ویلنٹائن سے متاثر شادی شدہ جوڑا اپنے گھر میں زنا کرتے ہوئے گرفتار


\"\"

لاہور پولیس کو مخبر نے اطلاع دی کہ فروری میں ویلنٹائن ڈے آ رہا ہے۔ لاہور پولیس بھی ہمارے جیسی سادہ مزاج سی ہے۔ اس نے بھی انٹرنیٹ پر چلنے والا مبینہ وزیر اعلی پنجاب جناب میاں محمد شہباز شریف کا وہ مبینہ حکم پڑھ رکھا ہو گا جس میں انہوں نے فروری 2012 میں پنجاب کی مبینہ پولیس کو مبینہ احکامات دے رکھے ہیں کہ خبردار، کسی کو ویلنٹائن ڈے کے نام پر فحاشی مت پھیلانے دینا۔ خفیہ ٹیم تشکیل دو جو پنجاب بھر کا دورہ کرے اور مقامی ہوٹلوں، پارکوں، ریستورانوں اور بیکریوں وغیرہ کو غیر اخلاقی حرکات کرتے ہوئے دیکھے تو پکڑ لے اور ”اسلامی ایکٹ“ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کر دے۔

اب پنجاب پولیس اور ہم فوری ایکشن کرنے والے افراد ہیں اور سوچنے سمجھنے یا اطلاعات و احکامات و افواہوں کی تصدیق کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ ویسے بھی ویلنٹائن پر قومی اخلاق اور شرم و حیا کے تحفظ کے احکامات تو مل ہی چکے تھے کہ پولیس نظر رکھے۔ اس لئے شاہدرہ پولیس نے جمعۃ المبارک 10 فروری کو ہی ویلنٹائن ڈے کے خلاف ایکشن شروع کر دیا اور شہر بھر میں مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ مقامی اخبار کی خبر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک گھر میں ایک جوڑا ویلنٹائن ڈے کی مشق کرنے کے لئے مقیم ہے اور جیسے ہی 14 فروری آئے گا تو یہ جوڑا اچانک گھر سے نکلے گا اور مقامی ہوٹل، پارک، ریستوران اور بیکری میں جا کر ویلنٹائن ڈے منا لے گا اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دے گا۔

متعلقہ تھانیدار صاحب کی حمیت نے جوش مارا اور انہوں نے فوراً ایک پولیس پارٹی تشکیل دی جس نے گھر پر چھاپہ مارا اور جوڑے کو رنگے ہاتھوں رنگ رلیاں مناتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ جوڑے کے وکیل کے مطابق رات بھر جوڑے سے برہنہ حالت میں نیک چلنی کی ضمانت مانگی جاتی رہی اور حیا کی تلقین کی جاتی رہی اور خوب مطمئن ہو کر یہ کہ یہ دونوں بند گھر میں فحش حرکات کرنے کے اہل ہیں، صبح کو انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا اور فرد عائد کر دی کہ یہ زنا کر رہے تھے اور تفتیش میں اس بات کی تصدیق کر لی گئی ہے کہ یہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

\"\"

لیکن ان دونوں کا وکیل نہایت ہی شریر تھا۔ اس نے دعوی کر دیا کہ یہ دونوں تو شادی شدہ ہیں اور نادرا کا آئی ڈی کارڈ بھی نکال کر مجسٹریٹ صاحب کو دکھا دیا کہ دیکھیں اس پر بھی یہی لکھا ہے۔ اب اگر عدالت نادرا پر اتنا زیادہ یقین نہ کرتی اور تھانیدار صاحب کی بات کو وزن دیتی تو جوڑے سے مطالبہ کرتی کہ گزیٹڈ افسر کا تصدیق شدہ نکاح نامہ پیش کرے۔ نادرا والوں کے تو سو سکینڈل اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں کہ وہ افغانوں اور طالبانوں کے شناختی کارڈ بھی بناتے رہے ہیں تو ان کا کیا اعتبار۔

مگر کوئی قانونی پیچیدگی ہو گی جو عدالت نے نادرا پر اعتبار کر لیا اور بجائے اس کے کہ تھانیدار صاحب کو ان کی فرض شناسی اور ویلنٹائن ڈے پر فحاشی روکنے پر شاباشی دیتے، الٹا متعلقہ ڈی آئی جی صاحب کو ہی بلا کر شادی شدہ جوڑے کے خلاف عاجلانہ اور غیر ضروری کارروائی پر ڈانٹ ڈپٹ کر دی۔ یہ تک کہہ ڈالا کہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پائمال کیا ہے اور وارنٹ کے بغیر گھر میں داخل ہوئی ہے۔ اور یہ بھی غیر اخلاقی ہے کہ کسی خاتون کانسٹیبل کے بغیر گھر کی تلاشی لی ہے۔

\"\"

بہرحال عدالتی احکامات جو بھی ہوں مگر یہ تو سب خواص و عوام پر واضح ہوا کہ شادی شدہ ہونا اور اپنی منکوحہ سے اپنے ہی گھر میں فحش حرکات کرنا کسی صورت بھی ہماری غیرت مند پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت برداشت نہیں کرے گی۔ ویلنٹائن ڈے پر کسی قسم کی فحش حرکت کرنے کی کسی بھی شہری کو ہرگز بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لیکن ہر ذی شعور شخص کو یہ سوچنا ہو گا کہ اس عدالتی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بیچاری پولیس ویلنٹائن ڈے پر دلبرداشتہ ہو کر اپنے گھروں میں چھپے ہوئے شادی شدہ جوڑوں کو یوم حیا منانے کی تلقین کرنے سے رک گئی تو کیا ہو گا؟ بخدا بے حیائی اور آبادی کا ایسا طوفان آ سکتا ہے کہ زمین تنگ پڑ جائے گی۔ وزیر اعلی صاحب کو ویلنٹائن ڈے پر اصلی احکامات جاری کر دینے چاہئیں اور قانون سازی بھی کر دینی چاہیے کہ آئندہ پنجاب کی حدود میں کسی شادی شدہ جوڑے کو اپنے گھر میں بھی فحش حرکات اور ایک دوسرے سے زنا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 568 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar