آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر


تحریر و تحقیق : اسلم بھٹی / اے جنید \"\"

ہر سال اس طرح بھی یوم کشمیر پر پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور پاکستان کشمیریوں کے موقف کی حمایت کرتا ہے کہ ہے اور اقوام ِ عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کے حق خود داریت کو تسلیم کیا جائے۔ وادی کشمیر، جنت نظیر جو کہ 1931 سے لے کر آج تک87سالوں کی طویل جنگ لڑرہی ہے اور اس جنگ میں کم و بیش1لاکھ دھرتی کے جوان اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اس خطہ ارض کشمیر ایک ایسا زیور ہے جو کہ شہیدوں کے خون سے نہایا ہو اہے۔ بین الاقوامی میڈیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اور ریلیف کے اداروں کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ حتٰی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں وادی کشمیر (مقبوضہ ریاست ) ایک ایسی جگہ ہے جہاں بیرونی دنیا بالخصوص پاکستان سے فون پر رابطہ کی اجازت نہیں ہے۔ اِس سرزمین پر بھارت کی درندہ صفت فوجوں نے اپنی بربریت کی مثال قائم کر دی ہے۔ شہداء کے جنازوں، نماز اور عیدین کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہے۔ لیکن ان سب اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی کشمیر مزید جوش و جذبے سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منزل اب زیادہ دور نہیں ہے۔

69سالوں پر محیط یہ داستان الم جو کہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں بار ہا دہرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد اقوام ِ عالم کے ضمیر کو جگانا تھا۔ مودی سر کار کو کوئی جاکر یہ بھی بتائے کہ جیل میں بند کرنے سے اور ہاتھ پاؤ ں باندھنے سے دلِ سے آزادی کا چراغ بجھ نہیں سکتا۔ بیلٹ گنوں سے آنکھیں تو بینائی سے محروم کی جا سکتی ہے مگر ان سے آزادی کا خواب کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہر کشمیر کی زندگی کا نصب العین آزادی کا چمکتا ہوا سورج دیکھنا ہے۔ ہر کشمیر ی کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کے دِل کی آواز کشمیر بنے گا پاکستان۔

دنیا گواہ ہے کہ تاریخ کا بدترین کرفیوں بھارت کے کشمیر پر جاری رکھا۔ بھارت سرکار اپنی ازلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہی ہے۔ اَب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ خود بھارتی فوج بھی سرکار کی پالیسیوں سے بے زاریت کا اظہار چکی ہے۔ سید علی گیلانی (چیئر مین آل پارٹیز حریت کانفرنس)کا کہنا ہے کہ 70برس بیت گئے ہیں مزید ستر بھی گذر جائیں تب بھی ہماری نسلیں بھارت کے جبر سے برسر پیکار رہیں گی۔ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن حل چاہتے ہیں جموں کشمیر سے فوجی انخلا ء اور اور اقوام ِ متحدہ کی حق خودداریت سے متعلق قراردادوں کے نفاذ کے لئے سہ فریقی مذاکرات ہوں۔

پاکستان کشمیریوں کے موقف کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔ اور جلد از جلد فوجوں کے انخلا ء چاہتا ہے۔ پاکستان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام بے گناہ قیدیوں اور نظر بند شخصیات کو رہا کیا جائے۔ بھارت اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں بنیادی تنازع مسئلہ کشمیر ہے۔ پاکستان نے تمام فورمز پر کشمیر کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ اور ہمیشہ اٹھاتا رہے گا۔ پاکستان اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لاتا رہا ہے اور آگے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی آواز بہنوں کی صدائیں تمام دنیا تک پہنچتا رہے گا۔

5فروری صرف ایک دن ہیں نہیں بلکہ ہماری ہر سانس اپنے کشمیر ی عوام کیساتھ جڑی ہیں۔ کشمیریوں کے موقف کی حمایت میں ہر ہنر آزمائیں گے۔ انسانی۔ سیاسی۔ معاشرتی۔ اخلاقی طور پر ہر طرح کی حمایت کرتا ہے۔ بھارت کے ظلم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ بے شک۔ بھارتی جارحیت انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہے جو کہ ہندو مہاراج نے کشمیر کے ماتھے پر لگایا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ صرف زبانی کلامی نعرہ ہیں نہیں بلکہ ہر دل کی آواز ہے۔

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں اور سروں سے ردائیں
دشمن نے جن بھیڑیوں کی جنگی وردی پہنا دی
حُسن لِکیروں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر
آزادی کا لفظ لکھا کشمیر کی شکل بناد ی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 7 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti