فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو سخت سزا دی جائے گی: چیئرمین پی سی بی


\"\"چیئرمین پی سی بی شہر یار خان نے کہا ہے کہ فکسنگ کرنے کے بعد کوئی یہ مت سمجھے کہ 2، 4 سال بعد ٹیم میں واپس آ جائے گا جب کہ شرجیل اور خالد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی سی بی شہر یار خان نے کہا کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے فکسنگ کے خلاف کارروائی میں لیڈنگ رول ادا کیا جب کہ آئی سی سی معاملہ سے آگاہ تھی،سزائیں بھی پی سی بی ہی دے گا۔ سلمان بٹ،محمد آصف اورمحمد عامرکےخلاف کارروائی میں آئی سی سی کا لیڈنگ رول تھا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ فکسنگ کے افسوسناک واقعہ میں کم علمی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے، پلیئرز نہیں سمجھتے کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں، ایونٹ شروع ہونے سے پہلے اینٹی کرپشن یونٹ نے پلیئرز کو لیکچر دیا اور اسی شام کو وہ ملنے چلے گئے، پڑھے لکھے کھلاڑی آئیں گے تو کھیل اور کھلاڑی سب کو فائدہ ہو گا۔
چیئرمین نے حالیہ واقعہ کے تناظر میں کہا کہ کوئی یہ مت سمجھے کہ فکسنگ کرکے دو چار سال بعد ٹیم میں واپس آ جائیں گے، محمد عرفان کو معطل نہیں کیا گیا، نہ ہی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے تاہم ان سے تفتیش کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ کسی اور پلیئر سے تفتیش نہیں کی جا رہی، شاہ زیب اور ذوالفقار بابر کلیئر ہیں۔ شرجیل اور خالد میرے ساتھ فلائٹ میں واپس آئے، اترتے ہوئے میں نے انہیں کہا کہ تم نے پاکستان اور اپنے خاندان کو بدنام کیا ہے، اب کبھی تم سے بات نہیں کروں گا۔ دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے تاہم انہیں صفائی کا موقع ملے گا۔ حالیہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سینئر جج کی سربراہی میں کمیٹی بنائیں گے جو کھلاڑیوں کا موقف سنے گی۔
اشہریار خان نے کہا کہ پی سی بی کے لیے پی ایس ایل بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ پاکستان کی عزت کا معاملہ ہے، فائنل لاہور میں کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔ آئی سی سی ٹاسک فورس کے سربراہ جائلز کلارک نے بھی دورہ پاکستان کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جو بہت مثبت تھی، جائلز کلارک نے رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں 80 فیصد تک کمی آچکی ہے، لاہور میں جیسی سکیورٹی دکھائی گئی ویسی دنیا میں کہیں نہیں دیکھی، پی ایس ایل فائنل لاہور میں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  عمران خان کی ذاتی زندگی کے ثبوت سامنے آئے تو وہ منہ نہیں دکھا سکیں گے: احسن اقبال

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔