۔

گلاب سنگھ نے پنجاب کی دھرتی کی قسمت کا فیصلہ انگریزوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔ یہ پنجاب کی دھرتی کا وہ صوبہ تھا جس کی حفاظت کیلئے سکھ راج نے اِس غدار کو جموں وکشمیر کا راج دیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب جموں پر قبضہ کیا تو اس وقت گلاب سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ لڑا تھا۔ مگر لڑائی ہارنے کے بعد سکھ فوج کے ساتھ مل گیا۔ یہ پہلی انگریز سکھ جنگ میں پھر انگریزوں کےساتھ مل گیا اور اسی خوشی میں انگریزوں  نے 75 لاکھ کے بدلے جموں کشمیر کو بیچ دیاتھا!۔ ستلج اور بیاس کے درمیان کا علاقہ انگریزی راج کے ساتھ ملا لیا گیا اور لاہور سرکارکے علاقے پر دلیپ سنگھ کا راج مان لیا گیا۔ پنجاب فوج کی نفری بہت گھٹا دی گئی۔ انگریز ریزیڈینٹ لاہور میں رہنے لگ گئے اور گورا فوج کی چھاؤنی لاہورمیں قائم کر دی گئی۔ یہ جو فوجی چھاﺅنی لاہور میں قائم ہے ، اُسی دور کی یادگار ہے۔\"\"

بے شک، اس تاریخ کے مطابق یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کسی غیر کی ناجائز مداخلت ایک ہنستے بستے گھر کواجاڑ دیتی ہے، سچ مگر یہ بھی ہے کہ اُسی غیر کی مداخلت کی کوشش کو اگر ایک گھر کے آپس میں متصادم دو فریق مل کر پسپا کرنے کا ارادہ کر لیں تو وہی گھر بکھر جانے سے بچ نکل بھی سکتا ہے!۔ افسوس کہ ماضی کے ہندوستانی سیاستدان اپنے ملک کی تاریخ سے کوئی سبق نہیں حاصل کر سکے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی، جو جوہن کمپنی کے نام سے شروع ہوئی تھی، اِس نے ہندوستان کو تجارت کے نام پر لوٹ کر بے حساب دولت کمائی مگر ہندوستانیوں کو شدید کرب و اذیت سے دوچار کیا۔ کمپنی کی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف تجارت نہیں چاہتیں بلکہ سیاسی طاقت بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اِس داستان میں آج دوآزاد ملکوں پاکستان اور ہندوستان کیلئے بھی سبق ہے، یہ اب بھی چاہیں تو غیروں کی مداخلت ختم کرتے ہوئے اپنے مسائل مل بیٹھ کر سلجھا سکتے ہیں۔ ورنہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح آج کشمیر کے نام پر اسلحہ کی ٹھیکیداربین الاقوامی لابیاں دونوں پڑوسیوں کو آپس میں الجھاتی اور اِن پر حکومت کرتی رہیں گی !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “10 فروری 1846ء: جب کشمیر کا پہلی بار سودا ہوا

  • 11-02-2017 at 5:37 am
    Permalink

    Very useful piece of history. Could you please also add captions to the pictures to identify personalities or events. Many thanks

Comments are closed.