میڈیا کی تصویر ریڈیو کے بغیر نامکمل ہے


 \"\"  پاکستان سمیت دنیا بھر میں13 فروری کو ورلڈ ریڈیو ڈے منایا جا رہا ہے۔ 17 دسمبر 1902 کی تاریخی اور روشن صبح تھی جب مارکونی نے اپنا تجربہ کامیاب کرتے ہوئے ریڈیو کا پہلا پیغام نارتھ امریکہ سے سمندر پار پہنچایا۔ دوسرے ممالک کی دیکھا دیکھی ہمارے پیارے ملک میں بھی اس دن کو منانے کا خوب اہتمام کیا گیا ہے۔ اس خصوصی دن کو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈیو پاکستان اور دیگر نجی ریڈیو اسٹیشنز میں بھی رنگا رنگ پروگرامز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جو ریڈیو کے حامل ہیں ان میں برطانیہ، امریکا، اٹلی، فرانس، روس، برازیل، میکیسکو، ترکی، فلپائن وغیرہ سر فہرست ہیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ ریڈیو امریکا میں سنا جاتا ہے۔ سب ممالک ریڈیو کی افادیت اور اہمیت جانتے ہوئے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ یہ دن مناتے ہیں۔ یہ تمام وہ ممالک ہیں جو ذرائع ابلاغ کی جدید ترین سہولتیں ہونے کے باوجود ریڈیو جیسے میڈیم کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تیز رفتار طرز زندگی میں ریڈیو ہی ان کے لئے وہ واحد میڈیم ہے جسکی وجہ سے جلد از جلد معلومات تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔  13 فروری 1946 کو اقوام متحدہ کے ریڈیو کا آغاز ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سماجی فلاح وبہبوداور مجموعی معاشرتی معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے13 فروری کو ورلڈریڈیو ڈے سے منسوب کر دیا۔ وہاں آج بھی فیصلہ سازی، باہمی روابط، اور اطلاعات و معلومات کے لئے ریڈیو کا ہی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنے سیاسی عوامل اور عوامی سطح پر لوگوں کی فلاح کے لئے ریڈیو کو موثر جانتے ہوئے آج بھی ان ممالک نے اس میڈیم کے کردار کو زندہ اور فعال رکھا ہوا ہے۔

ہندوستان میں بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ممبئی، لاہور، پشاور اور ڈھاکہ میں ریڈیو کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔ اس وقت برطانوی راج نے اپنے سیاسی مقاصد اور کہیں کہیں عوامی تفریح کے لئے اس میڈیم کا خوب استعمال کیا۔ اسی دور میں کلاسیکی موسیقی کے نامور گائیک اور اردو ادب کے اعلی پائے کے شاعر، ادیب، اور لکھاری ریڈیو سے وابستہ ہوئے جس کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ریڈیو سننے والوں میں شامل ہو گئی۔ ریڈیو لاہورسے ہی 13اور 14، اگست کی درمیانی شب کوقیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ یہ پاکستان کا واحد میڈیم تھا جہاں سے موسیقاروں، گلوکاروں، شاعروں، براڈکاسٹرز، ڈرامہ نگاروں اور لکھاریوں کے فن کو نکھار کر عوامی سطح پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہ ہی وہ میڈیم ہے جس سے فن اور ادب کا ہر بڑا نام کسی نا کسی طور وابستہ رہا۔ آپ بر صغیر میں ریڈیو کی تاریخ کے اوراق پلٹ کر \"\"دیکھئے آپ کو گایئکوں میں استاد امید علی خاں، استاد عاشق علی خاں، استاد بڑے غلام علی خاں، روشن آراءبیگم، زاہدہ پروین، پٹیالہ اور شام چوراسی گھرانے کے نامور گائیک، فریدہ خانم، غلام علی، مہدی حسن، ریشماں اور بے شمارایسے ہی اپنے فن میں یکتا گلوکاروں کے نام ملیں گے۔ شاعروں اور ادیبوں میں مرزا فرحت اللہ بیگ، حفیظ جالندھری، امیتاز علی تاج، منٹو، عصمت چغتائی، مرزا ادیب، ممتاز مفتی، ناصر کاظمی، فیض احمد فیض، اے حمید، انتظار حسین، بانو قدسیہ اوراشفاق احمد جیسے عہد ساز نام بھی ملیں گے۔ اسی طرح صداکاروں میں، زیڈ اے بخاری ، مصطفی علی ہمدانی، سلیم گیلانی، موہنی حمید، اخلاق دہلوی، نظام دین، طلعت حسین، شکیل احمد، محمدعلی، مصطفی قریشی، منور سعید، نسرین محمود، فردوس جمال، محمد قوی خان، معین اختر جیسے بڑے نام بھی اسی میڈیم کے تراشیدہ جواہر تھے (یہ محض چند نام ہیں) جن کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ریڈیو جیسے میڈیم نے بنا سنوار کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے فن میں بے مثال رہے اور اپنے جانے کے بعد بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے اوراق میں بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

اس وقت ملک میں سرکاری اور نجی ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد کم و بیش  200 ہے۔ کمرشلزم کی دوڑ میں ریڈیو چینلز کی تعداد میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن پہلے کی طرح ریڈیو ہمارے ملک میں مضبوط نہیں بلکہ نہایت کمزور میڈیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری و نجی سطح پر ریڈیواپنی بنیادی ذمہ داریوں اور کردار سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ ریڈیو ذرائع ابلاغ میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ریڈیو ہی ایک ایسی بنیادی درس گاہ ہے جہاں سے ایک صداکار، گلوکاراورفنکار مسلسل مشق اور تربیت حاصل کر کے سٹوڈیو سے ایک نئے سانچے میں ڈھل کر باہر نکلتا ہے۔ لیکن افسوس کہ سرکاری و نجی سطح پر یہ میڈیم نامور، ادیب، صداکار اور گلوکار پیدا کرنے میں ناکام ہوتا جا رہا ہے۔ ریڈیو کا اصل پہلو اور مقصد اب معدوم ہو چکا ہے، تعلیمی اور تدریسی لحاظ سے بھی ریڈیو کا پہلا سا کردار نہیں رہا۔ اس کی \"\"دگرگوں حالت کے قصوروار پالیسی ساز، ادارے کے سربراہان اور حکومتی اہلکار ہیں جنہوں نے ٹی وی چینلز کی بھر مار اور چکاچوند سے مرعوب ہو کر ریڈیو کی اہمیت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایک طرف دور دراز کے علاقوں میں جہاں بہت سے لوگوں کے لئے ریڈیو ہی واحد دلچسپی کا ذریعہ ہے وہاں سرکاری ریڈیو کے ٹرانسمیٹرز کے سگنلز مطلوبہ اہداف تک اپنی نشریات پہنچانے میں ناکام ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف نجی ریڈیو اسٹیشنز کا دائرہ بھی محدود اور مقصد صرف کمرشل بڑھانا ہے۔ معیاری پروگرامنگ نہ ہونے کی وجہ سے ریڈیو سننے والوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ جس طرح ترقی یافتہ ممالک زندگی کے ہر شعبے میں جدید ترین سہولیات ہونے کے باوجود ریڈیو سے جڑے ہوئے ہیں اسی طرح ہمیں بھی سرکاری سطح سے لے کرعوامی سطح تک ریڈیو کی اہمیت اور افادیت کو جا نتے ہوئے ریڈیو کا ہاتھ تھامنا ہوگااور اگر ہم اپنے تخلیقی اور ثقافتی تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذرائع ابلاغ کے دھارے میں ریڈیو کو زندہ اور رواں رکھنا ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

صبا پرویز کیانی کی دیگر تحریریں
صبا پرویز کیانی کی دیگر تحریریں