پنجاب یونیورسٹی میں بڑھتا ہوا تشد د


\"\" پچھلے تین دنوں میں مسلسل افسوسناک خبروں سے واسطہ رہا ہے۔ ہوا یوں کہ کراچی سے ممتاز سیاستدان اور ادیب عبدالعلی غورغشتی کی اچانک وفات کی خبر آئی۔ اگلی صبح اسلامی جمعیت طلبا نامی تنظیم کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کی حدود میں پشتون و بلوچ طلبا پر تشدد کے واقعے کی افسوس ناک خبر آئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق ذمہ دار کارکن ایمل سالنگ کی بابت واقعے کی تفصیل کا پتہ چلا۔ جماعت ِ اسلامی کی ذیلی طلبا تنظیم یونیورسٹی کے قوانین کو عرصہ دراز سے چیلنج کرتی آرہی ہے اور اپنے خود ساختہ قوانین کے نفاذ پر زور دیتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں کو ایجوکیشن کے باوجود اسلامی جمعیت طلبا نے طلبا و طالبات کے ایک ساتھ بیٹھنے یا بات کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ فروری کے شروع میں ایک پشتون طالب علم نے اس نام نہاد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلاس کے باہر اپنی خاتون کلاس فیلو سے بات چیت کی۔ اسی وقت مذکورہ تنظیم کے اراکین نے اس نہتے طالب علم پر تشدد کر کے اس کا بھرکس نکال دیا۔ چند دن بعد یعنی دس فروری کو جمعہ کی نماز کے بعد پشتون طلبا مسجد سے نکلے ہی تھے کہ مذکورہ تنظیم کے درجنوں مسلح کارکنوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھر سے پشتون طلبا پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب طلبا زخمی ہو گئے۔ جن میں دو طلبا کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ان دو طالب علموں میں ایک بلوچ اور دوسرا پشتون ہے۔ واقعے کے اگلے دن ہاسٹل نمبر چار میں پشتون طلبا احتجاج پر بیٹھ گئے۔ تاکہ اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچائی جا سکے مگر یہاں پر بھی مذکورہ تنظیم نے اپنی روش نہ چھوڑی اور صحافیوں کو کوریج کی اجازت نہ دی۔ 12 فروری کو پشتون و بلوچ طلبا نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

 پنجاب یونیورسٹی میں کونسل چئیرمین مزمل خان کے مطابق ” پرتشدد واقعات کی یہ پہلی مثال نہیں ہے بلکہ مذکورہ تنظیم ہر سال بالخصوص امتحانات کے دوران تشدد پر اتر آتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبا  کے نشانے پر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے نہیں ہیں ، بلکہ دیگر صوبوں سے آئے ہوئے مہمان طلبا ہیں۔ جن میں بالعموم سندھی ، بلوچی اور بالخصوص پشتون طلبا کے خلاف مذکورہ تنظیم کی طرف سے نفرت آمیز رویہ اپنایا جاتا ہے۔ پچھلے سال 2016 میں اسی تنظیم کے کارکنوں نے نسلی امتیاز روا رکھتے ہوئے درجنوں پشتون طلبا پر تشدد کیا۔ جس کا نوٹس میڈیا نے بھی لیا۔ واقعے کے ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آرز بھی کاٹے گئے۔ اسی طرح یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی مذکورہ تنظیم کے خلاف پریس کانفرنس کر کے پنجاب حکومت سے تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن تاحال تنظیم کے خلاف پنجاب حکومت اور پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی جس سے انتظامیہ اور تنظیم میں ملی بھگت کے شکوک ابھرتے ہیں۔ “

درخشاں ماضی رکھنے والے ملک کے پر وقار تعلیمی ادارے کا یہ حال ہے تو ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی کیا صورت حال ہو گی؟ ملک کے اتنے بڑے تعلیمی ادارے کو کتنی غیر ذمہ داری سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک عام سیاسی تنظیم کی کار سرکار میں کھلے عام مداخلت اورانتظامی معاملات پر اس حد تک اثر انداز ہونا تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے وفاق اور پنجاب حکومت کے دعووں کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے۔ پنجاب حکومت کی پنجاب یونیورسٹی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے مجرمانہ خاموشی معنی خیز ہے۔ ایک طرف پنجاب حکومت اور یونیورسٹی آف پنجاب کی طرف سے بلوچستان کے بلوچ اور پشتون طلبا کو نشستیں آفر کی جاتی ہیں۔ واقعتا یہ اقدام لائق تحسین ہے لیکن دوسری طرف نسلی امتیاز کی بنا پر انہی مہمان طلبا پر تشدد کر کے کونسی مثال قائم کی جا رہی ہے؟ مہمان طلبا کو تحفظ دینے کی بجائے غیر سرکاری اور غیر انتظامی طور پر پر تشدد واقعات کے تدارک کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ کوششیں دونوں اطراف یعنی جماعت اسلامی اور پشتون قوم کی نمائندہ سیاسی جماعت پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے راہنماوں کی طرف سے ہوتی ہیں۔ ہر چند کہ ان کی کوششیں رنگ لے آتی ہیں اور کچھ وقت کیلئے امن کی فضا قائم ہو جاتی ہے مگر پنجاب حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مجرمان کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے حالات پھر سے پر تشدد ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جماعت ِ اسلامی اپنے ذیلی تنظیم کی کارکردگی سے بے خبر ہے یا جماعت اسلامی کی شہ پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ غرض جو بھی ہو رہا ہے، تعلیمی ادارے اور تعلیم کیلئے نقصان دہ ہے۔

 ملک بھر میں تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ماحول کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے سیاسی جدوجہد سے تعلیمی ماحول سازگار بنانا چاہئے۔ طلبا تنظیموں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں البتہ اختلافات ایک دوسرے کو سن کر، جمہوری طریقے سے ختم کئے جا نے چاہیئں۔ موثر دلیل پیش کرنے والے کے سامنے کمزور دلیل والے کو سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ کیونکہ رائے بدلنے اور رائے قائم کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ کونسل اور اسلامی جمعیت طلبا اپنے رویوں اور طرزِعمل پر نظرِ ثانی کریں۔ منفی عناصر اور منفی اعمال کو اجتماعی طور پر خود سے نفی کریں اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں۔ ” انما المومنون اخوتہ “ پر عمل کرنے میں سب کی بھلائی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان حسین شالیزئی کی دیگر تحریریں
عدنان حسین شالیزئی کی دیگر تحریریں