حنا شاہنواز قتل: ’رشتے داروں کا صلح کے لیے دباؤ‘


\"\"کوہاٹ میں ایک غیر سرکاری ادارے میں کام کرنے والی خاتون حنا شاہنواز کے قتل کے بعد ان کی بہنوں کو مختلف ذرائع سے یہ کہا جا رہا ہے کہ صلح کر لی جائے۔ مقامی پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر پولیس تعینات کر دی ہے۔ حنا شاہنواز کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کے رشتہ دار مختلف لوگوں کے ذریعے یہ پیغام بھجوا رہے ہیں کہ صلح کر لی جائے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ملزمان سے قریبی رشتہ داری کی وجہ سے خاندان کے اندر سے یہ دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایک قریبی رشتہ دار کے مطابق صلح کے لیے کوششیں کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ ابھی تو خون بھی خشک نہیں ہوا اور یہ لوگ صلح کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر جاوید اقبال نے بتایا کہ انھیں اس طرح کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد انھوں نے حنا شاہ نواز کے گھر والوں کو مکمل تحفظ فراہم کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں ایک خاتون حنا شاہنواز ایک غیر سرکاری ادارے میں کام کرتی تھیں اور پولیس کے پاس درج رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں ان کے رشتہ دار نے چھ فروری کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔ ان کے قتل کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ خاتون کے رشتہ دار ان سے شادی کے خواہشمند تھے اور لڑکی کے انکار پر رشتہ دار مشتعل ہو گیا تھا اور فائرنگ کر کے حنا شاہنواز کو قتل کر دیا تھا۔ پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس افسرجاوید اقبال نے بتایا کہ حنا شاہنواز کی بہن اور بھابھی سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ دارالامان منتقل ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انتظامات کر دیے جائیں گے لیکن ان خواتین نے اپنے مکان میں رہنے کو ترجیح دی جس کے بعد ان کے لیے سکیورٹی کے انتظامات ان کے مکان پر ہی کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور جلد اس بارے میں پیش رفت ہوگی۔

سول سوسائٹی کے فعال رکن قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ غیرت کے نام پر ہی قتل ہے اور اس کے لیے اب ان خواتین پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ عدالت سے باہر اس کا فیصلہ کیا جائے۔

حنا شاہ نواز کی عمر 27 برس تھی اور انھیں چند روز پہلے کوہاٹ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور استرزیی کے علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔ حنا شاہنواز کی بہن فرحین شاہ کے مطابق ان کی بہن ایک غیر سرکاری ادارے میں کام کرتی تھی اور ان کے ایک رشتہ دار نے ان کی بہن کو نوکری کرنے سے منع کیا جس پر دونوں میں تکرار ہوئی اور اس دوران ان کے رشتہ دار اشتعال میں آ گئے اور ان کی بہن کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔