فاٹا کے مسئلے کو اور نہ الجھایا جائے


\"\"فاٹا کے مسئلے کو فاٹا کی عوام کی مرضی سے حل کیا جائے۔ یہ وہ بدبودار بیانیہ ہے جس کو ہم سادہ الفاظ میں کہ سکتے ہیں ’’دودھ میں مینگنیاں ڈالنا‘‘ جب کہ فاٹا کی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے خود چیخ چیخ کر کہ رہی ہے کہ ان کا انضمام خیبر پختونخواہ (سابقہ صوبہ سرحد) کے ساتھ کیا جائے۔ جہاں عوام ہر لحاظ سے آپس میں جڑے اور بندھے ہوئے ہیں۔ جہاں سالوں سے آپس کی رشتہ داریاں ہیں، غمی خوشی سانجھی ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ مفروضہ گھڑنے کے پیچھے آخر کون سی منطق کام کر رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن صاحب کو تو خیر اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لگی ہوئی ہے۔ وہ بہرحال اتنے اعلیٰ ظرف نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کبھی ایسا چاہیں گے کہ اتنا بڑا کام ہو جائے اور منصب اقتدار پر ان کے سیاسی حریف براجمان ہوں۔ کیونکہ ان کے سیاسی تابوت پر شاید یہ انضمام آخری کیل ثابت ہو۔ آنے والے انتخابات میں تخت کے لازمی حصول کی ہوس نے شاید ان کو اندھا کر دیا ہے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو رہا کہ وہ کس قدر گھناؤنی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس اسکرپٹ کے پیچھے اصل کردار تو کسی اور کا ہے جو کبھی بھی ایسا نہیں چاہتے کہ موجودہ سسٹم میں کوئی بھی تبدیلی ہو۔ غاصب کا محاسبہ ہو اور ہر حقدار کو اس کا حق ملے۔ اس اسکرپٹ کے اصل کرداروں کے ماضی میں جھانکے بغیر اگر گذشتہ ساڑھے تین سالوں کا بھی بغور جائزہ لیا جائے تو بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا رہا ہے۔ گلہ مگر یہاں ان سے ہیں جن کو استعمال کیا جا رہا ہے پھر محمود خان اچکزئی صاحب کی بھی کوئی سمجھ نہیں آتی کہ آخر وہ کس کے خیر خواہ ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے کی عوام خود فیصلہ کرلیں کہ اگر کوئی مذہب کے نام پہ ان کا سودا کرتا ہے، قوم پرستی یا کسی بھی سلوگن کے تحت ان کی قیمت لگاتا ہے، تو ایسے سوداگروں کو اب شٹ اپ کال دے دیں کیونکہ عوام کے حقوق کے نام پر سیاست کرنے والے محمود خان اچکزئی صاحب کی حقیقت تو ایک وزارت نے ہی کھول کر رکھ دی ہے۔ مولانا کا حال بھی مگر ان سے مختلف نہیں ہے۔ جو محض اپنی سیاسی رقابت کی وجہ سے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اب قوم کو عقیدت کی عینک اتار کر حقیقت پسندانہ اپروچ اپنانی چاہئے کیونکہ گذشتہ چند سالوں نے جہاں قوم پرستی کی حقیقت کھول کے رکھ دی ہے وہاں مذہب کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والے مہاجنوں کو بھی قوم پہچان چکی ہے۔ اب سیاست کی وال سٹریٹ میں نہ تو قوم پرستی کا سکہ چلے گا اور نہ ہی مذہب کی کرنسی کام آئے گی۔ یہی موقع ہے، لوہا گرم ہے یہ ضرب اب مار دینی چاہئے۔ اگر فاٹا کی پسی ہوئی عوام کو ان کا حق ابھی نہیں ملا تو پھر کبھی بھی نہیں ملے گا۔

حالات کا تقاضا یہی ہے کہ اس مسئلے میں ہر باشعور پاکستانی فاٹا کی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہو اور ہر فورم پر ان کے اصل اور دیرینہ موقف کی حمایت کرے، اور آخر میں ان تجزیہ نگاروں، جن میں سے اکثریت کی تعلیم فاٹا کے ایک اوسط درجے کے شہری سے عموماً کم ہوتی ہے، آپ سے بس اتنی سی التجا ہے کہ خدارا! آپ اپنے گھسے پٹے تجزیے اپنے پاس رکھئیے۔ فاٹا کی باشعور عوام کو آپ کے مشوروں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ اس مسئلے کو بے جا تبصروں اور بحث و مباحثہ کی نذر کر کے اس کو مزید نہ الجھائیں، ہم آپ کے ممنون رہیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “فاٹا کے مسئلے کو اور نہ الجھایا جائے

  • 12-02-2017 at 2:08 pm
    Permalink

    اعجازی صاحب جب بلدستان اور گلگت کو علیدہ حیثیت مل سکتی ھے تو فاٹا کو کیوں نہیں …؟

  • 13-02-2017 at 10:33 am
    Permalink

    جی ہاں! بالکل درست فرمایا آپ نے، اعتراض اس بات پر نہیں کہ فاٹا کو الگ حیثیت کیوں مل رہی ہے، یہاں بحث چھیڑنے کا مقصد مسئلے کو حل کی طرف لیکر جانے کی ہے، نہ کہ بدنیتی سے اس کو مذید الجھایا جائے۔ ۔ ۔

Comments are closed.