فکسنگ اسکینڈل، شرجیل اور خالد لطیف پر تاحیات پابندی کی تلوار لٹکنے لگی


\"\"

پی ایس ایل ٹو میں مشکوک افراد سے روابط پر معطل ہونے والے کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کو تاحیات پابندی کا سامنا ہے، اسلام آباد یونائٹیڈ کے دونوں کرکٹرزکو وطن واپس بھیج دیا گیا تھا تاہم ان میں سے شرجیل کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے جلد آؤٹ ہونے کیلیے مبینہ طور پر بکیز سے 5 لاکھ روپے وصول کیے جبکہ خالد بھی آمادہ تھے مگر کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی دونوں کے اعترافی بیان کی وڈیو بناچکا، اب منگل کو چارج شیٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے،انہیں صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، اگرجرم قبول نہ کیا تومعاملے کی سماعت ہو گی جو تقریباً ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے جس کے بعد کیس کا فیصلہ سامنے آئے گا۔

دوسری جانب شرجیل اورخالد واپسی کے بعد ایک دوسرے پر ملبہ گراتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انہیں ورغلایا گیا اور مشکوک شخص سے ملاقات کرائی گئی، مگر بورڈ کے پاس اعترافی وڈیو کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات اور دیگر ثبوت بھی موجود ہیں جبکہ پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت مشکوک رابطے کی رپورٹ نہ کرنے پر6 ماہ سے تاحیات جبکہ فکسنگ پر5 سال سے لائف بین کی سزا موجود ہے۔ دیگر کھلاڑیوں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے چھوڑدیا گیا، ان میں سے دو نے اے سی یو کو مشکوک رابطے کے متعلق بتایا تھا مگر ایسا خالد اور شرجیل کا کیس سامنے آنے کے بعد خود کو بچانے کیلیے کیا گیا۔

علاوہ ازیں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ بکی یوسف کی بعض ’’بڑے اسٹارز‘‘ کے ساتھ بھی تصاویر سامنے آ گئیں، بعض سابق کرکٹرز تو اس کے بیحد قریبی بتائے جاتے ہیں۔ پی سی بی نے جب غیر رسمی طور پر استفسار کیا تو جواب ملا کہ ہم روز کئی پرستاروں سے ملتے ہیں ان میں سے کون کیا کام کرتا ہے ہمیں کیا پتا۔

ادھر اے سی یو نے فرنچائزز پر زور دیا ہے کہ وہ کرکٹرز پر کرفیو ٹائم کا سختی سے اطلاق کریں، اس سے قبل بعض کھلاڑیوں راتوں کو دیر تک باہر گھومتے رہتے تھے مگر حالیہ اسکینڈل کے بعدکچھ تبدیلی سامنے آئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔