فقہی اختلافات کی حقیقت


mazaheer-598x400جی نہیں !بات اتنی سادہ اور سیدھی نہیں جتنی گزشتہ ہفتے ’تکبیر مسلسل ‘میں رواروی سے سپرد قلم کر دی گئی ۔گماں گزرتا ہے نفیس ونستعلیق قلمکار پی ٹی وی کے لیے پا بہ رکاب ہوں گے کہ انہیں عجلت میں کالم گھسیٹنا پڑا ۔’شیعہ سنی اختلافات کا امکانی حل‘میں پرسوں اترسوں لکھا گیا ….’فقہی اعتبار سے چار مذاہب پر اتفاق رہا….فقہی اختلاف اصلاً علمی ہے اور استنباط کے باب میں ہے جو فطری ہے…. قرآن مجید اور سنت پیغمبر کو سب بنیاد ما نتے ہیں تاہم ان کی تفہیم اور استنباط احکام میں اختلاف ہے ….اس فقہی اختلاف کا فائدہ ہوا اور مسلم سماج فکری ارتقا کے مراحل سے گزرا ….اس سے امت کی وحدت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔وحدت امت کو نقصان سیاسی اختلاف سے ہوا علمی وفقہی اختلاف سے نہیں‘۔
نہیں معلوم کہ محترم خورشید ندیم ،محترم وجاہت مسعود ،محترم ایازامیر،محترم وسعت اللہ خان ،محترم یاسر پیرزادہ اور محترم نجم سیٹھی کو دورانِ مطالعہ کبھی ہاون دستہ کی ضرورت آ ن پڑی ہو اور اگر آن ہی پڑی ہو تو انہوں نے اسے پایا کہ نہیں ؟تلاش بسیار کے باوجود اور بعد ہمیں تو نہیں ملا تو پھر سوچا کہ فکری راست کے ان علمبرداروں کو اگر سر پھوڑنے کی ضرورت پیش آتی ہو گی تو محترم موصوف کیا کرتے ہوں گے؟
ہر پختہ دیوار سے سرٹکرائیں یا نوحہ گر کو ساتھ رکھیں کہ جو لوگ فقہی تنازعات ،مسلکی انحرافات اور تاریخی التباسات سے واقف ہیں اور یقینا واقف ہیں…. ان کے دماغوں پر بھی کسی کڑے کاہن نے سحر پھونک دیا ہے کہ امت کی وحدت کو فقہی اختلافات سے کوئی نقصا ن نہیں پہنچا….یا یہ کہ اس سے مسلم سماج میں فکری ارتقا در آیا۔ فکری ارتقا تو خیر بالکل نہیں البتہ فکری انتشار ضرور در آیا ۔دم بھر کو دم لیجیے کہ شروع سے بات شروع کرتے ہیں ….
فقہی اعتبار سے ائمہ اربعہ پر اتفاق کے مسلمہ کی حیثیت مفروضہ سے زیادہ نہیں کہ یہ ایک تاریخ کا تراشیدہ تصور ہے ۔سقوط ِبغداد کے بعدجب خلافت علامتی طور پر مصر منتقل ہوئی تو تب قاہرہ کی گلیوں اور بازاروں میں بھی بغداد کا رنگ جمتا اور نقش چڑھتا جاتا تھاکہ تب بھی مسلم دماغوں کی ترکتازیوں کا میدان فقہی قیل و قال ہی تھی ۔ تنگ آکر مملوک فرما نروا کماندار بے برس نے چارمسالک کے الگ الگ قاضی مقررکر ڈالے کہ ہر کوئی اپنی فقہ کے مطابق فیصلہ لے سکے۔
ائمہ اربعہ کی یہ پہلی انیٹ ہے جو بحا لتِ مجبوری اور با امرِمصلحت نظام ِ وقت نے دھری ورنہ تو اس سے 7صدی قبل تک مسلمان کسی ائمہ اربعہ کے تصور سے ہی نا آشنا تھے ۔ہاں البتہ آگے چل کر سلطان بن برقوق شاہ نے حرمِ مکی میںچار فقہاءکے الگ الگ مصلے قائم کر ڈالے ….یہاں بھی ائمہ اربعہ کو تقدس تو عطا ہوا پر اتفاق نہیں۔ یہ الگ بات کہ اس سے بھی آگے چل کر ننگے پاوں بکریا ں چرانے والے عرب کے نجدی بدووں نے حرم مکی سے الگ الگ مصلے لپیٹ دیئے۔ سلفی اسلام کے اس اقدام کی تو خیر تحسین ہی کی جانی چاہئے کہ انہوں نے کم ازکم امت کو حرم مکی میں ہی سہی….بزورِ بازو ہی سہی…. ایک مصلے پر مجتمع کر ڈالا۔
جن لوگوں کی ادیان کی تاریخ پر گہری نگاہ ہے یا جو دل دردمند اور فکر ارجمند رکھنے کے ساتھ ابتدائی مسلم دانشوری سے بھی کماحقہُ آگاہ ہیں….وہ خوب جانتے ہیں کہ اموی خلافت،عباسی خلافت اور فاطمی خلافت کا قیام سیاسی پروپیگنڈے کو مذہبی زبان ملنے کے باعث ہی ممکن ہوا۔سیاسی اختلافات کو مذہبی قالب میں پیش کرنے کا فن فقہ نے ہی فراہم کیااوراس پروپیگنڈے کو تاریخ نے اعتبار و استنادعطا کیا۔سیرت اور سنن کے موٹے موٹے مجموعوں میں آج جتنی بھی فضیلت ومناقب کی روایات ملتی ہیں…. سب کی سب پیہم پروپیگنڈا کی ہی رہین منت ہیں اور فقہ کی بیساکھیوں کے سہارے ہی انہوں نے تدریجی سفر طے کیا ہے ۔چوٹی کے مدبرین،مفکرین اور مصلحین یہی کہتے آئے ہیں کہ فقہی اختلاف اصلاً علمی اور فطری ہے ۔بہ نظر ِ ظاہر شاید ایسا ہو بھی لیکن حقیقت کی تہہ میں اترنے سے قلعی کھلتی ہے کہ یہ اختلاف علمی و فطری قطعی نہیں بلکہ طبائعی ہے۔ طبائع کے اختلاف کو علمی اور فطری باور کرانے کے لیے بہت سوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور نوبت باایں جا رسید کہ مسلم سوادِ اعظم اسی فکری مغالطے میں مبتلا ہے ۔بھلااحکام خدا وندی اور امر ربی میں فقہی ،علمی اور فطری اختلاف کی گنجائش کیسے ہو ؟اور کیونکر ہو ؟
شاید اس التباسِ نظری اور مغالطہ فکری کو اس لیے بھی دوام اور قیام ملاکہ بڑے بڑے جدید دانشور بھی اختلاف رائے پر ایقا ن و اعتقاد رکھتے آئے ہیں۔ علمی اختلاف، فطری اختلاف اور رائے کا اختلاف…. یہ تینوں چیزیں دیگر است۔آخری تجزیے میں فطری اختلاف اور رائے کااختلاف خفیف وباریک امتیاز کے ساتھ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور ان سے خوف کھانے کی کو ئی ضرورت نہیں۔علمی اختلاف البتہ بہت سی جہت اور پرت رکھتا ہے۔یہ بھی گوارا ہے اگر اپنے فکری فریم ورک کے اندر ہی رہے کہ پالیسی امور اور سیاسی معاملات میں آراءکا اختلاف یقینی ہے…. البتہ یہاں بھی بنیادی واساسی معاملات میں یہ فطری نہیں طبائعی ہو گا۔اس کی ایک حد ہے کہ بہت بحث و تمحیص اور غوروفکر کے بعد ایک نتیجے پر پہنچا جائے کہ پھر من و تو میں اختلاف نہ رہے ۔یہ صورت بھی ممکن کہاں !ارباب دقیقہ شناس اور اصحاب نکتہ رس نے اتفاق کیا کہ کثرت رائے پر اتحا د کر لو ۔اختلاف اگرفرو ع میں نہ ہو بلکہ اصول میںہی ہو یعنی شاخ میں نہیں جڑ میں واقع ہو تو کیا کہئے؟بہ الفاظ ِدگر یوں کہئے کہ اساسی اور بنیادی نوعیت کا اختلاف ہو تو پھر کیا کہئے؟بھائی اسے انتشار کے سوا اور کیا کہئے؟یا پھر آپ ہی اچھا سا رکھ لیں اپنے ویرانے کا کوئی نام۔فقہی اختلافات فروع کے چوکھٹے سے نکل کر اصول کے دائرے میں ہی برپا ہوئے ۔وادریغا!یہ تبدیلی دبے پاوں کچھ اس طرح آئی کہ وقت کے بڑے بڑے جری اور جانباز بھی اس کا ادراک اور احساس کر نہ پائے اور جب مست خرام قافلے کی مژگاں وا ہوئی تو ہم بہت دور نکل آئے تھے۔
فقہی اختلافات سے سیاسی وحدت کو نقصان نہ پہنچنے اور سماج میں فکری ارتقا کی بھی ایک ہی کہی۔فقہی اختلافات سے انتشار وافتراق کی اس سے بڑی اور بین مثال اور کیا ہو گی کہ جب چنگیزخان کا پوتا اسماعیلیوں کی قوتِ قاہرہ کی علامت اور حسن بن صباح کے قلعہ الموت کو تاخت و تاراج کرنے چلا تو سنی عالم دین عطا ءالملک جوینی کی ان کو نصرت و حمایت حاصل تھی اور وہ دائیں جانب ہلاکوخان کی پشت پرکھڑے تھے،انہی تاتاریوں کی تلوار جب چمک اٹھی تھی اور بغداد میں سنیوں کے مجبور خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر ڈنڈے اور سوٹے مارمار کرمارا جا رہا تھا…. تب شیعی عالم دین نصیرالدین طوسی کی ان کو تائید وتوثیق میسر تھی اور وہ بائیں جانب منگولوں کے ساتھ کھڑے تھے۔اموی خلافت کا شیرازہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مسلم خراسانی نے بھی یہی پتہ پھینکا تھا۔کل اگر بغداد کے بازار اور دمشق کے دالان ہماری مسلکی لڑائیوں اور فقہی جھگڑوں سے لہو رنگ تھے تو آج دنیا کو دارالسلام اور دارالکفرکے فقہی خانوں میں بانٹنے سے خون کے چھینٹے دنیا کے قریے قریے اور چپے چپے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔بھری پری کائنات اور بے کراں کرہ ارض میں القاعدہ ،طالبان اور داعش ایسی خونخوار و سفاک تنظیموں کا مسلمانوں میںظہور ہوا تو انہی فقہی اختلاف کے باعث ہوا کہ ہر کسی کے نزدیک جہاد کے مطالب اور غایت اپنی ہی تھی۔بنیادی و جوہری طور پر فقہ احکام و فرامین کی تلاش سے عبارت ہے….بھلا جس علم کی بنیاد ونہادہی انسانوں کی گردنیں ناپتی ہو، سطر سطر پر اپنے ہی قاعدے بیان کرتی ہو ،قدم قدم پر جرم و تعزیر کے نام پر گرفت کرتی اور بال کی کھال اتارتی ہو….اس سے فکری تعمیر وارتقا کی توقع ہی کیسے کی جا سکتی ہے ؟
حرف ِ آخر کہ مسیح ابن مریم نے فقہ پر سب سے بہترین اور بلیغ ترین تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا اوراس کی تفصیلات بائبل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں۔انہوں نے اہل یہود کے فقہا ءپر سخت تنقید کرتے ہو ئے کہا ….’او ظالمو!او فریسیو!او فقیہو ! تم مچھر چھانتے اور اونٹ نگل جاتے ہو‘۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “فقہی اختلافات کی حقیقت

  • 14-01-2016 at 12:49 am
    Permalink

    بہت سرسری دلائل ہیں، محض نکتہ سنجی کی کوشش محسوس ہورہی ہے۔

  • 11-03-2016 at 12:06 pm
    Permalink

    فقہی اختلاف کو کلیتاََ رد کرنے سے پہلے اس پر صاحب تحری کو اپنی رائے بھی دینی چاہیئے کہ یہ اگر یہ وہ نہیں جو آج تک سمجھا اور سمجھایا جاتا رہا ھے تو آخر ھے کیا؟ اس کے بجائے صاحب تحریر نے اس کے ممکنہ مضمرات پر جو دقیق اور سیر حاصل گفتگو کرنے کی سعی کی ھے وہ محض ایک جملے سے ختم ھوجاتی ھے کہ “اگر مزکورہ تمام فتون کی وجہ یہی فقہی اختالف ھے تو یہ تو محض اس کا غلط استعمال ھوا نہ کہ بجائے خود یہ غلط ثابت ھوا”۔ ۔ ۔ بلکل ایسے ہی جیسے ہمارے نیم خواندہ، نسل پرست معاشرہ میں جمہوریت کا ڈھول پیٹنا کہ اس معاشرہ میں جمہوریت کے فوائد حاصل ھوہی نہیں سکتے تاوقیکہ معاشرہ صحیح معنوں میں شعور کی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ جائے جو کہ جمہوریت سے تو فل حال ممکن ہی نہیں کیونکہ ایسے ماحول میں جمہوریت ایک جُھنجُھنا سے زیادہ نہیں رہتا جو عوام کو بہلانے کے لیئے وقتاََ فوقتاََ بجایا جاتا رہے تو کیا جمہوریت کو ہی لپیٹ دیا جائے؟؟ معذرت کے ساتھ مجھے ذاتی طور پر یہ اظہارخیال محض الفاظ کی جادوگری سے زیادہ کچھ نہیں لگا جو منطق اور دلیل سے یکسر خالی ھے!!

Comments are closed.