عمران خان کے چند حیرت انگیز کارنامے


 \"\"سب کو پتہ ہے پاکستان میں شروع سے فوج اور ایجنسیاں ہی حکومت کررہی ہیں۔ کبھی خود براہ راست اور کبھی اپنے مرضی کے بندوں کے ساتھ۔ لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ \”فوج کا ایک بندہ\” عمران خان چار سال سے سڑکوں پر خجل ہو رہا ہے۔ سب کو پتہ ہے یہودی پوری دنیا کی دولت، طاقت اور میڈیا کے مالک ہیں لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ اتنے امیر طاقت ور یہودیوں کا ایجنٹ عمران خان سو سو روپے مانگ رہا ہے اور شکستیں کھا رہا ہے۔ یہ بھی سب ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان تحریک طالبان کا نمائندہ ہے۔

پاکستانی فوجی ، یہودی اور تحریک طالبان تینوں آپس میں سخت دشمن ہیں لیکن دنیا کا سب سے عقلمند چالاک ہوشیار شاطر عیار ہے عمران خان جو ان تینوں دشمنوں کا بیک وقت بندہ، ایجنٹ اور نمائندہ ہے۔ تینوں کے لئے کام کر رہا ہے اور کسی کو شک بھی نہیں ہونے دے رہا۔ اس طرح عمران خان دنیا کا واحد شخص ہے جس نے پاک فوج یہودی اور تحریک طالبان کو ایک پیج پر جمع کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے عمران خان پاکستان خان اور طالبان خان نہیں بلکہ دنیا خان اور انٹرنیشنل خان ہے۔ ظالمو قدر کرو، ایسے جینیئس بندے کی جو ابھی اتنا بڑا کارنامہ انجام دے رہا ہے ۔ اگر حکومت میں آ گیا تو پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنادے گا۔

سوشل میڈیا پر پانچ سات سال کے تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضل الرحمان اور ان کے پیروکاروں کی عمران خان سے نفرت کی ایک ہی وجہ سے ہے اور وہ \”یہودی ایجنٹ\” ہے۔ لیکن کسی کے پاس اس الزام کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ بس فضل الرحمان نے کہہ دیا تو اس کے فالورز نے بھی بغیر سوچے سمجھے رٹا لگا لیا۔ فضل الرحمان کے پیروکار جب کسی سوال کا جواب دلیل کی بجائے \”عمران خان یہودی ایجنٹ ہے\” کے الزام سے دیتے ہیں تو اسی وقت پتہ چل جاتا ہے کہ یہ عقل سے کس قدر عاری ہیں اور اللہ نے انہیں جو دماغ کی نعمت دی ہے وہ اس سے کام لینے کی بجائے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ انہیں صرف اتنا پتہ ہے جتنا فضل الرحمان انہیں بتاتا ہے۔ اور آپ سب کو تو پتہ ہے رٹا لگانے کے لئے عقل کی ضرورت نہیں ہوتی ان نادانوں سے کوئی پوچھے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی اس کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔ وہ ایک ناکام شخص ہے۔ اکیلا رہ گیا ہے۔ بدتمیز ہے۔ ہر وقت چندہ مانگتا رہتا ہے۔ تو جب عمران کے پلے کچھ بھی نہیں ہے تو دنیا کی تمام طاقت دولت اور میڈیا کے مالک یہودیوں نے پاکستان میں اپنی تہذیب پھیلانے کا پرمٹ ایک ناکام شخص کو کیوں دے دیا ؟ اپنا ایجنٹ ایک بدتمیز کو کیوں بنایا ہے؟ سوچنے کی بات ہے!

اسی بارے میں: ۔  حقیقت پسندی ہی ترقی کا راستہ ہے

اپنی تہذیب اور کلچر کے فروغ کا ذمہ ایک ایسے شخص کو کیوں دے دیا جو خود لوگوں سے چندہ مانگتا ہے، جبکہ تہذیب اور کلچر کا فروغ تو پیسے سے ہوتا ہے، میڈیا کو کنٹرول کر کے ہوتا ہے۔ کسی چرب زبان اور بااخلاق بندے کو ایجنٹ بنانے سے ہوتا ہے۔ سیاسی طور پر اکے لئے نہیں بلکہ کسی ایسے بندے کو ایجنٹ بنانے سے ہوتا ہے جسے پوری قوم سیاست کا امام مانتی ہو۔ اگر عمران خان واقعی یہودی ایجنٹ ہے تو پھر یہودیوں سے زیادہ بیوقوف و پاگل قوم کوئی نہیں ہے، جسے اپنے کلچر کے فروغ کے لئے عمران جیسا ناکام شخص ہی ملا ہے۔ عمران یہودی ایجنٹ ہے تو پھر لگتا ہے یہودیوں کا برا وقت شروع ہو گیا ہے۔ یہ گویا یہودیوں کے زوال کی نشانی ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ عمران خان نے سیاست حاضرہ کو خطرے سے دوچار کریا ہے۔ سیاست حاضرہ کیا ہے ؟

اقتدار اور طاقت کا ارتکاز۔ بے پناہ دولت کا حصول تاکہ حکومت پائی جا سکے اور حکومت پا کر بے پناہ دولت کا حصول تاکہ اگلی حکومت بنانے کا انتظام کیا جاسکے، اختیارات کا ارتکاز، پولیس، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو اپنی مٹھی میں دبائے رکھنا تاکہ اپنا دھونس دبدبہ برقرار رکھا جا سکے، مخالفین کو زچ کیا جا سکے اور اپنے سارے الو سیدھے کر کے عوام کو اپنا غلام بنایا جا سکے۔

عمران خان کی جنگ اس سیاست حاضرہ کے خلاف ہے اور مولانا فضل الرحمن اسی سیاست کا ایک مہرہ ہیں۔ اور اسی شطرنج کے باقی مہروں کو جتنی تکلیف عمران سے ہے اتنی ہی تکلیف مولانا صاحب کو بھی ہے۔ چونکہ مولانا مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں اس لئے عمران خان کو نیچا دکھانے کیلئے علمائے یہود کی طرح وہ مذہب کو استعمال کررہے ہیں ۔ جس طرح علما یہود کو خدائے لم یزل نے تاقیامت رسوا کیا۔ مولانا فضل الرحمن کی رسوائی بھی سامنے کی دیوار پر لکھا ہوا وہ سچ ہے جسے اگر کوئی نہیں پڑھ سکتا تو اس کے اندھے مقلدین نہیں پڑھ سکتے وگرنہ مولانا خود بھی اپنے انجام سے اچھی طرح باخبر ہیں۔ تبھی تو وہ اپنے اکابرین کے نظریے سے ہٹ کر اکے لئے اپنی پارٹی کا بیڑہ غرق کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے باقی علمائے  کرام میں بےچینی بڑھتی جارہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  تہذیبی ورثے سے انحراف

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد عبدہ کی دیگر تحریریں
محمد عبدہ کی دیگر تحریریں