پھول اٹھاتے ہیں جنازوں کے اٹھانے والے


naseem kausar

 کہا جاتا ہے کہ جس قوم کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں، وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ مجھے آج اس قول کی تجدید کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ بیان ایک حقیقت ہے مگر پوری حقیقت شاید کچھ یوں ہے۔ جس قوم کے کھیل و فنون لطیفہ کی سرگرمیوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال اور جیل خانے ویران ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ قوم پاکستان کی چٹانوں میں بسیرا کیے ہوئے ہو تو پھر ہسپتالوں اور جیل خانوں کے ساتھ ساتھ بارود کی جیکٹیں اور بندوق کی نالیاں بھی گلزار بن کر مشک بوہو سکتی ہیں۔

ایک انگریز نے اپنے کالم میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا جس شخص کو مناسب معاش،بے فکری سے بھرپور پرکشش زندگی اورذہنی آسودگی کے لیے مناسب تفریع میسر ہو وہ کسی الوہی جنت کی آرزو میں کیونکر اپنے جسم سے بارود باندھے گا؟ پندرہ سے بیس سال کے ہمارے بچے جو آج حوروں کے لالچ میں خود کو اڑانے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب تفریح کے مواقع ملیں، ان کی توانائیوں کو کھیل کے میدانوں، موسیقی، ادب اور مصوری جیسے فنون لطیفہ میں کھپایا جائے تو نتائج شاید مختلف ہوں۔ لیکن ہم نے فحاشی ، بداخلاقی اور بدعت کے نعرے لگا کر تمام ثقافتی سرگرمیوں کا گلہ گھونٹ دیا اور اذہان کو تنزل اور تخریب کاری کی پاتال میں دھکیل دیا۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ ڈرامے و فلم کا ہمارا شاندار ماضی…. بسنت اور ویلنٹائن کی شاندار مقبولیت اس حقیقت کی چغلی کھاتی ہے کہ پاکستان کا عام شہری کتنا لبرل، جدت پسند اور تسکین کا متلاشی ہے جبکہ فحاشی و بے حیائی اورکھوکھلی روایات کی شورش جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ یہ ہمارے رحجانات، خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔ بلکہ یہ ہم پر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔۔

اس مسلط کردہ جبر کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ لوگ ڈپریشن، مایوسی اور شدت پسندی کا شکار ہیں تو کس منہ سے پوچھتے ہو کہ ایسا کیوں ہے؟ کھوکھلی اخلاقیات کی بندشوں میں جکڑے اذہان میں اب تک کوئی انقلاب تو برپا نہیں ہوا البتہ منافقت خوب پھلی پھولی ہے۔ یہ منافقت بھی مجبوری ہے کیونکہ سیدھا راستہ بند ہے تو چور دروازے ڈھونڈنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ قوم نے کرکٹ میں زندگی کی رمق ڈھونڈی، دشمنوں نے وہ چھین لی۔ آج کھیل کے میدان بیابان کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ نوجوانوں نے بسنت میں پناہ لینا چاہی تو فتویٰ آیا، یہ ہندوانہ طور طریقے ہیں۔ فحاشی ہے۔ حالانکہ بسنت خالص پنجاب دھرتی کا تہوار ہے۔ موسیقی، فلم اور ڈرامہ کی طرف متوجہ ہوں تو ایک اجڑا چمن ہے جو ضیا الحق نامی ایک تیرگی پہ نوحہ خواں ہے اور ہمارا ٹیلنٹ سرحد پار دھکے کھانے پر مجبور ہے۔ اب ویلنٹائن ڈے جیسے بے ضرر تہوار کے معاملے میں بھی وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ پابندی کی دو ہی وجوہات سمجھ میں آ رہی ہیں۔ یا محبت غیر اخلاقی ہے یا یہ تہوار غیر ملکی ہے۔ محبت غیر اخلاقی ہے تو پرند، چرند سب کو مار دیجئے صرف انسانوں پر ہی یہ ستم کیوں؟ حیوان بے شعور ہیں۔ اس لیے ان پہ کوئی قدغن نہیں جبکہ انسان باشعور ہیں، اس لیے وہ آزاد نہیں چھوڑے جا سکتے۔ آسمانی حوروں کے لالچ میں انسانیت کا کاروبار کرنا اخلاقی ہے لیکن اسلام آباد میں بسنے والی مٹی کی بنی کسی حور کو پھول پیش کرنا جرم ٹھہرا۔یہ کیسا فلسفہ ہے؟

غیر ملکی تہوار اور معاشروں کی محدود ثقافت کا فلسفہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس ہو شربا پھیلاﺅ کے تناظر میں کار گر نہیں رہا۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والا واقعہ اب دوسرے کونے میں بسنے والے نفوس پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مشرق میں ہونے والے واقعات پلک جھپکنے میں مغرب میں ملاحظہ کیے جا چکے ہوتے ہیں۔ ایک خطے کے نظریات اور روایات دوسرے خطے تک پہنچ رہی ہیں۔ یہ ایک طرح کا ناگزیر اختلاط ہے۔ انسانی شعور ارد گرد کے ماحول پرنہ صرف اپنے اثرات چھوڑتا ہے بلکہ ارد گرد سے اثرات قبول بھی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی دو قوموں کا اختلاط ہوا، باہمی اثرات قبول کرنے اور اپنانے کا یہ بہاو¿ ہمیشہ دو طرفہ تھا۔ یہی عمل اب عالمی سطح پر وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ دنیا ایک عالمی گاﺅں یا گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ متنوع عالمی ثقافتیں باہمی نفوز کے ذریعے ایک جیسی شکل اختیارکر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم توقع کرتے ہیں کہ ہماری پرانی روایات کو زک نہیں پہنچے گی اور ہم جدیدت کا میٹھا پھل چکھنے کے باوجود زور بازو سے عالمی تہذیب کے سیلاب کو اپنے دروازے سے باہر روک سکیں گے تو جناب والاشاید یہ ممکن نہیں۔ بالفرض پھر بھی اگر ہم اپنی نسلوں کو اس عالمی تہذیب اورتہواروں کو روکنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ آپ ایک بہتر، متوازن اور جانفشانی سے جدید چیلنجز سے مقابلہ کرتا ہوا متبادل پیش کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

نسیم کوثر

نسیم کوثر سائنس کی استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سماجی و سائنسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں شاعری، موسیقی اور فکشن سے لگاؤ ہے۔ موصوفہ کو گھڑ سواری اور نشانے بازی کا بھی شوق ہے۔

naseem has 8 posts and counting.See all posts by naseem

4 thoughts on “پھول اٹھاتے ہیں جنازوں کے اٹھانے والے

  • 12-02-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    Very rational analysis. When you block the path of running water, it automatically creates side ways. Let us be open minded and enjoy.

  • 13-02-2016 at 11:02 am
    Permalink

    بہت ہی خوبصورت تحریر ……

  • 13-02-2016 at 6:23 pm
    Permalink

    اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے واقعات ہم پر اثر انداز ہوتا ہے ،تو ہم پر ٹریفک قوانین پر عمل ،،خوراک میں ملاوٹ نہ کرنا،اور تعلیم میدانوں میں ترقی،کیوں اثر انداز نہیں ہو رہی ہے،،شکریہ

  • 13-02-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    1971ء میں پاکستان دو لخت ہونے کے بعد بھی ہم نے کوئی سبق نا سیکھا ،ذوالفقار علی بھٹو نے نئے بیانیے کے ساتھ سندھی پنجابی بلوچ پختون کے علاوہ کشمیری علاقائی ثقافتوں کی خوب حوصلہ افزائیی کی ،پاکستانی عوام پرانے زخموں کو بھول کر ملک کی تعمیر نو میں لگ گئے ،نسلی لسانی قوتیں قومی سیاست کا حصہ بننا شروع ہوگئی ،ہمارے ریاستی ادارے جو برٹش سامراج کے دور سے ہی نیو کالونیل غلامی کا حصہ بنے ہوئے تھے اور غلامانہ انداز و اطوار کو ہی سٹیٹس سمبل بنائے ہوئے تھے ان کو کلاسیکل غلامی میں دڑاریں نظر آنا شروع ہوگئی ،سامراجی آقا نے کچھ خوف دلا کر ان کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف منظم کیا ،قرضہ معاف سرمایہ داری موقع پرست تاجر طبقہ اور پسماندہ ملایت نے ریاستی اداروں کے ساتھ کھٹ جوڑ کرکے پاکستان کے نئے بیانیے کا راستہ پرتشدد طریقے سے روک کر ایک طرف پرائیوٹائزیشن کا دھنڈورا پیٹا گیا اور دوسری طرف پسماندہ غلامانہ ملائیت کو ہجروں سے نکال کر سیاست میں لایا گیا جس نے دو قومی نظریے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،ذوالفقار علی بھٹو نے جس معاشی انصاف کی بات مزدوروں کسانوں چھوٹے صنعت کاروں کے دماغوں میں ڈالی تھی ،اگر وہ نظریہ پروموٹ کرتا تو آج ہم اپنی ثقافتوں سے جڑی زرعی اور صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی علاقائی ثقافتوں کی باہمی آمیزیشوں کے حوالے سے خطہ کے اندر منفرد اور اعلیٰ مقام پر ہوتے ۔آج ہم کارپوریٹ سرمایہ کاری سے جڑے ہوئے نیو ائیر ویلنٹائنز ڈے کو مغربی سرمایہ دارانہ تاریخ کا حصہ سمجھتے ہوئے اخباروں ٹی وی چینلوں پر ان کے خوشی کے تہوار کی طرح مشاہدہ کر رہے ہوتے اپنی ذات کا حصہ نا سمجھتے ۔

Comments are closed.