انسانی سائیکی۔۔۔ روح یا ذہن ؟


انسانی تاریخ میں ایک وہ زمانہ تھا جب انسانی سائیکیHUMAN PSYCHE کا ترجمہ انسانی روح HUMAN SOUL کیا جاتا تھا۔ روح کو ماننے والوں کے دو گروہ تھے۔

 پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہے جو عالمِ ارواح میں رہتی ہے۔ وہ روح رحمِ مادر میں بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہے‘ ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے وقت جسم سے جدا ہو کر قیامت کا انتظار کرتی ہے۔ قیامت کے دن اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اگر اس شخص نے اپنی زندگی میں نیکیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جنت میں چلی جائے گی اور اگر اس شخص نے برائیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جہنم میں چلی جائے گی۔ بہت سے مسلمان‘ عیسائی اور یہودی آج بھی انسانی روح‘ یومِ حساب اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔

 دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ انسانی روح بار بار اس دنیا میں آتی ہے اور پچھلے جنم کے اعمال کی بنیاد پر کسی جانور یا انسان کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص جنم جنم کے ریاض کے بعد نروان حاصل کر لیتا ہے تو اس کی روح روحِ کل کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آتی۔ بہت سے بدھ ازم اور ہندو ازم کے پیروکار آج بھی اواگون پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ ایک ابدی زندگی پائیں۔

 پچھلی چند صدیوں میں ایک تیسرا نظریہ مقبول ہو رہا ہے۔ یہ ایک سیکولر اور سائنسی نظریہ ہے۔اس نظریہ کے ماننے والے انسانی سائیکیPSYCHE کا ترجمہ روحSOUL  نہیں ذہن MIND کرتے ہیں۔ اس ذہن کا تعلق انسانی دماغ HUMAN BRAIN اور شخصیتHUMAN PERSONALITY  سے ہے ۔ یہ ذہن انسانی جسم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ مر جاتا ہے۔انسانی ذہن کا یہ تصور پچھلی دو صدیوں کے ان ڈاکٹروں اور نفسیات دانوں کی تخلیقات کا نتیجہ ہے جو ذہنی بیماریوں کا علاج اور نفسیاتی مسائل کا حل تلاش کرنے کو کوشش کرتے رہے ہیں۔\"\"

اسی بارے میں: ۔  جمعے کے خطبے سے اسلام آباد کی ناکہ بندی تک کا سفر

 وہ طالبعلم جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سائیکوجیPSYCHOLOGY ‘ سائیکاٹریPSYCHIATRY اور سائیکو تھیراپی PSYCHOTHERAPY کے علوم کا مطالعہ کرتے ہین ان کی اکثریت انسانی سائیکی کا ترجمہ انسانی ذہن کرتی ہے۔ انسانی نفسیات کے ماہرین نے بیسویں صدی میں نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کو‘ جن میں شائزووفرینیا SCHIZOPHRENIA ڈیپریشن DEPRESSION اور بائی پولر ڈس آرڈرBIPOLAR DISORDER  بھی شامل ہیں‘ سمجھنے اور ان کا علاج کرنے کے لیے جو ماڈل تیار کیا ہے جو بائیو سائیکو سوشل ماڈل BIO-PSYCHO-SOCIAL MODELکہلاتا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق انسان کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے کے لیے تین طرح کے عوامل اہم ہیں۔

۱۔ حیاتیاتی عوامل۔۔۔BIOLOGICAL FACTORSجن میں موروثی عوامل شامل ہیں جو بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں. ۔ بعض بچے بعض ذہنی امراض وراثت میں پاتے ہیں۔

۲۔ نفسیاتی عوامل۔ PSYCHOLOGICAL FACTORSنفسیاتی طور پر غیر صحتمند خاندانوں میں پلنے والے بچوں کی نشوونما میں شامل تلخ تجربات اور نفسیاتی دھچکے مستقبل میں ان کی شخصیت کو منفی انداز میں متاثر کرتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتے ہیں

۳۔ سماجی عوامل۔SOCIAL FACTORS خاندانی مسائل‘ معاشرے میں تشدد کے واقعات اور ہجرت کے تلخ تجربات ان عوامل میں شامل ہیں۔

جب ماہرینِ نفسیات مریضوں کی تشخیص کرتے ہیں تو وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مریض کے مسائل میں حیاتیاتی‘ نفسیاتی اور سماجی عومل کی اہمیت کیا ہے۔ اس تشخیص کے بعد وہ ان کا علاج تجویز کرتے ہیں جس میں ادویہMEDICATIONS ‘  تھیراپیTHERAPY اور ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم EDUCATION شامل ہیں۔

بعض لوگ نفسیاتی مریضوں کو روحانی پیشوائوں کے پاس لے جاتے ہیں جو ان کا گنڈا تعویز سے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ ان نفسیاتی مسائل کو روحانی مسائل سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  فرائڈے ٹائمز اور مزاح

مجھے یاد ہے چند سال پیشتر پاکستان میں مقیم میری ممانی شائزوفرینیاSCHIZOPHRENIA کی ذہنی بیماری کا شکار ہو گئیں۔ جب وہ ایک ماہر نفسیاتPSYCHIATRIST سے ملیں تو انہوں نے انہیں موڈیکیٹ انجکشنMODECATE INJECTION اور تھیریپیTHERAPY تجویز کیا۔ میرے ماموں انہیں ایک روحانی عامل کے پاس بھی لے گئے۔ میری ممانی آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگیں۔ بعض رشتہ داروں کا خیال تھا کہ وہ سائیکاٹرسٹPSYCHIATRIST کے علاج کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں اور بعض کا خیال تھا کہ وہ روحانی عامل کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔ پھر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ پاکستان مٰیں موڈیکیٹ انجکشن ملنے بند ہو گئے اور میری ممانی کی طبیعت بد سے بدتر ہونے لگی۔ ان کو شائزوفرینیا کےدورے پڑنے لگے اگرچہ وہ روحانی عامل کے پاس باقاعدہ جا رہی تھیں۔ جب میرے ماموں بہت پریشان ہوئے تو میں نے کینیڈا سے ممانی کے لیے موڈیکیٹ انجکشن بھیجے۔ جب وہ انجکشن لگوانے لگیں تو دوبارہ صحتمند ہو گئیں۔

اکیسویں صدی میں جب ہم ساری دنیا کے لوگوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں تین گروہ دکھائی دیتے ہیں۔۔۔

ایک گروہ روح اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے

دوسرا گروہ روح اور اواگوں پر ایمان رکھتا ہے

 تیسرا گروہ انسانی ذہن کو مانتا ہے اور حیات بعد الموت پر یقین نہین رکھتا۔

 یہ سوال ہم سب کے لیے اہم ہے کہ نفسیاتی مسائل اور روحانی مسائل میں کیا فرق ہے اور کسی معاشرے میں ماہرینِ نفسیات کا کیا کردار ہے؟۔وہ لوگ جو شائزوفرینیا ‘ بائی پولر ڈس آرڈر اور ڈیپریشن جیسے نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض کا شکار ہیں انہین کس قسم کے علاج کی ضروت ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “انسانی سائیکی۔۔۔ روح یا ذہن ؟

  • 13-02-2017 at 3:54 pm
    Permalink

    Dr. Khalid Sohail mentions that for psychological disorders and problems, the cure needs to be searched in medication rather than spiritual exercises. From a religious perspective, using the material means, experimentally proven knowledge and medication is not problematic at all. Religion concerns not just with some psychological and spiritual medication and meditation. It is concerned with the question of why life and for what purpose. The religious answer based on historically transmitted knowledge is that we are created by the Creator and Who will reward us justly in afterlife. The afterlife will actualize the cause and effect in ethical matters and establish absolute justice which we desire for every action and intention. To live this life, one is again and again reminded of the blessings of Allah in the form of matter and mind which we use for our comforts and cures. After using the matter and mind which exists not because of our efforts, how unethical it is that we remain not only thankless, but negate the one Who is to be thanked!

Comments are closed.