میری فرنگن دوست لارا


\"\"مجھے بچپن سے ہی دور دیس رہنے والے فرنگیوں کی زندگی میں بہت پراسرار محسوس ہوتا ہے۔ اب دیکھیں ایسی کوئی پراسرار بات ہونی تو نہیں چاہئے کیونکہ میڈیا ہمیں ہر وقت مغرب کے بارے میں معلومات فراہم کرتا اور ان کے کچے چٹھے کھولتا رہتا ہے۔ وہ لوگ ہماری ایجادات کے بل بوتے پر عیش کر رہے ہیں اور بے حیائی، عریانی اور فحاشی تو پوچھیے ہی مت، چھی چھی۔ اخلاق کا تو جنازہ نکل گیا ہے مغرب میں۔ مگر کیا کریں اس انٹرنیٹ کو بنانے سے لے کر اس پر آن لائن کام دینے والے مغرب سے ہیں تو بات کئے بنا چارہ نہیں۔ کیا کروں؟

لارا نے مجھے رابطہ تو کسی کام کے سلسلے میں کیا تھا مگر پھر ہم لوگوں کے مزاج مل گئے اور بات سے بات نکلنے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور اب تو گزشتہ دو سالوں سے یہ لمبی لمبی چٹھیاں ایک دوسرے کو لکھتے ہیں۔ لارا مجھے ابھی کچھ ہی سال پہلے ملی، یعنی شادی اور بچوں کے بعد، وہ بھی تقریباً میری عمر کی اور بچے بھی ہمارے تھوڑے بہت عمر کے فرق سے ایک ہی جتنے ہیں۔

اب دیکھیں اس فرنگن کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔

سب سے پہلے تو مجھ شک تھا کہ شادی کہاں کی ہو گی اس نے، فرنگی شادیاں تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ ایسے ہی کسی کے ساتھ رہتی ہو گی۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ نہیں نہیں ہے تو شادی شدہ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ضرور تم اور تمہارا میاں اور لوگوں کے ساتھ بھی گھومتے ہو گے۔ اور لوگوں سے ڈیٹ شیٹ تو مارتے ہو گے۔ چلو تمہارا بوائے فرینڈ نہ سہی تمہارے شوہر کی تو ایک آدھ گرل فرینڈ ہو گی۔ بولی کہ شادی اور ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ نبھانے کا وعدہ کرنے کا مطلب ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں اور اس میں کوئی اشتراک نہیں۔ شادی سے باہر رشتہ رکھنے پر شادیاں ٹوٹ ہی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیا پھانسی ضروری تھی؟

اچھا خیر تھوڑی مایوسی ہوئی مجھے پر میں نے کرید جاری رکھی۔ کرید نہ کرتی تو اسے میرے دماغ کی تیزی کا پتہ کیسے چلتا۔

پوچھا کہ کام کاج تو کوئی نہیں کرتی ہو گی نا، مادر پدر آزاد معاشرہ ہے۔ بس صبح صبح بے ہودہ لباس پہن کر بے حیائی پھیلانے نکل پڑتی ہو گی۔

بولی کہ دو بچے ہیں میرے۔ بیٹا تو ذہنی طور پر مختلف ہے تھوڑا اس لئے اس کے ساتھ بہت محنت ہوتی ہے۔ بعض اوقات سکول بھی ساتھ جاتی ہوں تاکہ اساتذہ کی مدد کر سکوں اور اس کی بہتر دیکھ بھال بھی ہو جائے۔ سکول سے واپسی پر بھی اس کو عام بچے کی نسبت بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ بات بتاتے ہوئے وہ تھوڑی جذباتی سے ہو گئی ( حالانکہ فرنگن کا مامتا جیسے جذبے سے کیا واسطہ؟)۔ مزید بولی کہ باہر البتہ میں اکیلی نکلتی ہوں اور گاڑی بھی چلاتی ہوں۔

اچھا خیر اپنے دن کی مصروفیات بابت کچھ تو بتاؤ، کتنا وقت اپنی جلد چمکاتی ہو، کتنی کریمیں لگاتی ہو؟ یہاں تو رنگ گورا کرنا ایک عذاب ہے، میں نے پھر پوچھا تو کہنے لگی صبح پانچ بجے اٹھتی ہوں پھر بچوں کا لنچ اور ناشتہ بنا کر انہیں بس سٹاپ پر چھوڑ آتی ہوں۔ واپس آکر گھر کی صفائی کرتی ہوں اور کپڑے دھوتی ہوں۔ شوہر فوج میں ہے اس لئے اس کے آنے جانے کے کوئی اوقات مقرر نہیں۔ گھر پر ہو تو گھر کے کاموں میں کسی حد تک مدد کر دیتا ہے۔ مثلاً فرش پر ٹائلیں اسی نے لگائی تھیں، کبھی کبھی برتن بھی دھو دیتا ہے مگر عموماً تھکا ہوا آتا ہے اور گرم کھانا مانگتا ہے۔ اس لئے میں سارا سودا سبزی لا کر شام چھے بجے سے پہلے کھانا تیار کر لیتی ہوں تاکہ جب بھی وہ اور بچے مانگیں کھانا تازہ اور تیار ہو۔ درمیان میں وقت ملے تو اپنی کتاب پر لکھ لیتی ہوں (لارا بچوں کی کتابیں لکھتی ہے اور مجھ سے دوستی بھی اسی سلسلے میں ہوئی تھی)۔ اور ہاں اس نے پھر سے کہا، ہمارے ہاں رنگ کو سانولا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر قلندر محمود کی روحانی سائنس

اب تو مجھے بھی کھوج لگ گئی۔ کوئی کجی کمی نکلے تو اسے نیچا دکھاؤں۔ اپنے معاشرے کی کرامات بتاؤں۔ پوچھا ماں باپ کا کچھ پتا ہے تمہیں کہاں ہیں؟ یا اولڈ ہوم میں بھیج دیے؟

بولی کہ باپ بوڑھا اور کمزور ہے۔ سات گھنٹے کی دوری پر رہتا ہے۔ ایک ہفتے میں کار چلا کر جاتی ہوں اور اس کا کھانا پکاتی ہوں اور ایک ہفتے بہن اس کا اتا پتہ معلوم کرتی ہے۔

پھر پیگی، جینیفر، میری، جل سب سے ہی میں نے یہ سوال پوچھے اور ملتے جلتے جواب ملے۔ تین تو باقاعدہ پورا وقت نوکری کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ بچے پال رہی تھیں۔ اور دو بے حیائیں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھیں بجائے شادی کرنے کے اور اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی پال رہی تھیں۔ توبہ توبہ۔ میں نے انٹرنیٹ بند کیا اور پڑوسن کی طرف چل دی، بہت اچھی عورت ہے، ابھی اس کی ساس اس کے گھر قیام کر کے گئی تھی، میں ذرا پتہ تو کرتی کہ کیا نئی تازی خبر ہے۔ اس کے گھر اور میرے گھر ایک ہی عورت صفائی کرتی اور کپڑے دھوتی ہے، اور ابھی مجھے کسی طرح فارغ وقت بھی تو کاٹنا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 50 posts and counting.See all posts by maryam-nasim

One thought on “میری فرنگن دوست لارا

  • 12-02-2017 at 9:33 am
    Permalink

    جب اتنا کرید کر بھی کچھ نہ ملا تو آخر میں میں نے ترپ کا پتہ نکالا اور اسے پوچھا، سور تو تم کھاتی ہی ہوگی اور شراب بھی پیتی ہو گی۔ کہنے لگی شراب تو بہت اعتدال میں پیتی ہوں کیونکہ گھر کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے ہاں البتہ سور ہم سب بہت شوق سے کھاتے ہیں، اس کو میں ایک خاص کرکرے انداز میں پکاتی ہوں جو سب کو بہت پسند ہے۔ دل کو یک گونہ اطمینان ہوا کہ ٹھکانا اس کا جہنم ہی ہے۔ خنزییر کھانے والی جہنمی بے راہ رو خاتون۔

Comments are closed.