ایف سی آر کے لطیفے اور فاٹا کی اندھیر نگری


 \"\"پہلی کہانی اس شخص کی ہے جس نے تین سال ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں محض اس الزام میں گزارے کہ اس نے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانہ میں ایک واسکٹ چوری کی تھی۔

نہ کوئی جج، نہ وکیل اور نہ دلیل بس اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ صاحب کے موڈ پر منحصر تھا سو فیصلہ صادر فرمایا۔

یوں حکم ہوا کہ ملزم کو چالیس ایف سی آر کے تحت تین سال کے عرصے کے لئے پس زندان رکھا جائے۔

چالیس ایف سی آر کو ردیف اور قافیے میں یوں پرویا جاسکتا ہے۔

بنے ہیں اہلِ ہوس منصف بھی مدعی بھی

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔

تین سال گزر گئے، ڈی آئی خان جیل کے سپرنڈنٹ نے پولٹیکل انتظامیہ کو خط لکھا کہ فلاں ابن فلاں کی سزا کی مدت ختم ہوگئی ہے لہٰذا تحریری طور پر بتایا جائے کہ آگے کیا جائے۔

خط ماتحت عملے کو موصول ہوا، محرر صاحب نے خود کو ریکارڈ کی چھان بین کے جھنجٹ سے بچانے کے کئے آسان راستہ یہ نکالا کہ اس نے سپرنڈنٹ صاحب کے نام ایک اور مراسلہ لکھا جس میں ملزم کو مزید تین سالوں کے لئے پس زنداں رکھنے کی سفارش کی گئی۔

لیکن بھیجنے سے پہلے قواعد کی رو سے اس اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ کا دستخط لازمی تھا۔

اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ نے مراسلے پر جب نظر دوڑائی تو ان کا سر چکرا گیا، حکم دیا کہ ریکارڈ کنگھالا جائے نہیں تو ملزم کی جگہ پولٹیکل محرر کو جیل بھیج دیا جائے گا۔

لو جی صاحب یہ ہے ریکارڈ، دوسرا خط لکھا گیا جس میں اس شخص کی رہائی کی سفارش کی گئی۔

اسی بارے میں: ۔  کراچی کی آبادیوں کے نام اگر اسلام آباد میں مستعمل ہو جائیں!

پتہ نہیں وہ شخص اور واسکٹ اب کہاں ہوں گے البتہ ایف سی آر اب بھی کسی اور واسکٹ چور کی راہ تک رہا ہے۔


نیک چلنی کی ضمانت اس جاندار سے مانگی جاتی ہے جس کے ہاتھ پیر ہوں، جگہ بدل سکتا ہو لیکن جنوبی وزیرستان میں ایک بے جان یعنی فلور مل کو چالیس ایف سی آر کے نیک چلنی کی ضمانت کے تحت گرفتاری کی سزا ہوئی ہے۔

اس شخص نے بنیادی انسانی حقوق کی بنیاد پر فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ظاہر ہے عدالت کا فیصلہ اس کے حق میں ہونا تھا یوں فلورمل کو نیک چلنی کی ضمانت اور حراست سے گلو خلاصی نصیب ہوئی۔

فلور مل شاید اب بھی بعد از رہائی کی ٹراما سے گزر رہا ہو گا جبکہ ایف سی آر اب بھی دندناتا پھر رہا ہے


تیسری کہانی ایف آر کے علاقے میں ایک جرگے کی ہے۔

علاقے کے عمائدین کو معلوم تھا کہ نئے تعینات ہونے والے ڈی سی او صاحب منشیات کی دھندے سے انتہائی نفرت کرتے ہیں۔

ایک دن اس جرگے کو منشیات کی سمگلنگ کا فیصلہ تفویض کیا گیا۔

ڈی سی او صاحب کا دل جیتنے کے لئے جرگے نے ایف سی آر کے تحت ملوث افراد کو چالیس سال جیل کی سزا سنانے کی سفارش کی۔

جو گاڑی سمگلنگ میں استعمال ہوئی تھی اس سے بھی بڑی دلچسپ سزا سنائی گئی۔

جرگے نے کہا کہ گاڑی کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے اگر صحیح بھی نکلے تب بھی ضبط کی جائے۔

یہ سفارشات جب ڈی سی او صاحب کے حوالے کی گئیں تو وہ مسکرائے اور نظرثانی کے لئے واپس بھیجتے ہوئے کہا کہ ایف سی آر کی جس شق کے تحت سزا سنائی گئی ہے اس میں زیادہ سے زیادہ چوبیس سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عمران خان کا جارحانہ طرزسیاست

۔۔۔۔۔

عبدالحئی کاکڑ مشال ریڈیو سے منسلک ہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔