آئن سٹائن کی ایک اور سازش کامیاب


ramishتو آج آئن سٹائن نامی کافر کی ایک اور بات سچ ثابت ہوگئی۔ اور ہم متفق علیہ ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں باقی کافروں کی بکواس بھی سچ ثابت ہو گی کیونکہ ہمارا ایمانِ مفصل ہے کہ دنیا میں سب آسانیاں کافروں کے لیے ہیں اور جنت کی عیاشیوں پہ امت مسلمہ کا کاپی رائٹ ہے۔

آخر قدرت اتنی ناانصافی کیسی کر سکتی ہے کہ وائے فائے جیسی سہولت دینے والے کو جہنم میں بھیج دے اور خودکش حملوں کے حامی جنت پہنچائے جائیں۔ ویسے کیا ہی دلچسپ منظر ہو گا جب جہنم میں ایک کافر سینٹرل کولنگ سسٹم آن کر کے بیٹھا ہو گا۔ دوسرا کافر ہر آنے والے کو وائے فائے کا پاس ورڈ بتا رہا ہو گا اور پاس ہی ایک صاحب الگ دکان کھولے دور بین رکھے داستان سنائیں گے کہ دیکھو میں نہ کہتا تھا دنیا گول ہے۔ میری نہیں مانی…. آﺅ ، دکھاتا ہوں۔

ادھر پڑوس سے دھماکے کی آواز سنائی دے گی تو جہنم کے در و دیوار لرز اٹھیں گے ، معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلے سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی جائے گی تو علم ہو گا کہ جنت میں فرزندان توحید کے دو گروہوں کے بیچ اس بات پہ ایک بار پھر جھگڑا ہو گیا کہ خلافت پہ پہلا حق کس کا تھا؟ السابقون الاولون ایک طرف کھڑے دیکھتے رہے اور ان سے محبت کے دعوے کرنے والے خود کش حملے کرتے رہے۔ کچھ فاصلے پہ ایک صاحب آلو پیاز ٹماٹر کی ریڑھی لگائے بیٹھے تھے۔ایک طرف وہ آلو اور ٹماٹر رکھے تھے جن پہ مقدس اسما اور کلمات دریافت کئے گئے تھے اور لوگ جوق در جوق یہ معجزات خرید رہے تھے۔

اس ساری طولانی کتھا کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہمیں ڈارون سے بھرپور اتفاق ہے کہ انسان کم از کم پہلے بندر ضرور ہی رہا ہو گا جو آج بھی وہ نقل کر لیتا ہے پر عقل سے کام لینے کو توہین سمجھتا ہے۔اور جو کوئی سوال اٹھانے یا عقل سے کام لینے کا مشورہ دے اسے فوری طور پہ جہنم کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔

فرزندان توحید چونکہ انہی خیالات پہ خوش ہیں کہ ساری سائنس کی بنیاد ہمارے ابا و اجداد کی ایجادات پہ رکھی گئی تو انہیں اور چوہدری نثار علی کو ویلنٹائن ڈے کی ڈھیروں مبارک کے ساتھ ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سائنس دانوں نے کشش ثقل کی لہروں کے بارے میں آئن سٹائن کے نظریے کے شواہد معلوم کر لیے ہیں ۔ چنانچہ کافروں، ملحدین، مقبول لکھاریوں، دجالی میڈیا، یہودی ایجنٹوں اور عورت کی مظلومیت کا جھوٹا رونا رونے والوں کو آئن سٹائن کی ایک اور سازش کی کامیابی مبارک۔


Comments

FB Login Required - comments

25 thoughts on “آئن سٹائن کی ایک اور سازش کامیاب

  • 12-02-2016 at 4:54 am
    Permalink

    خیر مبارک

  • 12-02-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    لاجواب

  • 12-02-2016 at 5:28 pm
    Permalink

    السلام علیکم! علم کسی کی میراث نہیں۔ اس تھیوری کے درست ہوے پر طنزومزاح اور دوزخ جنت تک پہنچنا میرے نزدیک بجائے خود ایک غلط بات ہے۔ادریس آزاد صاحب نے اسی کو موضوع بناکر معلومات دی ہیں۔بہتر ہوتا آپ بھی یہی کام کرتیں۔بہرحال! آپ کی سوچ۔۔۔
    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=10205923373110340&set=a.2904545939620.2118114.1439663234&type=3&theater

  • 12-02-2016 at 6:39 pm
    Permalink

    محترمہ رامش فاطمہ صاحبہ
    بڑی معذرت کے ساتھ میں یہاں کچھ عرض کرونگا اگر اس پر غور فرمائیں ۔
    اوّل: آئن سٹائن ایک معروف عالم ( سائنس دان ) تھے پوری دنیا بحیثیت عالم انکی عزت کرتی ہے کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم ۔
    دوئم : کشش ثقل کا نظریہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے پیش کردیا تھا گوں قدرت کا یہ فیصلہ تھا کہ زمانے کے بدلتے حالات کے تحت اسکی تشریح کا کام آئن سٹائن سے لیا جائے گا جو الحمد لله ان سے لیا گیا اور انسانیت کی خدمت کی یہ سعادت انکے حصہ میں آئی ۔ ہم انکی ان خدمات کے ضمن میں انھیں بے حد خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
    سوئم : قرآن جس طرح اپنے ہر قاری کو وہ خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم یکساں فیضیاب کرتا ہے اسی طرح وہ کسی مسلمان کو اس بات کا پابند بھی نہیں کرتا کہ وہ علم صرف مسلمان سے ہی حاصل کرے کسی غیر مسلم سے وہ علم حاصل نہیں کرسکتا ہے ۔ اسلام کی نظر میں استاد استاد ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔
    آخر میں ایک مرتبہ پھر میں چاہونگا کہ آپ اپنی سوچ و فکر کے پیمانوں پر نظر ثانی فرمائیں اور کشادہ دلی کا ثبوت دیں یہ مت فرمائیں کہ فلاں ایسا کرتا ہے تو میں بھی اس کے جواب میں ایسا ہی کرونگی ۔

    ڈاکٹر شاہ حسین طوکیو

    • 13-02-2016 at 12:21 am
      Permalink

      ڈاکٹر شاہ حیسن صاحب۔ کیا آپ قرآن کی اس آیت کی نشاندہی فرمائیں گے جس میں قرآن نے نظریہ کشش ثقل کو بیان کیا ہے؟

    • 25-03-2016 at 9:16 am
      Permalink

      ڈاکٹر صاحب، جہاں آپ نے نیوٹن کی دریافت کا سہرا آئنسٹائن کے سر باندھا ہے وھاں لگے ہاتھوں یہ وضاحت بھی کردیں کہ جاپان کے شہر کے نام میں “ت” کی جگہ “ط” کا استعمال کس کشادہ ذہنی کی تحت کیا ہے۔

      نعیم

  • 12-02-2016 at 8:56 pm
    Permalink

    I Think we should try to understand the Lady, she is not criticizing Islam, rather she is telling the readers that Muslims have gone barren. They are no more eagles but
    vultures now. Because they have lost the quest for glory and contended with KFC, McDonald and Pizza Huts. Men can only copy Gora sahib by putting on Pant coat and neck ties and women by removing dopata, tightening and shortening their .dresses. This will not work now nor the simple critique on non muslims rather we will have to really do something

  • 12-02-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    کشش ثقل آئن سٹائن اور قرآن
    ※※※※※※※※※※※※※※※※※※

    “سورة المرسلات آیت ( 25-26 )”

    اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾
    کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے ( کھینچنے والی ) والی نہیں بنایا

    اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾
    زندہ چیزوں کے لیے بھی اور مردہ چیزوں کے لیے بھی

    یعنی زمین ہر مردہ و زندہ شئے کو اپنی طرف سمیٹتی ہے یا کھینچتی ہے اور زمین کی یہی خاصیت کشش ثقل کہلاتی ہے ۔

    اس آیت کی روشنی میں قوانین فطرت کے دیگر بہت سارے قوانین کی طرح قانون کشش ثقل بھی قرآن کا ہی بیان کردہ ایک اور قانون فطرت ہے اور اس طرح عظیم سائنسدان آئن سٹائن بھی قرآن کے ہی فیض یافتہ ہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ قرآن اپنے قاری کو ضرور فیضیاب کرتا ہے خواہ وہ قاری مسلم ہو یا غیر مسلم ۔
    از قلم
    ڈاکٹر شاہ حسین

    کشش ثقل ( از ویکیپیڈیا )
    ※※※※※※

    قوتِ ثقل سیاروں کو سورج کے گرد گھومنے پر مجبور کرتی ہے
    ثقالت، قوتِ ثقل یا کششِ ثقل (انگریزی: gravitation)، وہ قوت جس سے کمیت (Mass) رکھنے والے تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں [1]۔

    عام مفہوم میں یہ وہ قوت ہے جس سے زمین تمام اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے (وزن).

    اس سلسلے میں بے شمار نظریات ملتے ہیں جن میں سے نیوٹن کا قانون عالمی تجاذب اور البرٹ آئنسٹائن کا نظریۂ اضافیت زیادہ مشہور ہیں۔ عام زندگی میں اس قوت کا احساس ہمیں کسی چیز کے وزن کی صورت میں ہوتا ہے۔ اصل میں زمین پر گرنے والے اجسام زمین کی کشش کی وجہ سے گرتے ہیں۔ زمین کی کمیت اس پر گرنے والی اشیاء کی نسبت بہت زیادہ ہے اس لیے اشیاء کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس قوت کو ہم وزن کی شکل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے ہم زمین کے مرکز سے دور ہوں تو وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ زمین پر وزن رکھنے والی اشیاء بھی زمین کو اپنی طرف کھینچتی ہیں مگر زمین کے مقابلے میں یہ قوت اس قدر کم ہوتی ہے کہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔ کشش کی یہی قوت ہے جس کی وجہ سے زمین اور دیگر سیارے سورج کے ارد گرد گھومتے ہیں اور نظامِ شمسی اور دیگر نظام قائم ہیں۔ کائنات میں ہر طرف یہ قوت کار فرما ہے۔ زمین پر اجسام کا قائم رہنا، مدوجذر، مادہ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہ کر بڑے بڑے اجسام بنانا سب کششِ ثقل کی وجہ سے ہیں۔

    • 13-02-2016 at 1:06 am
      Permalink

      ڈاکٹر حسین شاہ صاحب!
      مؤدبانہ گذارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کشش ثقل کے قانون کی دریافت کا سہرا اللہ تعالیٰ نے آئن اسٹائن نہیں بلکہ آئزک نیوٹن کے سر پر سجایا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا یہ مقصود نہ ہو، لیکن آپ کی بات سے یہی ظاہر ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ نیوٹن کے نظریہ کشش ثقل دریافت کرنے سے قبل بھی سیب زمین پر ہی گرا کرتا تھا، سوال یہ نہیں تھا سیب زمین پر کیوں گرتا ہے، بلکہ سوال یہ تھا کہ کس وجہ سے گرتا ہے، اس وجہ کو سر آئزک نیوٹن نے دریافت فرمایا۔
      آپ نے قرآن سے جو نظریہ کشش ثقل کشید کرنے کی کوشش کی ہے، مجھے اس پر تعجب ہے، کیونکہ آپ نے قرآن کے لفظ کفاتا کا ترجمہ (کھینچے والی) بریکٹ میں فرما کر خاصی حد تک صورت حال واضح کردی ہے، کیونکہ مترجمین، ترجمے کے وقت بریکٹ کا استعمال تشریح کیلئے استعمال کرتے ہیں، اور بریکٹ کا استعمال یہ بات بھی واضح کرتا ہے کہ یہ تشریحی الفاظ ہیں، قرآن کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے، اور یہ تشریح خالصتا انسانی فعل ہے، کلام الٰہی ہرگز نہیں جو خطا اور صواب دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ میں نے اردو اور انگریزی مترجمین کے تراجم کو بھی دیکھا، عربی لغات کی کتابیں بھی کنگھال لیں، مجھے کہیں بھی کفاتا کا ترجمہ (کھینچنے والی) نہیں ملا، سبھی مترجمین و لغویین نے اس لفظ ترجمہ (جمع کرنے والی) اور (سمیٹنے والی) کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو جمع کرنے والی بنایا ہے، زندوں کو زمین کے اوپر اور مردوں کو زمین کے اندر (تفسیر جلالین)۔ آپ پر لازم تھا کہ آپ عربی لغت کی مستند کتاب سے لفظ کفاتا کا مطلب بیان کرتے جو آپ کے دعوے کی تائید کرتا۔ اگر آپ کا اصول لاگو کیا جائے تو یقین کیجئے آپ ایک ایسا پینڈورا باکس کھول رہے ہیں، جسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ قرآن کے وہی مطالب قابل اعتبار ہیں جو خود قرآن نے بیان کئے، یا نبی کریم، ان کے اصحاب اور ان کے تربیت یافتہ تابعین نے بیان کئے۔ اس کے بعد قرآن کا ہر نیا بیان کردہ مفہوم تفسیر بالرائے شمار ہوتا ہے۔
      میرا مطلوب و مقصود صرف یہ ہے کہ قرآن صرف ہدایت کی کتاب ہے جو اخلاقیات کے ضابطے بیان کرتا ہے، اس سے سائنس کو کشید کرنے کا جو فیشن چل نکلا ہے وہ کسی طور پر درست نہیں ہے۔ اور خصوصا جن آیات میں اس کائنات کی ساخت کے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں ہو رہی ان سے بلاوجہ زبردستی من چاہا مفہوم اخذ کرنا کسی طور پر قرآن کی خدمت نہیں۔ یہ خدا کے منہ میں لقمہ دینے کے مترادف ہے۔
      میں کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا اس لئے آپ کو جواب الجواب لکھنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں، اگر پھر بھی بے چین طبعیت کو قرار نہ آئے تو براہ کرم صرف کسی مستند عربی لغت کا حوالے پر ہی اکتفاء کیجئے گا۔ شکریہ

  • 13-02-2016 at 12:41 pm
    Permalink

    اب کیونکہ صاحبانِ عقل و دانش نے کلام کا سہارا لیا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف چار پانچ تحریریں لکھ کر ہم سب مجھ سے محروم ہو جائے اور میں مرحوم ہو جاوں اس لیے بہتر ہو گا آپ سب نیوٹن اور آئن سٹائن کی تھیوری میں جو فرق ہے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ نیوٹن بھائی کی بات سیدھی تھی آئن سٹائن نے ذرا الٹی بات کی ہے اسے ثابت کرنے کیلیے جو ترجمہ آپ نے پیش کیا پہلے اس پہ متفق علیہ ہونے کا فتوی لائیں پھر مزید بات ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ میں گاندھی نہیں ہوں کہ اگر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کر دوں ۔ تھپڑ بہت تکلیف دیتا ہے اور جب مارنے والے کو جواباً اسی کی زبان میں سمجھایا جائے تو ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے جو کیا وہ مناسب نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ائک طبقہ صرف فتوی بازی اور لونڈے بازی کرتا رہے بندوق اٹھاتا رہے بندے اٹھاتا رہے اور دوسرا طبقہ صرف قلم اٹھانے کے جرم میں مرتا رہے ۔چپ رہ کے بھی موت آنی ہی تو بول کہ آ جائے

  • 13-02-2016 at 3:05 pm
    Permalink

    موصوفہ کا کالم سےاندازہ ہوتا ہے کہ انکی دین اور سائنس اور مسلمانوں کے بارے میں معلومات اتنی ہی ہیں جتنی میرا کی انگریزی کے بارے میں۔ ایسے جگت نما تحریروں سے داد و تحسین تو وصول ہوسکتی ہے مگر علمی سوچ نہیں پیدا ہوسکتی۔
    موصوفہ کا “کافر” سائنسدان کہ کر مخاطر کرنا یہ بتلاتا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ سائینس کی ابتدا و انتہا کافروں کے ہاتھ میں ہے۔ موصوفہ یہ نہیں بتاسکیں(پتہ ہی نہیں ہوگا) کہ کافر سائنسدان نے ایک “مولوی” سائنسدان ، الخوارزمی کی الجبرا کا اپنے نظریہ میں کثرت سے استعمال کیا۔ کافر آئن سٹائن کافی کا بھی شوقین جو ایک اور مولوی سائنسدان کی دریافت تھی۔

    دوسرا یہ کہنا کہ سارے سائنسی کارنامہ اب کافر کیوں کرتے ہیں، مسلمان کیوں نہیں تو میں متفق مگر محترمہ اپنے ننھے سے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ ایک درزی سے اپنا آپریشن کرواسکتی ہیں؟ نہیں نا تو ایک ملا سے کیوں سائنس کی توقع؟ مسلمانوں میں مشکل سے ۵ فیصد بھی ملا اور عالم نہیں ہوں گے، باقی کیا ستو پی کر سورہے ہیں؟ جب اس ملک میں کوک اسٹوڈیو کی فروغ ہوسکتی ہے، ویلنٹائن کو بین کرنے پر رونا ہوسکتا ہے تو سائنس پر پروگرام کیوں نہیں؟ کس نے روکا ہے۔ لگتا ہے ہمارے لبرلوں کا سارا وقت یہی دہائ دیتے گزر گیا کہ ہم نے سائینس میں کیوں کچھ نہیں کیا نتیجا وہ بھی کچھ نہ کرسکے۔

    معاف کریں مگر اپنی نااہلی کو دوسرے پر الزام لگاکر چھپانے سے سچ نہیں چھپے گا۔ عالموں اور مولویوں نے جس کام کا بیڑا لیا وہ خوب کیا: دینی مسائل بتائے، قرآن و حدیث کا علم بانٹا۔ باقیوں نے کیا کیا؟ اگر آپ لوگوں کو ان جگتوں سے فرصت ملے تو اپنے غلطیوں کو ماننے کے بعد سائنس کی ترقی و ترویج کے لیے کچھ کریں ناکہ کمزوروں کی طرح الزام تراشی۔ ابتدا اپنے سے کریں۔ یہی تہذیب یافتہ لوگ کرتے ہیں ۔

    • 06-03-2016 at 2:14 pm
      Permalink

      کچھ خدا کا خوف کریں جناب ۔۔ مسلمان جب تک لوٹ مار کرتے رہے ان کی معاشی حالت مضبوط رہی ۔اور ہم یہی دعوے کرتے رہے کہ یہ سب اسلام کی برکت ہے ۔۔اب وہ زمانہ نہیں رہا ۔۔محنت کریں گے تو کچھ بنے گا ۔۔۔ جب تک دوسری قومیں کمزور تھیں ہم نے مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا ۔۔۔اب ان کی باری ہے ۔۔یہ یاد رکھیں کہ اب یا یہ ملک رہے گا یا یہ حلوہ خور مولوی ۔۔اس ملک کو بچانا ہے تو ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا ۔۔۔

    • 13-03-2016 at 9:22 pm
      Permalink

      Adnan saab aap ka jawaab me aik mukammil aour behtareen jawaab manta hon in MOHTARMA ke NAQISS AOUR NA MUKKAMIL ellm aour DANISH rakhne wale NANNHE DIMAGH ko samjhane ke waste……BRAVO

  • 13-02-2016 at 4:14 pm
    Permalink

    “ایسا نہیں ہو سکتا کہ ائک طبقہ صرف فتوی بازی اور لونڈے بازی کرتا رہے بندوق اٹھاتا رہے بندے اٹھاتا رہے اور دوسرا طبقہ صرف قلم اٹھانے کے جرم میں مرتا رہے ۔چپ رہ کے بھی موت آنی ہی تو بول کہ آ جائے”

    معذرت مگر لونڈے بازی کو جائز قرار دینے میں آپ کے ہم قبیل بہن بھائ ہی زیادہ ہلکان ہوئے ہیں اور “گے پرائڈ” حمایت فیس بک پر لونڈے بازوں کو جھنڈے والی پروفائل سیٹ کر کے کی ہیں۔ آپ کو مذکورہ عوامل سے کس نے روکا ہے؟ 🙂

    • 14-02-2016 at 4:26 am
      Permalink

      لگتا ہے شائد آپ کو علّت مشائخ یا آسان الفاظ میں لونڈے بازی اور ہم جنسیت میں فرق ہی معلوم نہیں۔ لونڈے بازی ایک کمسن نابالغ کی معصومیت کا قتل ہے، جبکہ ہم جنس پرستی دو عاقل و بالغ کی باہمی رضامندی کے ساتھ جنسی تعلق ہے۔

  • 14-02-2016 at 9:54 am
    Permalink

    شکر ہے میں نے پہلے ہی یہ جملہ لکھ بھیجا تھا کہ ہم اسی بات پر خوش ہیں کہ ساری سائنس کی بنیاد ہمارے آباو و اجداد کے کارنامے پہ رکھی گئی ہے۔ اس ایک جملے نے میری سائنس اور تاریخ سے کم علمی کا ثبوت دیا اور ہاں بات پھر سے علم و دانش یعنی علماء تک جا پہنچی تو اس بات سے بھی میں اتفاق کرتی ہوں کہ انہوں نے بیڑا لیا اور بہت محنت سے اسے غرق بھی کیا۔
    تیسری بات یہ کہ میں خود بھی یہ وجہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں جس دکان پہ کچھ اچھا نہیں ملتا ہم وہاں سے نکلتے ہیں اور اگلی دکان میں گھس جاتے ہیں تو آپ کیلیے ایسا کرنا ممکن کیوں نہیں؟ اب شہر میں دکان سب سے الگ اسی لیے کھولی گئی ہے کہ یہ خرافات بھی کسی کو لکھنی پڑھنی تھی۔
    پھر بھی مجھ سے رہا نہیں جا رہا تو کر ہی دیتی ہوں آخری بات بھی کہ لونڈے بازی اور ہم جنس پرستی میں ایک بنیادی فرق ہے جسے میں مہذب الفاظ میں سمجھانا بھی چاہوں تو آپ نہیں سمجھیں گے۔اگر سمجھنا ہوتا تو لکھنے سے پہلے ہی سمجھ جاتے۔

  • 14-02-2016 at 2:21 pm
    Permalink

    Muslims are still living in Supremacist , Persecution and Paranoia… War Vs Ideology prevails in the age of wisdom and technology…. What can we do is to convey the reality…. Thanks for this productive piece…….

  • 14-02-2016 at 5:40 pm
    Permalink

    “ہم اسی بات پر خوش ہیں کہ ساری سائنس کی بنیاد ہمارے آباو و اجداد کے کارنامے پہ رکھی گئی ہے”

    ہم نہ کہیں، یہ کہیں کہ اسلامسٹ خوش ہیں، آپکا وقت تو “کافروں” کے کارناموں کو بیان کرنے سے فرصت ملے تو مسلمانوں پر نظر پڑے نا! آپ جیسی لوگوں کا مدعا یہ کہ مسلمان سائنس کی مخلافت کرتے ہیں جبکہ اسی یہودی کا لاوڈ سپیکر، ٹی وی ، انٹرنیٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ تو بھئ ہم نے بھی یہی کہا کہ اگر کافروں کے کارناموں پر اتنا فخر تو انکا ناطہ ماضی سے توڑو، آپ سب چھوڑو، سرجری تک تو ایک مولوی سائنسدان کی کاوش ہے، مگر آج تک کسی یہودی و نصرانی، ہنود اور ہمارئے مقامی انگریزوں نے یہود کو تانہ نہیں مارا کہ اوئے یہودی! مسلمان کی کافی، سرجری وغیرہ کیوں استعمال کرتا ہے۔ ذرا سنجیدہ ہوئیں تاکہ آپ کے قبیل کو لوگوں کو کوئ کام کا سمجھے۔ منہ کے فائرنگ سے اب کام نہیں چلنے کا

    “ہ انہوں نے بیڑا لیا اور بہت محنت سے اسے غرق بھی کیا۔”

    نہیں کوئ غرق نہیں کیا، پھر وہی بچوں والی بات۔ بھئ علما جب بیڑہ غرق کرتے جب وہ سائنس کو اپنے ذمہ قرار دیتے، سائنس تو غیر مولویوں نے اپنے سر لی اور اسے اپنا ناخدا سمجھا، آج اس ملک می کتنے ریسرچ سیٹر ہیں بھلا؟ کوک اسٹوڈیو ہے مگر طبیعاتی لیب کیوں نہیں؟

    ” آخری بات بھی کہ لونڈے بازی اور ہم جنس پرستی میں ای”

    آپ کی اور بھیا جی کی اوپر والے تبصرہ سے غالب نے کروٹ اور نجانے کیا کیا لیا ہوگا۔ موقع ملے تو غالب اور اس زمانے کی اردو کا مطالعہ کیا جائے گا، “لونڈے بازی” کا آج کل کہ “مہزب” لبرلوں نے اسی طرح ایک “تہذیب یافتہ” نام دیا ہے جس طرح مغرب میں “prostitute”کو “سیکس ورکر” کہا جاتا ہے۔

  • 14-02-2016 at 5:45 pm
    Permalink

    “تیسری بات یہ کہ میں خود بھی یہ وجہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں جس دکان پہ کچھ اچھا نہیں ملتا ہم وہاں سے نکلتے ہیں اور اگلی دکان میں گھس جاتے ہیں تو آپ کیلیے ایسا کرنا ممکن کیوں نہیں؟ اب شہر میں دکان سب سے الگ اسی لیے کھولی گئی ہے کہ یہ خرافات بھی کسی کو لکھنی پڑھنی تھی۔
    پھر بھی مجھ سے رہا نہیں جا رہ”

    ہاہا! یہی المیہ ہے چائنا کے لبرلوں کا، ذرا سا انکو چیلنج کردو تو جواب نہ ہونے پر یا تو بین کرنا، بھگادینا اور بہت کچھ وغیرہ وغیرہ۔ کدھر گیا آزادی اظہار اور برادشت کا سبق؟ 🙂

    یہ ویب سائٹ ایک پبلک سائٹ ہے، اگر تنقیدی جوابات سننے سے آپ پر کپکپی طاری ہوتی تو ایک پرائیوٹ ڈائری بنائیں جس میں آپ کے علاوہ کوئ نہ پڑھے اور خود ہی تعریف و توصیف بھی کرلیا کیجئے گا۔ ہم تو بولیں گے، باقی وجاہت صاحب کی مرضی کی “مولوی” بن کر “بین” لگادیں :ڈ

  • 14-02-2016 at 7:39 pm
    Permalink

    بے تکی تحریر ….

  • 16-02-2016 at 9:03 pm
    Permalink

    Awesome
    I love humans
    they are wonderful creatures
    and most astonishing
    living beings on
    planet

  • 15-03-2016 at 3:46 pm
    Permalink

    waste of time

  • 17-03-2016 at 12:38 pm
    Permalink

    We need to be moderate instead of being liberal fascist or religious fascist. we aslo should avoid to paint only one sided truth, it happens when we have a stereotype approach towards the things.

  • 25-03-2016 at 9:26 am
    Permalink

    According to Dr. Sahib, God first declared the ‘Law of Gravitation’ in the Quran, then made sure that no Muslim could understand the relevant verse and draw the necessary conclusion and then apply the same to draw further conclusions about the working of the universe. God next made sure that a Christian in England should discover that universal truth. What was God’s ‘maslahat’ in that rather complicated process? That should be a reasonabale question for you to pursue next.

Comments are closed.