شریک جرم باپ نے معاف کر دیا!


\"\"میں ایک دن ہیوسٹن امریکا میں ایک گیس اسٹیشن پر ڈیوٹی کر رہا تھا کہ ایک لڑکی باہر اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈال کر پیسے دینے اندر آئی۔ ہم دونوں کو شیشے کی دیوار سے اس کی کار سامنے صاف نظر آ رہی تھی۔ اتنے میں ایک پولیس کی کار پیٹرول ڈالنے کے لئے دوسرے یونٹ پر رکی۔ پولیس آفیسر نے لڑکی کی گاڑی میں دیکھا کہ سات سال کا بچہ اکیلا اندر موجود ہے، پولیس آفیسر نے سب کام چھوڑے، اسٹور کے اندر آیا، پوچھا کہ باہر گاڑی اور بچہ کس کا ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ میری گاڑی ہے اور میں اس بچے کی ماں ہوں۔ پولیس نے لڑکی کو، چھوٹے بچے کو گاڑی میں اکیلا چھوڑنے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔

اسی ہیوسٹن میں میرے ایک دوست کی بیوی، اپنے اپارٹمنٹ مین اپنے پانچ سال کے بچے کو صرف پانچ منٹ کے لئے لاک کر کے چھوڑ کر لانڈری روم سے جو کہ صرف ایک منزل نیچے تھا کپڑے لینے گئی۔ پیچھے بچہ رویا، پڑوسن نے سنا، نائین ون ون ملایا، منٹوں میں علاقہ پولیس سائرن سے گونج اٹھا۔ پھر، والدین گرفتار، کیس، جرمانہ، مستقبل کی وارننگ۔

یہ تو صرف ان والدین کے ساتھ ہونے والے قصے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو غیر محفوظ اکیلا چھوڑا۔ لیکن بچے پر تشدد بھلے سگے والدین ہی کیوں نہ کریں ترقی یافتہ ملکوں میں ناقابل معافی جرم ہے۔

مگر پاکستان میں تو بچی طیبہ پر وحشیانہ تشدد ہوا۔ اور ملزم کو معافی وہ باپ دے رھا ہے جو ہٹا کٹا ہوتے ہوئے بھی اس کی کفالت نہ کر سکا اور معصوم بیٹی کو زمانے کے رحم کرم پر چھوڑ دیا کہ اس کو کما کر کھلائے۔

اسی بارے میں: ۔  میں گل خان کا ہم نوا ہوں

آج کی خبر ہے کہ تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ طیبہ کے والد نے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو معاف کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف محمود کی عدالت میں طیبہ تشدد کیس کی سماعت میں طیبہ کے والد اعظم نے بیان دیا ہے کہ میں بچی کا والد ہوں، بچی کی والدہ علیل ہے، میں نے ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کر دیا ہے۔

یہ کیسی معافی ہے؟ ایک ایسا جرم جس کو پوری دنیا نے دیکھا اسے ایک ایسا شخص معاف کر دے صرف اس بنا پر کہ وہ بچی کا باپ ہے۔

مانتے ہیں طاقت، اثر رسوخ، لالچ سب ممکن ہے، مگر ظلم ایک پر ہو اور معاف دوسرا کرے، یہ انصاف کی منافی ہے، خاص کر ایسے میں جب وہ باپ ثابت کر چکا ہے کی اس نے کفالت کرنے کے بجائے، بچی کو مزدوری پر لگا دیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔