عمران خان اتنا بُرا کیوں ہے؟


\"\"مجھے یقین ہے کہ پاکستانی بدعنوان سیاست دان اور ان کی موجودہ اولاد کبھی بھی راہِ راست پہ نہیں آ سکتے، ہاں شاید آنے والی نسلوں میں کوئی اس جُرم سے تائب ھو جائے!

اور اس ناپسندیدہ یقین کی کئی وجوہات ہیں۔ لیکن ایک وجہ بہت اھم ہے۔ اور وہ ہے \’پاکستانی سیاستدانوں کا ایمان کی حد تک یقین رکھنا کہ عوام بھی کسی نہ کسی سطح پہ ہمارے جیسا ہی کردار رکھتے ہیں۔\”

اس وجہ کو سمجھنے کے لئے ارسطو کی طرح ماہر فلسفہ یا البیرونی کی طرح ماہر ریاضی ھونا ضروری نہیں بلکہ عام فہم سی بات ہے کہ انہی حکمرانوں نے عوام کو اس اخلاقی و معاشرتی پستی میں دھکیلا اور عادی بنایا ہے۔

لیکن !

یہ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ کیا معاشرے کا اجتماعی ضمیر و شعور اس پستی اور ذلت کو قبول کر چکا؟

بظاہر تو گزشتہ پچیس برس میں عوام کا بدعنوان سیاسی راہنماوں کو انتخاب کرنا اس بات کی تائید کرتا ہے کہ عوام بھی بدعنوانی، رشوت، لوٹ کھسوٹ کو قبول کر چکے ہیں۔

لیکن ٹھہریئے ابھی ایک اور پہلو بھی ہے

کیا عوام کے پاس متبادل \”آپشن \” تھا ؟ یقیناً جواب نہیں میں ہے۔ ہاں صرف گزشتہ انتخابات میں \’عمران خان\’ کی صورت میں متبادل آپشن تھا۔

پھر سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ عوام کی اکثریت نے اسے کیوں مسترد کیا؟

اس سوال کی بیسیوں وجوہات ہیں ___

لیکن میں صرف ایک عام سی مثال سے آپ کو سمجھاؤں گا کہ \” ھم سب جانتے ہیں کہ نشے کا عادی انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ نشہ مضرِ صحت ہے لیکن وہ چھوڑتا نہیں اور جب کوئی ہمدرد اس کی مدد کرنا چاہئے وہ اُس سے دور بھاگتا ہے، اگر زبردستی اُس کا علاج شروع کر دیا جائے تو دن یا مہینے نہیں، سال لگ جاتے ہیں اسے معمول کی زندگی اپناتے ھوئے۔  کبھی سوچا ایسا کیوں ھوتا ہے؟ کیونکہ نشہ آور خوراک اس کے جسم کی ضرورت بن چکی ھوتی ہے ۔ کسی طبیب سے تصدیق کر لیجئے گا !

اسی بارے میں: ۔  سیکولرازم، مذھب اور انسان

بلکل اسی طرح !

سفارش، رشوت، دھونس دھاندلی و بدعنوانی ہماری ضرورت بن چکی ہیں کیونکہ ان کے بنا کوئی کام نہیں ہوتا! سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ملازمین ہوں یا ہسپتالوں کے طبیب یا کھیلوں میں منتخب کرنے والے ممتحن یا مقابلے کے امتحانات کے نتائج بنانے والے اساتذہ! ان سب کی اکثریت \”کچھ لے کچھ دے\” کی پالیسی پہ گامزن ہے۔ بھلا ایسے حالات میں عام عادمی کیسے بچ سکتا ہے۔ اسی لئے عام آدمی چاہے وہ سبزی فروش ھو یا کپڑا بیچنے والا، وہ آئس کریم بنانے والا ھو یا رنگ برنگے جوس بیچنے والا ۔۔۔ کسی نہ کسی حد تک وہ جعل سازی، ناپ تول میں ڈنڈی مارتا نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں عمران خان قابل ذکر کامیابی نہ حاصل کر سکا۔

اب اصل موضوع کی طرف آتا ھوں کہ عمران اتنا بُرا کیوں ہے؟ سبھی سیاستدان اس کے خلاف تقریباً یک آواز کیوں ہیں؟

اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے کہ عمران وہ واحد شخص ہے جو دو دھاری تلوار اُٹھائے برسوں سے ایک طرف سیاستدانوں و حکمرانوں سے لڑ رھا ہے تو دوسری طرف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بیٹھے بدعنوان کرداروں سے لڑ رہا ہے۔ بات یہیں ختم ھو جاتی تو پھر بھی عمران کا گناہ شاید قابل معافی تھا لیکن اس نے عوام کے شعور کا علاج بھی شروع کر رکھا ہے اور میرا خیال ہے موجودہ دور کے سیاستدانوں کی اکثریت کے نزدیک عمران خان کا یہ جُرم ناقابل معافی ہے!

یہی وجہ ہے کہ ہر اخبار، ہر ٹی وی چینل پہ بدعنوانی کے نشے کے عادی سیاستدان اور ان کے کارندے اس کی کردار کشی کرتے نظر آتے ہیں!

اسی بارے میں: ۔  کاش عمران خان دعوے نہ کرتے

سبھی جانتے مریم نواز اور بلاول بھٹو ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ بدعنوان والدین کی اولاد! اور حیرت اس بات پہ ہے کہ مریم و بلاول اس ملک پہ حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں کیونکہ ابھی تک انہیں یقین ہے کہ ھمارے والدین نے اس قوم کو جس نشے کا عادی بنایا ہے اس نے ان کے عقل و شعور پہ بُرائی اور بھلائی میں فرق نہ کرنے دینے والا پردہ ڈال دیا ہے

لیکن فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ قوموں کی برادری میں ہم نے انہی بدبودار سیاستدانوں کو اپنا نمائندہ بنانا ہے یا عمران خان کو!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آصف سلیم کی دیگر تحریریں
آصف سلیم کی دیگر تحریریں