ایک سیمینارموہن جودڑو بنے سندھ کے شہروں پر بھی


\"\"سوچیے، کوئی موسیقار موھن جو دڑو کی تباہی کے وقت اگر کوئی دھن یا سمفنی بناتا تو؟ اگرآج بھی بنائے تو اس کی کسی ڈجیٹل یا لکڑی کے کیمرے سے بنائی ہوئی تصویر کیسی ہوتی؟ بالکل ایسی ہوتی جیسےآج کے اجڑے، بکھرے تباہ حال سندھ کے چھوٹے بڑے شہر ہیں۔ (دیہات کوآپ ایک پل کے لئے چھوڑ ہی دیں، وہ بھوتاروں، سرداروں اور پیروں کی دوسری بادشاہی ہیں، اس پربعد میں آتے ہیں)

اگر گوگل کے نقشے پر ڈھونڈیں تو گندگی، 2010، 2011 کے سیلاب، بارشیں، سیم تھورسے ابلتے نالے، گھٹنے جتنی گہری کیچڑ میں دھنسے سندھ کے شہر دور سے شہر روم کا منظر پیش کرتے ہیں، لیکن سندھ کے نقشے کو ان کے شہروں کی صورت میں دیکھیں توعلن فقیر کی بات یاد آجاتی ہے کہ’’ واہ رے چکر کا زمانہ، کبھی سکھر کبھی لاڑکانہ‘‘۔

دوسرے الفاظ میں کبھی سکھر تاتاریوں کی یلغارمیں تباہ حال شہر لگتا ہے توکبھی لاڑکانہ رائیس کنال کے کنارے لوٹا ہوا شہر دکھتا ہے۔ جسے آج نہیں تو کل ڈوبنا ہے۔

شکارپور کو پتا نہیں کیوں پیرس کہا جاتا ہے لیکن آج کل شکارپور کسی بھوت بھبوت کا منظر پیش کرتا ہے۔ بالکل ایسا جیسے سندھ کے ان شہر کو خنزیروں نے روند ہی دیا ہو، لکھی در سے جمانی حال کا راستہ جیسے کسی کینال کے نیچے آیا ہوا ہو۔ بس شہر کے وڈیرے بالم بن کر ان بڑی بڑٰی گاڑیوں میں تباہ حال راستوں پر سفر کرتے ہیں جو یہاں امریکہ میں میتیں اٹھاتی ہیں۔ سندہ بس ایک شکار گاہ کا ہی منظر پیش کرتا ہے۔

میہڑ، مورو، دادو، خیرپور ناتھن شاہ، جہاں 1983 اور 1986 میں دھرتی دھنیوں کو خون میں نہلایا گیا، جس پر ایک سندھی شاعر نے لکھا کہ’’ مورو میھڑ دادو میں، کے ڈھاٹیڑا پٹ ڈھول کُٹھا‘‘۔ یہ شہر دیکھ کر لگتا ہے کہ ان ڈھاٹیوں کا خون بھی رائیگاں ہی گیا۔

جوھی شہر کو ہی دیکھ لیں، شہرکے باسیوں سے پوچھ لیں کہ یہ جہنم کیسے بنا؟اس شہر سے وہ زیادتی ہوئی جو پیپلی لائیو وڈیروں نے عظیم جیالے بشیر تھیم سے کی۔ جیالا بشیر تھیم کراچی کی جناح اسپتال میں بے یارومددگار موت کے منہ میں چلا گیا۔ جناح ہسپتال کے دل کی بیماریوں کے علاج کے وارڈ میں دو ڈاکٹر’’پی پی پی زی‘‘ کے رہنماؤں کے بھائی ہیں، لیکن دنوں اس جیالے پر نالاں رہے، یہ بشیر تھیم ہی تھے جو اپنی اسیری کے دوران جیل میں بڑے بڑے لیڈرز کے سامنے ذوالفقار بھٹو کی برسی کی تقریبات کی صدارت کرتے تھے۔ یہ بات تو مولابخش چانڈیو نے اپنی کتاب \”ذکر زندان کا\” میں خود تحریر کی ہے۔ شہر جوہی سے تو وہ زیادتی ہوئی جیسی بھوتاروں کے چیلوں اور عرب شکاریوں کے رکھوالوں نے غریب چرواہے عمران کھوسو سے کی، نئی گاج پر بسنے والوں کو پانی کی قلت ایک نئے کربل کا قصہ ہے۔

حیدرآباد کو تو چھوڑ ہی دیں، یہ شہر پہلی بار بٹوارے میں اجڑا، دوسری بار زبان کے ہنگاموں میں اورپھر نئی بستیاں آباد کرنے کے وقت۔ امداد حسینی نے لکھا کہ ’’ میرا شہر ہے کہ دشمن کا شہر‘‘۔ اس شہر کا محشر دشمن نے نہیں، اپنوں نے ہی بپا کیا ہے۔ کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ آزادی کے بعد سندھ کا نقشہ کیسا ہوگا؟ میں نے فوری جواب دیا جو حال اب قاسم آباد کا ہے، وہی ہو گا۔

دادو کی صورتحال کا موازنہ پیر مظہر کی غربت سے کرسکتے ہیںِ، سیوھن تو دلوراء کی لٹی ہوئی نگری لگتا ہے۔ اگر ذوالفقارعلی بھٹو زندہ ہوتے تو وہ سندہ کی کرسی پر بیٹھے کسی بھی وزیر سے یہی کہتے کہ قلندر کے سونے کے دروازے کا خیال رکھنا۔

گھوٹکی ملک میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ آمدن دینے والا ضلع ہے، اس کی حالت دیکھ لیں ذرا، کیا دبئی نہیں لگتا؟عرب دنیا کے سب شیخ شکاری اسی ضلعے میں آئے ہوئے ہیں، سب خلیجی ممالک کے حکمران۔ اب تو سندھی بھوتار اور سردار ان عرب ریاستی حکمرانوں کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔ یہ عرب دوسرے ممالک کی تباہی ضرور کرتے ہیں، لیکن کم ازکم اپنا وطن اور شہر تو شاد و آباد کیے ہوئے ہیں۔ آپ صرف کموں شھید کی سرحد کے اس پار سرائیکی وسیب میں داخل ہوں تو ترقی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے لگ پتا جائے گا۔

سندھ سندھ ہے، یہ دوسری بات ہے کہ وہ دن بھی تھے جب سندہ کی سرحدیں ملتان تک تھیں اور بٹوارے کے بعد بھی ممبئی کے لوگ سندھیوں کو ملتانی کہا کرتے تھے، جیسے آج بھی تھر اور چولستان کے لوگ وہاں سے آنے والے اور جانے والوں کو سندھ سے آئے اور سندھ کو گئے کہتے ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ اگر غلطی سے بھی کوئی سندہ اور کراچی کہہ دے تو بپھر جاتے ہیں، کچھ اقدار ہونی بھی چاہیئں، لیکن اگر غلطی سرزد ہوجائے تو کوئی نہیں ٹوٹتا، نہ ہی سندھ ٹوٹ سکتا ہے۔ یہ تو قصہ ہی اور ہے۔ ہم اصل بات پر آتے ہیں۔

موہن جو دڑو کو پتا نہیں آریوں نے لوٹا یا سپت سندھو ںے؟ لیکن سندہ کو اکیسویں صدی میں موہن جو دڑو کس نے بنایا؟اس سے پہلے کچھ ذکر سندہ اور ملک کے شہروں میں کامنی، کولاپری، دلہن اور روشنیوں کے شہر کراچی کا۔ کراچی جسے پہلے شہری ڈاکووں سے فیوڈلز اور جاگیردار بنے لوگوں نے لوٹا، لیکن اب؟اب تو جام صادق بھی نہیں، لیکن اس کی روح باقی ہے، جو ہر دورمیں سندہ کے حکمرانوں میں بس جاتی ہے، جام صادق نے داڑھی پر ہاتھ رکھا تو رئیس بڑے کی مونچھیں ہی غائب۔ انگریزی میں کہتے ہیں، ھئیر ٹوڈے گان ٹومارو۔

کراچی کو دیکھیں، کلفٹن کا پل جو کہ کراچی میں طبقاتی اوچ نیچ اور معاشی جوڑ کی علامت ہے، وہاں ایک ایسی بھی جگہ تھی جہاں کیا امیر، کیا غریب کیا فقیر، وہ سب کی پناہ گاہ تھی، وہ جگہ تھی غازی عبداللہ شاہ کا مزار۔ جو دور سے دکھائی پڑتا تھا، اب وہ مزار تین وال ہوئی زمینوں، چائنا کٹنگ اور بلڈنگ مافیا کی کھڑی کی ہوئی عمارتوں اور اونچے میناروں کے شیشہ گھروں میں چھپ گیا ہے، ملیر ندی سے لیکر سمندر کے پیٹ تک سب کچھ کسی کے پیٹ میں چلا گیا۔ اگر وہ بوڑھا بہادر پارسی اردشیر کاؤس جی زندہ ہوتا تو ان مافیاز پرضرور لکھتا، اسی مزار کے آگے ادی کا گھرہے، اس سے پہلے سیال کا گھر، تھوڑا دور آفاق بھائی کا گھر، تھوڑا آگے جائیں تو آپ کے پر ہی جل جایئں گے۔ جہاں ممبئی کے بھائی لوگوں کے گھر ہیں، لیکں نہیں رہا وہ بوڑھا پارسی اس ملک میں۔

بقول ایک شخص کہ کلفٹن میں ایک گڑھا پتا نہیں کب سے کھد رہا ہے، کب بھرا جائے گا؟ کس سے بھرا جائے گا؟ کوئی پتا نہیں، کراچی بھی اسی گڑھے کی مانند ہے، لیاری ندی سے لیکر ملیر ندی اور سمندر کے پیٹ تک ایک گڑھا۔ لیکن سندہ کی راج دھنیوں کے ھنود قصایوں جیسے پیٹ بھی توگڑھے ہی ہیں، کبھی نہیں بھرنے والے گڑھے۔

مجھے ان تمام لوگوں سے بیحد احترام اور محبت ہے جنہوں نے ضیاالحق سے لیکر جام صادق علی اور ارباب رحیم تک جمہوریت اور اپنے پختہ خیالات کی وجہ سے عقوبتیں اور ظلم برداشت کیا۔ لیکن ضیا اور جام صادق سے لڑتے لڑتے ان میں سے کچھ خود ضیا بن گئے اور کچھ جام صادق۔

اگر سندہ کے اے ٹی ایم مشین بنے ٹی ایم اوز ان قصایوں کے پیٹ کے گڑھے بھرنے کی بجائے ماہانہ ترقیاتی فنڈز سندہ کے شہروں کی ترقی اور صفائی پر لگائیں تو پھر دبئی، لنڈن اور نیویارک کے خرچ کہاں سے پورے ہوں گے؟ بلاول بھٹو کا پروٹوکول ہی دیکھ لیں، کس مد میں ہے؟ کئی دن ہوئے کہ میھڑ کے ٹی ایم او سے کہا گیا کہ شکارپور میں اغوا ہوئے ایک جیالے وڈیرے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم میونسپل کے ترقیاتی فنڈ سے ادا کرے۔ سندھ حکومت کے ایک ذمہ دار نےبتایا کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے کاچھے کی پکی سڑک کی لیبر کے نام پر قمبر کے ایک تگڑے سردار کو دان کے طور پر لاکھوں کا چیک جاری کیا۔ اب تو وہ تمام عورت دشمن وڈیرے حکمران پارٹی میں ہیں جوکبھی جام صادق کے ساتھی تھے، جو مظفر علی شاہ، لیاقت جتوئی، مشرف اور ارباب رحیم کے ساتھ تھے۔ میں ان نئے شامل ہونے والے لوگوں کو شیخ پیپلے کہتا ہوں، انہوں نے سندھ کے لوگوں کو امر جلیل کی کہانی ’’میرا دل موھن جو دڑو‘‘کا مین کریکٹربنا دیا ہے، وہ کردار جس کی بہن ایک سائیکل والے کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے، اور وہ خود ایسی ہی کسی لڑکی سے پیار کرتا ہے، جسے کہتا ہے کہ ’’سماجی رتبوں کے فٹ بال میچ میں میرا باپ ایک زخمی گول کیپر ہے‘‘ سندہ کے شہری تو زخمی گول کیپر بھی نہیں رہے، آپ نے ان کے دل اور شہردونوں کو موھن جو دڑو میں بدل کے رکھ دیا ہے، ایک سیمینار اکیسویں صدی میں کھنڈر بنے سندہ کے موھن جو دڑو جیسے ان شہروں پر بھی ہونا چاہیے۔

 (ترجمہ ابراھیم کنبھر)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔