اہل مذہب، اہل سیاست اور اہل عساکر کی تضحیک میں تباہی ہے


\"\"

ان تین باتوں پہ آپ بھی عمل کیجئے۔

جب سے خدا نے بولنے اور لکھنے کی صلاحیت عطا کی اس وقت طے کیا تھا کہ کبھی کسی کی تضحیک نہیں کرنی خصوصا تین طبقے ایسے ہیں جن کے بارے میں بالکل تضحیک والا رویہ نہیں اپنانا ان کو گالی نہیں دینی اور جہاں تک ممکن ہوا اس سوچ کو پھیلاؤں گا کہ ان کے بارے میں نرمی اختیار کی جائے۔ ان طبقوں کے بارے میں شدت سے کام نہ لیا جائے معاشرے میں چند لوگ ایسے ہیں جو شدت کی انتہاؤں پہ ہیں کوئی نہ کوئی گروہ ایسا ہے جو ان تینوں شعبوں کے لوگوں سے کدورت و عداوت رکھتا ہے۔

ایک اہل مذہب۔ دوسرا اہل سیاست۔ تیسرا افواج پاکستان۔

اہل مذہب کی جب بھی بات آتی ہے کچھ لوگ مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں میں آج تک کہتا آیا ہوں کہ مذہب مثالی ہے مذہب کا پیغام مثالی ہے لہذا مذہب کے نمائندوں کو بھی مثالی ہونا چاہیے۔

مذہب کا نمائندہ ایسا کوئی فعل نہ کرے جس کی وجہ سے لوگ مذہب سے بدظن ہوں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت اہل مذہب کی آپس کی چپقلشوں رنجشوں اور عداوتوں نے سوسائٹی کو اہل مذہب سے دور کر دیا ہے۔ ان کے کفر کفر۔ شرک شرک۔ اور بدعت بدعت کی آوازوں نے قوم کو مسجد مدرسے سے دور کر دیا ہے۔

مذہب اخلاقیات کے لیے ہوتا ہے لیکن یہاں فتوؤں کی برسات شروع ہو گئی عبادات کے طریقوں اور معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کے ایمان و کفر کے فیصلے ہونے لگے۔ اختلاف کرنے والوں پہ زمین تنگ کی گئی واجب القتل کے فتوے دیے گئے۔ یہ صورتحال ہرگز مثالی نہیں اس رویے پہ تنقید ہونی چاہیے لیکن تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔ اہل مذہب خدا و رسول کا آفاقی پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں آج نہ سہی تو کل ضرور ان کو خیال آئے گا۔ یہ واپس پلٹیں گے لیکن تب تک پلوں کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہو گا۔ کاش اہل مذہب اپنی اصل ڈیوٹی کی طرف پلٹ آئیں۔ یہ احساس دلانے والوں کو دشمن ڈکلیئر کرنے کی بجائے انہیں محسن مان لیں تو بھلا ہی ہو جائے گا۔

خیر مدعا یہ ہے کہ جب آپ تضحیک کریں گے تو لوگ مذہب سے دور ہوں گے سوسائٹی کو بہتر بنانے کے لیے مذہب کی تعلیمات ضروری ہیں۔ جہاں مذہب ناکام ہوتا ہے وہاں انارکی پھیلتی ہے۔ بلند کردار اور خوبصورت معاشرے کی بہتری کے لیے مذاہب کی تعلیمات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج سے اصول بنا لیں تنقید کریں گے تضحیک نہیں کریں گے۔

دوسرے نمبر پہ اہل سیاست ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں اہل سیاست کے کاموں سے بھی لوگ نالاں ہیں سیاست دانوں کو برا بنا کے ہیش کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ میڈیا کا ہے اس لیے کہ میڈیا کے لیے مثبت چیز خبر نہیں ہوتی یہ ہمیشہ منفی رخ پیش کرتے ہیں اور کچھ کرائے کے لوگوں نے لفافے لے کر سیاست دانوں کی کردار کشی کی۔ بچے بچے کو سیاست و سیاست دانوں سے متنفر کیا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ سیاست دان دودھ کے دھلے ہیں لیکن یہ شیطان بھی ہر گز نہیں ہیں یہ قوم کے منتخب نمائندے ہیں ان کا احترام ضروری ہے اور خصوصا اس وجہ سے بھی ان کا احترام ضروری ہے کہ یہ دنیا بھر میں پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہیں۔

آج دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے آپ اپنے سیاستدانوں کو کرپٹ زانی لٹیرا اور قاتل کہیں گے تو دنیا آپ کے ملک کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی دنیا سوچے گی جس کی اپنی حالت یہ ہے کہ لوگ اسے شیطان سے کم نہیں سمجھتے اس کی بات کا کیا اعتبار کریں؟ جب آپ اپنے سیاستدانوں کے بارے میں منفی رویہ رکھیں گے تو دنیا بھر میں اچھا پیغام نہیں جائے گا

بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں سیاست دان جلسوں میں ایک دوسرے کے کپڑے دھوتے ہیں کیچڑ اچھالتے ہیں باہر کچھ لوگوں کو تیار کروا کے جوتے مرواتے ہیں۔ یہ کہاں کی اخلاقیات ہیں؟ لیکن پھر بھی ہم نے کوشش کرنی ہے کہ انہیں عزت دیں اس لیے کہ یہ میرے ملک کا چہرہ ہیں اور میرے ملک کا بدنما چہرہ اچھا نہیں۔ اپنے سیاستدانوں پہ تنقید ضرور کریں لیکن تضحیک نہ کریں ان کے ایسے کارٹون مت بنائیں جس سے تضحیک کا پہلو نکلتا ہو اپنے چہروں کو بچائیے۔

تیسرے نمبر پہ افواج پاکستان ہے۔ فوج کے چند جرنیلوں نے اقتدار کی ہوس کے لیے حکومتوں پہ شب خون مارا۔ چند جرنیلوں نے قوم کے منتخب نمائندوں کو اٹھا کے جیل میں ڈال دیا تھا۔ بعض کو جلاوطن کیا اور بعض کو سزائے موت دی لیکن یہ چند لوگ تھے جنہوں نے یہ حرکت کی ان کی اس وجہ سے ساری افواج کے خلاف ذہن بنا لینا بھی ٹھیک نہیں۔

یاد رکھیں جس ملک کی فوج کمزور ہوتی ہے وہ ملک کمزور ہو جاتا ہے اور جب کسی ملک کی فوج کو کمزور کرنا ہو اس کو عوام سے لڑا دو، پبلک کا اعتبار ختم کردو، وہ فوج وہ ملک خود بخود ٹوٹ جائے گا۔ 1971 کا سیاہ دن کسے یاد نہیں؟

فوج قابل عزت ہے اس وقت تک جب وہ سرحدوں کی حفاظت کرتی رہے۔ فوج اس وقت تک قابل عزت ہوتی ہے جب اس کی توپوں کا رخ دشمن کی طرف ہوتا ہے۔ جب فوج اپنا کام کرتی ہے تو اس کے لیے ترانے لکھے جاتے ہیں اس پہ پھول پھینکے جاتے ہیں اسے سیلوٹ پیش کیے جاتے ہیں لیکن جب اپنی عوام سے لڑتی ہے تو پھر مکتی باہنی بنتی ہے۔ ماضی میں جو ہوا سو ہوا اب آگے بڑھیے۔ مضبوط فوج ملک کے لیے ضروری ہے اس لیے فوج کے بارے میں تضحیک کا رویہ نہ اپنایا جائے۔

یہ اس لیے لکھنا پڑ رہا ہے جب بھی ان تین طبقوں پہ بات کروں تو شدت واضح دکھائی دیتی ہے۔ محبت و نفرت چھلک رہی ہوتی۔ احتیاط کیجئے احتیاط۔

خلاصہ تین لفظوں میں یہی ہے کہ اہل مذہب کی تضحیک نہ کی جائے یہ مذہب کے نمائندے ہیں۔ سیاست دانوں کی تضحیک نہ جائے یہ میرے ملک کا چہرہ ہیں۔ فوج کی تضحیک نہ کی جائے اس لیے کہ مضبوط فوج مضبوط ملک کی ضامن ہوتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔