الوداع بانو قدسیہ: رفیقان سفر میں کوئی بسمل ہے، کوئی گھائل


 \"\"ان لوگوں کے بارے میں لکھنا کافی مشکل ہوتا ہے جن کو آپ زیادہ جانتے تو نہیں مگر پہچانتے ضرور ہیں۔ بہت سال پہلے کی بات ہے جب آتش جواں تھا اس زمانہ میں ریڈیو کا سننا بھی ایک مشغلہ تھا۔ اس زمانہ میں اشفاق احمد خاں کی ریڈیو پر بہت دھوم تھی۔ انہوں نے اپنے کسی پروگرام میں سفر چین کا ذکر کیا۔ مجھے بھی دنیا دیکھنے کا جنون سا تھا۔ میں نے کسی نہ کسی طرح اشفاق احمد خاں سے رابطہ کرلیا۔ ان سے اردو بورڈ کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی سے تھے۔ میں نے ان سے چین کے سفر کے بارے میں سوال کیا۔ وہ مسکرائے اور بولے۔ میرا خیال تھا کہ آپ کا کوئی کام ہوگا؟ مگرآپ کرتے کیا ہیں ؟ایک طالب علم کیا بتاتا، میں چپ ہی رہا۔ وہ بھانپ سے گئے۔ بولے چین ایک حقیقت ہے اور ایک دن دنیا اس کومانے گی۔ پھرخاں صاحب نے تفصیل سے اپنے چین کےسفر کا ذکر کیا اور خاص طور پر ان انڈوں کا جو بہت پرانے ہوتے ہیں اور ان سے تواضع کی جاتی ہے اوران کی وجہ سے آپ کو اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد ایک عرصہ تک ان سے رابطہ نہ ہوا۔

پھر بہت سال کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر ان سے ملاقات ہوئی۔ میں اس حیثیت میں تھا کہ ان کی سیوا کرسکتا۔ وہ بیرون ملک جارہے تھے۔ خاں صاحب حافظہ کے معاملہ میں کمال رکھتے تھے۔ میں نے پرانی اوراکلوتی ملاقات کا ذکر کیا تو وہ ایک دفعہ پھر سفر کی داستان سنانے لگے۔ بانوقدسیہ ان کی ہم سفر تھیں۔ وہ ان سے ایک قدم پیچھے رہتیں۔ وہ ہم دونوں کو سنتی رہیں۔ بس جب وہ جہاز میں بیٹھنے کے لیے جانے لگیں تو اتنا کہا۔ آپ سے مل کراچھا لگا۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک خاں صاحب سے رابطہ نہ ہوسکا۔ خاں صاحب کی کتابوں تک رسائی میرے محترم اور مہربان جناب نیاز احمد کی وجہ سے رہی۔ جناب نیاز احمد کا اردو ادب میں کتاب شناسی کے حوالہ سے بہت بڑا کردار ہے۔ جناب چوہدری نیاز احمد پاکستان کے بڑے اور محترم ناشر تھے اور ان کی دھوم ایسی تھی کہ وہ اپنے مصنفوں کو معاوضہ کتاب چھاپنے سے پہلے خود گھر پر جاکر ادا کرتے۔ ان کی اس مروت اورقدر نے اردو ادب میں ایک مثال سی بنا دی ہے۔ ان کے بیٹے اعجازاحمد کتابوں کے ذوق کی وجہ سے ہمارے مہربان اور قدردان تھے۔ ایک دن سنگ میل جانا ہوا تو حسب روایت خوب تواضع کے بعد ایک نئی کتاب کا ذکر کہا۔ کتاب کا نام تھا۔ ”راجہ گدھ“ میں نے کتاب خریدی اور گھر آ گیا۔ والدہ محترمہ نے کتاب دیکھی۔ ان کو بھی پڑھنے کا شوق تھا اور مجھ سے پہلے ”راجہ گدھ“ کا مطالعہ شروع کردیا۔ پھر ایک دن کہنے لگیں۔ ذرا سمجھ کرپڑھنا۔ نہ سمجھ آئے تو اشفاق کا ذکرکرتے ہو مل لینا۔ اب تو اپنے ہمسائے میں ہیں۔ میں ان کی معلومات پر حیران تھا۔ میں نے خاں صاحب کو فون لگایا اور درخواست کی کہ ”راجہ گدھ“ پر مصنف کے دستخط چاہتا ہوں۔ وقت اور دن طے ہوا اور میں ان سے ملنے چلا گیا۔

اس دن ان کے ہاں کچھ غیرملکی مہمان آرہے تھے سارا کنبہ خاصا مصروف لگ رہا تھا۔ خاں صاحب نے کتاب لی اور بانوقدسیہ کا انتظار کرنے لگے۔ وہ اک پل کوآیئں اور کہا کتاب کدھر ہے اور کس کا نام لکھنا ہے،میں نے نام بتایا اور وہ کتاب لے کر دوسرے کمرہ میں چلی گئیں۔ میں نے اشفاق صاحب سے کتاب کے نظریہ کا ماخذ پوچھ لیا۔ کہنے لگے بھئی مصنف سے پوچھو۔ میں نے کہا، ان کے پاس تو آج وقت نہیں، تو کچھ دیر چب رہے پھر بولے۔ آپ نے حضرت گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب پڑھی ہے۔ میں نے کہا جی بالکل پڑھی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اس میں ایک بزرگ کا ذکر ہے۔ جو بہت اللہ والے تھے،ان کی اولاد ناخلف تھی، وہ کیوں ناخلف ہوئی، اس کی وجہ رزق تھی اور رزق بھی وہ جو آپ کے لیے حلال ہو۔ اتنے میں بانوقدسیہ واپس کمرہ میں آچکی تھیں۔ انہوں نے کتاب میرے حوالہ کی۔ نوکر نے بتایا کہ ان کے مہمان بھی آگئے ہیں اور میں نے اجازت لی۔

میرے دماغ میں اشفا ق خاں کا جملہ باربارگونجتا ”رزق۔ رزق بھی وہ جو حلال ہو! ویسے تو ہمارے ہاں اعمال کے حوالہ سے نیت کی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے مگر نیت اچھی بھی ہو اور رزق حلال نہ ہو تو کوئی بھی جواب نہیں بنتا۔ میں کچھ عرصہ کے لیے اپنا پسینہ بیچنے کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔ ایک دن میری بیٹی حنا، وطن سے واپسی پر مجھے ایک کتاب دی ”پیا رنگ کالا“ لکھنے والے محمد یحییٰ خاں تھے۔ کتاب دلچسپ اور حیرتوں کا دبستان تھی۔ مجھے یحییٰ خاں کی تلاش تھی۔ میں نے سوچا پاکستان میں اعجاز احمد سے بات کروں گا۔ ابھی پلان کرہی رہا تھا کہ میرے مہربان پبلشر چوہدری نیازاحمد کے بیٹے ہمارے دوست اعجازاحمد داغ رخصت دے گئے۔ محمد یحییٰ خاں کی تلاش موقوف ہوئی۔

پھر میں واپس پاکستان آگیا۔ اب تک محمد یحییٰ خاں کی دوسری کتاب ”کاجل کوٹھا“ بہت ہی نفیس گٹ اپ کے ساتھ بازار میں آچکی تھی۔ اب ہمارے دوست افضال احمد اس کے ناشر تھے۔ جو بابا محمد یحییٰ خاں کے بہت ہی قریب ہیں۔ ان کے توسط سے بابا جی سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک دن افضال صاحب نے مجھے اپنے ساتھ کسی جگہ چلنے کو کہا۔ میں ان کا ہم سفر بنا۔ ہماری منزل ماڈل ٹاﺅن میں داستان سرائے تھی۔ سخت گرمیوں کے دن تھے۔ شام ڈھلے ہم نے داستان سرائے میں قدم رکھا۔ ہمارا سواگت بانو قدسیہ نے کیا۔ ان کے چہرہ پر تشویش اور پریشانی نمایاں تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگیں۔ خاں صاحب صاحب فراش ہیں ۔ کسی سے بھی نہیں ملتے۔ افضال میں دیکھتی ہوں اور ہم ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر کے بعد نوکر نے افضال صاحب کو کہا آپ آجائیں۔ افضال صاحب نے میری طرف دیکھا۔ میں نےکہا آپ ہی مل آئیں، مگرتھوڑی ہی دیر کے بعد میرا بلاوا بھی آگیا۔ اشفاق احمد خاں بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں بند کرکے افضال سے بات کررہے تھے۔ افضال نے میراتعارف کرایا۔ ”ہاں مینوں پتا ہے گا“پھر خاموشی۔ میں نے پوچھ ہی لیا۔ اشفاق صاحب یہ بابا یحییٰ خاں کون ہے۔ ایک لمحہ کو اشفاق صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ بولے ”یحییٰ خاں لکھتا خوب ہے۔ ولایت کا باسی ہے۔ گھاٹ گھاٹ کا مسافر ہے۔ اردو ادب کا ستارہ ہے۔ ویسے تو بانو ہی حقیقت حال جانتی ہے۔ وہ اس کی تحریر کو مانتی ہے۔ پھر ہم تم کون پوچھنے والے۔“ میں نے پوچھا۔ کیا اس نے ”راجہ گدھ“ کو پڑھا ہے۔ وہ چپ رہے۔“ شاید ،مگر پتا نہیں۔ آدمی سیانا ہے۔“ وہ بولے۔ خاں صاحب کی طبیعت خراب تھی۔ وہ جبر سے خاموش سے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا۔ آپ اپنی کتابوں میں سے پسندیدہ کتاب کا بتائیں۔ پھر چپ سے رہے۔ تھوڑی دیر کو بولے۔ تم بتاﺅ۔ میں حیران سا تھا۔ سوچا پھر بولا خاں صاحب آپ کی کتاب ”کھیل تماشا“ کا جواب نہیں۔ انہوں نے ایک لمحہ کے لیے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور بولے اور یہ سارا سنسار بھی تو کھیل تماشا ہی ہے۔ اتنے میں بانو قدسیہ کمرہ میں آگیئں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ملاقات کی مزید طوالت نہیں چاہتی۔افضال صاحب کھڑے ہوگئے۔ میں نے آہستہ سے کہا۔ سرجی اللہ حافظ۔ خاں صاحب نے آہستہ سے جواب دیا اور ہم رخصت ہوئے۔

پھر چند دن کے بعد اشفاق خاں بھی پردہ کرگئے۔ پھر ایک دن بابا یحییٰ خان نے اطلاع دی کہ عکسی مفتی کی کتاب ’کاغذ کے گھوڑے‘ کی تقریب مقامی ہوٹل میں ہے، بانو قدسیہ نے بھی آنا ہے۔ بانوقدسیہ سے ملاقات ہوئی۔ خاں صاحب کی جدائی کے بعد بانوقدسیہ کی گفتگو اور طرز زندگی میں صوفیانہ رنگ نمایاں ہوتا نظر آتا تھا۔ ٹی وی اور عسکری حلقوں کی پسندیدہ شخصیت نورالحسن اشفاق خاں پری وار کے بہت نزدیک تھے۔ پھر وہ بابا یحییٰ خان کے خلیفہ بھی نظر آتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر رشک آتا۔ وہ تصوف کے ساتھ ساتھ بندگی کرواتے نظرآتے تو حیرانی ہوتی۔ وہ بھی پاکستان کے بابوں کی خبر رکھتے ہیں۔ پروفیسرعبداللہ بھٹی ہوں، بابا محمد عرفان الحق ہوں۔ سب کے بارے میں خبر ہوتی ہے۔ پروفیسر رفیق اختر جو تصوف اور روحانیت پر بے پناہ معلومات رکھتے اور لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ حضرت سید سرفراز شاہ کا علیحدہ حلقہ فکر ہے اور نورالحسن ان سب کے مداح ہیں اور بانوقدسیہ کے بھی رازدار نظرآتے ہیں۔

چند دن پہلے افضال صاحب کا فون آیا وہ دفتر سے جلد جا رہے تھے۔ بتایا بانوقدسیہ بھی رخصتی کا سفر باندھ چکی ہیں۔ ان کی نماز جنازہ کل دوپہر کے بعد ہوگی۔ میرے لیے غم اور دکھ کاوقت تھا کہ بہت ہی اچھا انسان ہماری دنیا سے رخصت ہوگیا ہے۔ اگرچہ مجھے موت سے کبھی بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ مگر احباب کے مرنے کا دکھ ضرور ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد کا حال تو مولا ہی جانتا ہے اور یہ ہی مقام صبر اور پھر مقام شکر ہے۔ جب داستان سرائے سے اس کے مکین کا جنازہ اٹھایا گیا تو ایک عہد کا سفر ختم ہوا۔ بانوقدسیہ کے پڑھنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

میں بانو قدسیہ کو ذرا ذرا سا جانتا ہوں مگران کی شخصیت کی پہچان ضرور ہے۔ انہوں نے ایک پورا عہد گزارا۔ مجھے ان کا ایک کافی پرانا انٹرویو یاد آرہا ہے۔ نعیم بخاری نے اشفاق خاں اوربانوقدسیہ کو پروگرام ”ملاقات“ میں بلایا اور بانوقدسیہ نے اشفاق خاں سے سوال کیا۔”ہمارے گھر میں آپ کے ہوتے ہوئے کوئی اور شخصیت اتنی قدآور ہوسکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اشفاق صاحب کیا کبھی ملک سے باہر یا رات کے آخری پہر آپ نے سوچا احساس جرم سے آپ لرزے کہ آپ نے تین لوگوں کی زندگی پر سخت کمبل ڈال رکھے ہیں۔”اب اشفاق خاں کا جواب سنیں۔“ بانو اتنا سخت سوال تو کبھی کسی نے نہیں کیا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا۔ میری انا اتنی ہے کہ سوچ آتی نہیں۔ میں بس یہ سوچتا رہا کہ بس میری ذات ہو میرا ذکر ہو۔ شعوری طورپر نہیں مگر لاشعوری طور پر ضرور۔ میں مجرم ہوں۔ اپنے بچوں کا مجرم۔“ اشفاق خاں کی رحلت کے بعد بانوقدسیہ کو زیادہ احساس جرم کا اندازہ ہوا۔ مگرمداوا ممکن نہ تھا انہوں نے کوشش کی کہ اپنی کتاب ”راہِ رواں“ سے مداوا ہوسکے مگرجزا اور سزا ہمارے بس میں کہاں۔ احساس جرم کا قیدی آزاد ہوا۔ بانوقدسیہ کا عہد تمام ہوا۔ معاشرہ راجہ گدھ کی طرح ان کے مرنے کا انتظار ہی کررہا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔