دہشت کا علاج کیوں نہیں ہو پاتا؟


mujahid aliانٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے کل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ میں دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے جو بریفنگ دی ہے، اس میں واضح کیا گیا کہ ملک میں مشرق وسطیٰ کی دہشت گرد تنظیم داعش کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے بے شمار گروہ اور لوگ موجود ہیں۔ اس لئے اس خطرے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ گروہ پاکستان میں مزید قوت حاصل کر لے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا ہے کہ ملک میں انتہا پسندانہ ذہن تیار کرنے کے لئے 20 برس صرف کئے گئے ہیں۔ اب اگر اس مزاج کو بدلنے کے لئے کام کرنا شروع کیا جائے تو آٹھ دس برس کا وقت تو صرف ہو گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں ملک کے متعدد لکھنے اور سوچنے والے تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں تاہم جب ملک کے ایک اہم انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ اس بارے میں نشاندہی کرتے ہیں تو اسے صرف قیاس آرائی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کی حکومت ابھی تک اس خوفناک حقیقت کو سمجھنے اور اس مزاج اور رویہ کا تدارک کرنے کے لئے مستعد ہونے سے گریز کر رہی ہے، جس طرف خفیہ ایجنسیاں ، دانشور اور مبصر یکساں طور سے اشارے کر رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کا سرکاری موقف اب بھی یہی ہے کہ ملک میں داعش کا کوئی منظم نیٹ ورک نہیں اور وہ آئی بی کے سربراہ کی سینیٹ کے سامنے پیش کردہ معلومات پر کوئی تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں داعش کے بارے میں اپنے ان قیمتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا داخلی یا سکیورٹی امور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک مملکتی نظام میں دوسرے محکموں کی طرح یہ وزارت بھی متعلقہ اداروں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر ہی اپنا نقطہ نظر تیار کرتی ہے اور اسے پیش کرتی ہے۔ وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس ادارے اس بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے ان کی رائے ہی صائب اور حتمی قرار دی جائے گی۔ لیکن اس صورت میں آخر وہ کون سی مجبوری ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ تو نہ صرف داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے تال میل کا ذکر کر رہے ہیں اور اس رجحان کے تدارک کے لئے تجاویز بھی پیش کرتے ہیں، لیکن اسی حکومت کی وزارت خارجہ ان معلومات سے بے خبر ایک ایسا طے شدہ موقف بیان کرنے پر مجبور ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔ ملک کے دو اہم اداروں کے اس متضاد موقف کی روشنی میں تو یہی اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک میں سرکاری سطح پر کنفیوژن اور بے یقینی موجود ہے۔ اس لئے وزارت خارجہ صرف وہی بیان دیتی ہے جو ملک کے سیاسی حکمران عوام اور دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی حقیقت سے انکار اور اپنی کامیابی کا مسلسل اصرار تا کہ یہ تاثر پختہ کیا جا سکے کہ حکومت بہت فعال ہے اور صورتحال پورے طور سے اس کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن یہ رویہ شکست خوردگی کا مظہر ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ ملک کے سیاسی حکمران نہ تو زمینی حقائق کا ادراک رکھتے ہیں اور نہ اس جھمیلے میں پڑنا چاہتے ہیں۔ وہ حکمرانی کے مزے لوٹنا اور آئندہ انتخاب کے موقع پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے چند خوشنما نعرے ایجاد کرنا چاہتے ہیں جو ان کے مخالفین کو زچ کر دیں اور عوام کسی طرح پھر سے اسی قیادت کو اپنی تقدیر سے کھیلنے کا موقع فراہم کر دیں۔

یہی صورتحال حکومت پر بداعتمادی اور عوام میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ سیاسی مخالفین اپنے اپنے طور پر اس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ آئندہ وہ کسی نہ کسی طرح عوام کی تائید حاصل کر سکیں اور جو مزے اس وقت نواز شریف اینڈ کمپنی لوٹ رہی ہے وہ ان کے حصے میں آ سکیں۔ حالانکہ حکومت پر بداعتمادی اور عام لوگوں میں مایوسی ایک ایسا سنگین قومی عارضہ ہے ، جس کے بارے میں ہر کس و ناکس کو جو اس ملک و قوم سے محبت کا دعوے دار ہے، پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک میں معاملات کی نوعیت اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ شخصی کمزوری اور قومی عارضہ میں فرق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ حالات کی ابتری کو حکومت کی نااہلی اور ناکامی سمجھ کر خوشی سے بغلیں بجائی جاتی ہیں یا حکمرانوں پر ہر نوعیت کی نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ ملک کے سیاست دان بیک زبان موجودہ نظام یعنی جمہوریت کو جاری رکھنے پر متفق ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی کو بھی یعنی فوج کو جمہوری عمل پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن اس سے بڑی بدنصیبی کی بات کیا ہو گی کہ یہ لوگ خود اپنی حرکتوں اور کم نظری سے اسی شاخ کو کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں جس پر یہ جمہوریت کا آشیانہ مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی لوگوں میں مسلسل اس تاثر کو عام کیا جا رہا ہے کہ موجودہ نظام اور حکومت سے ان کی مایوسی جائز اور درست ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ اس کا متبادل کیا ہے۔

سیاستدانوں کے پاس چونکہ اس سوال کا سوائے اس کے کوئی جواب نہیں کہ وہ بقلم خود اس مشکل کا حل ہیں۔ یعنی برسر اقتدار گروہ کو حکمرانی سے علیحدہ کر کے معاملات کی باگ دوڑ ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے تو سارے معاملات درست ہو جائیں گے۔ تجربہ کار اور جہاں دیدہ سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ان تجربوں سے گزر چکے ہیں، اس لئے وہ اس نعرے کا استعمال ذرا احتیاط سے کرتے ہیں اور عوام کو اگلے انتخاب میں ہوشمندی سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ البتہ عمران خان چونکہ اقتدار کی دوڑ میں نئے نئے شامل ہوئے ہیں اور اقتدار کا ہما ابھی ان کے سر پر نہیں بٹھا، اس لئے وہ تو حکمرانوں کو کان سے پکڑ کر ایوانوں سے نکالنے کی بات کرتے ہیں اور اگست 2014ءمیں دھرنے کی صورت میں اس کی عملی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ حالانکہ اس طرح یہ سارے لیڈر اس مایوسی، پریشانی اور بددلی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں جو اب قومی عارضہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور جس کے بارے میں حکمرانوں اور اقتدار میں آنے کے خواہشمندوں کو یکساں طور سے فکر مند ہونا چاہئے۔ اس کا ہرگز یہ حل نہیں کہ اپوزیشن حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی نہ کرے لیکن طرز حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے وہ حقائق اور معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں جن کا دستاویزی ثبوت فراہم کیا جا سکے اور جن کا بھرم کسی عدالت یا عدالتی کمیشن میں بھی قائم رہ سکے۔ اس کے ساتھ ہی تنقید کے علاوہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ وہ خود برسر اقتدار آنے کے بعد کس طرح اور کیوں کر ان مسائل کو حل کریں گے جن کی طرف وہ اپنی تقریروں اور بیانات میں اشارہ کرتے ہیں۔ یعنی اپوزیشن میں رہتے ہوئے باقاعدہ منشور اور ایکشن پلان سامنے لایا جائے۔ تا کہ حکمرانوں کی تبدیلی کی صورت میں عوام اور میڈیا ان نکات کی روشنی میں نئی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔ بدنصیبی سے اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کا منشور نعروں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس لئے نہ ان پر عمل درآمد ہو سکتا ہے اور نہ ہی ان نعروں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کسی سیاستدان کی گرفت ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی پانچ دہائیوں سے روٹی کپڑا مکان دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔ لیکن نہ اس وعدے کی تکمیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس ناکامی پر اس پارٹی کے کسی لیڈر سے سوال کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) 2013 میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے برسر اقتدار آئی تھی لیکن اس بارے میں بھی سوال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ نعرہ سنتے وقت ہم یہ سوال نہیں کرتے کہ بھئی آپ یہ ٹارگٹ کس طرح حاصل کریں گے۔

بات چونکہ دہشت گردی اور اس پر کنٹرول کے حوالے سے دو سرکاری اداروں کے متضاد دعوؤں سے شروع ہوئی تھی، اس لئے سیاسی جماعتوں کے کردار کو صرف اس ایک مسئلہ کی روشنی میں ہی پرکھا جائے تو بھی کوئی حوصلہ افزا نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی حکمران رہی اور ملک میں انتہا پسندی اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ موجودہ حکمران اس وقت پیپلز پارٹی کے قائدین کو برا بھلا کہتے تھے۔ اب وہی فرض پیپلز پارٹی ادا کر رہی ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں اور ملک میں اصلاح احوال کی دعویدار دیگر ساری پارٹیاں صرف ان دو اصولوں پر متفق ہو جائیں جو انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے سینیٹ میں بیان کئے ہیں۔ کہ : الف) انتہا پسندی کے خلاف مزاج سازی کے لئے کام کیا جائے تا کہ دہشت گرد گروہوں کی افزائش میں کمی واقع ہو سکے۔ ب) علاقائی تعاون کو مربوط بنایا جائے تا کہ دہشت گرد گروہ مختلف ملکوں کے اختلافات کو اپنی قوت بنانے میں ناکام ہو سکیں۔

یہ دو بنیادی کام کئے بغیر ملک، خطے اور دنیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ لیکن پاکستانی سیاستدان ان اصولوں پر متفق ہونے میں بری طرح ناکام ہیں۔ جب بھی ایسی کوئی صورت پیدا ہونے لگتی ہے تو باآسانی ایسے مباحث کا آغاز کروا لیا جاتا ہے کہ انتہا پسندی کیا ہے۔ مذہب سے آخر اس کا کیا تعلق ہے۔ کسی ایک فرقہ کو ہی اس کا الزام کیوں دیا جاتا ہے۔ آخر مدارس ہی کیوں نشانہ بنیں۔ اسکولوں یونیورسٹیوں پر انگلی کیوں نہیں اٹھائی جاتی …. وغیرہ۔ اس قسم کے مباحث شروع کرنے والے سب لوگ یا تو دہشت گردی کی تباہ کاری کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا کسی نہ کسی طرح اسے اپنی حتمی کامیابی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ گویا سیاسی منظر نامے پر ایک سادہ اصول پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ممکن نہیں ۔ نہ ہی اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس لئے مختلف نقطہ نظر کو ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے پیش کرنے اور پھر ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا کام کبھی دیکھنے میں نہیں آتا۔

شاید اسی لئے ملک کے وزیر داخلہ استادوں کو مسلح کرنے کے بعد اب صحافیوں کو جدید اسلحہ فراہم کر کے سکیورٹی بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم، وزارت خارجہ کے ذریعے خوشنما بیانات دلوا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اور فوج کے سربراہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ پیسہ باہر سے آتا ہے، سہولت کار اور تخریب کار ملک کے اندر ہی موجود ہیں۔ انہیں ختم کئے بغیر آپریشن ضرب عضب مکمل نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کے حوالے سے اتنا دو ٹوک اور واضح موقف شاید پہلے سامنے نہیں آیا۔ لیکن سوال پھر بھی وہی ہے کہ اگر مرض کا پتہ ہے تو علاج کیوں ہو نہیں پاتا؟

اس کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ نہ حکومت کے ادارے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور باہمی اشتراک کو مضبوط بناتے ہیں اور نہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو کر کام کر سکتے ہیں۔ ایسے میں جب پوری دنیا شام کی بگڑتی صورتحال ، دولت اسلامیہ کے جنگجوﺅں کے عزائم و خطرات اور ان کے نتیجے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ کے امکانات کا سامنا کر رہی ہے تو صرف پاکستان کی وزارت خارجہ کا ترجمان ہی اس اندیشے کو مسترد کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔ پھر بہتری کا امکان کیسے تلاش کیا جائے؟


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali