لاہور کا دھماکہ؛ کچھ ڈزنی لینڈ والوں سے سبق سیکھو


لاہور اور اس کے مضافات میں کچھ پریس کانفرنسز کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ پریس کانفرنس سے قبل اور بعد پرانے پیغامات کی پھر سے رونمائی ہو گی۔ کچھ آہنی ہاتھوں کا ذکر ہو گا، کچھ کمروں کی ٹوٹ پھوٹ کی بات ہو گی، صیغہ مستقبل قریب میں اجازت نہ دینے کی گردان کی جائے گی۔ خشوع و خضوع سے عامیوں کے حضور مذمت کی صدا باندھی جائے گی۔ قربانی اور شہادت کی سبیلیں کھول دی جائیں گی۔ بزدل دشمن پر تبرا بھیجا جائے گا۔ وزارت خزانہ میں نئی چیک بک جاری ہو گی تاکہ موت کی قیمت چکانے کی دکان صبح دم کھولی جا سکے۔ اس بیچ فیس بک پر PSL  کے لاہور میں فائنل کے بارے تعزیتی اسٹیٹس لگیں گے۔ کچھ دیر ہوگی کہ لاشوں کے تلے گمشدہ دہشت گرد کے سر مل جانے کی نوید مسرت قوم کو سنائی جائے گی۔ بال بیرنگ اور کیلوں سے مرنے والوں کا تناسب نکالا جائے گا۔ کالعدم، کالعدم، کالعدم کا ورد ہو گا اور اس بیچ رپورٹر اور کیمرہ مین آنسو، ماتم اور چیخیں سب سے پہلے قوم تک پہنچاتے رہیں گے۔ ایک دو روز تماشا لگے گا پھر دوبارہ توجہ لاہور قلندر کی بیٹنگ لائن کی ناکامی اور ڈیرن سیمی کی سیلفیوں کی طرف رکھ لی جائے گی۔

سچ تو یہ ہے کہ کرنے کو بات کچھ ہے نہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ اس پر خوش ہوا جائے کہ اب مہینے میں دس نہیں، دو دھماکے ہوتے ہیں۔ سال میں لاشے ہزاروں میں نہیں سینکڑوں میں گرتے ہیں۔ معیشت سنبھل رہی ہے بلوم برگ کہتا ہے کہ قوم کے پاس اب پہلے سے زیادہ واشنگ مشینیں ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل آنے والے پچیس سالوں میں ہمیں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنا دیکھتا ہے۔ ہمیں اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ اینرون اور سب پرائم قرضوں کے عالمی بحران سے پہلے بھی یہی تجزیہ کار سب اچھا ہے کی پے درپے رپورٹیں لکھ رہے تھے، ان عظیم خوشخبریوں پر نئے بھنگڑے ڈالنے کی مشق شروع کر دینی چاہیے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ ہمارا عزم فولاد ہے، ہم قربانی سے نہیں ڈرتے اور ہم بزدل دشمن کی دم میں نمدا باندھ دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ پر کیا ہے کہ کچھ نئی قبریں پیش نظر ہیں۔ کچھ گھروں کے چولہے اب ٹھنڈے پڑے ہیں۔ کچھ دیواروں پر اداسی کی آکاس بیل گھنی ہوئی جاتی ہے۔ کہیں کچھ مسکراہٹیں اندھیری سڑک پر گری ہیں اور ہمیشہ کے لیے کھو گئی ہیں۔ کیا کریں صاحب، ڈھیٹ ہیں پر اتنے نہیں ہیں۔

نائن الیون کو گزرے پندرہ برس ہو گئے۔ امریکہ بہادر نے اپنے گھر ایک دھماکہ نہیں ہونے دیا۔ کچھ برس ہوئے میں امریکہ کی کئی ریاستوں سے اپنی کار میں سفر کرتا تھا۔ چار ہزار کلومیٹر کے سفر میں ایک پولیس کار نظر نہیں آئی۔ نیویارک، لاس ویگاس، سان فرانسسکو اور لاس اینیجلیس جیسے شہروں میں ایک ناکہ نہیں ملا۔ ڈزنی لینڈ اور یونیورسل اسٹوڈیو کے باہر کسی نے میری کار کا ٹرنک اور انجن نہیں کھلوایا۔ کسی شاپنگ سنٹر کی پارکنگ میں گارڈ نہیں تھا کہ گاڑی کے نیچے شیشہ پھراتا اور بارود کی بو سونگھ لینے والی جادو اثر نالی کے ساتھ چہار طرف طواف کرتا۔ بذریعہ سڑک سفر کا یہی تجربہ یورپ کے دس بارہ ملکوں میں بھی دہرایا۔ پھر وہی ناکوں کے بغیر سڑکیں، گارڈ کے بغیر پارکنگ، پولیس کی تلاش میں کئی کئی دن بھٹکتی نظریں۔ اسلام کے نام لیوا شدت پسندوں سے خطرہ انہیں بھی ہے اور ہم سے بڑھ کر ہے پر وہ جانتے ہیں کہ خود کش حملہ آور ناکے سے نہیں رکتا، وارننگ کے خطوط جاری کرنے سے دہشت گردوں کی راہ کھوٹی نہیں ہوتی اور واک تھرو گیٹ منصوبہ بندی نہیں پکڑ سکتے۔

دنیا بدل گئی ہے۔ ایک چیز ہوتی ہے انٹیلی جنس جو فون ٹیپ کرنے، لوگوں کا تعاقب کرنے، مخبر پالنے اور گروہوں کو باہم پیکار کرنے سے آگے نکل آئی ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے۔ ڈیٹا بیس اور سیٹلائٹ کی دنیا ہے۔ ہم ناکوں پر کھڑے ٹرک اور موٹر سائیکلیں روکتے رہے۔ ویلنٹائن ڈے پر پھولوں کی دکانوں پر چھاپے مارتے رہے اور بسنت کے دن سیڑھیاں لگا کر گھروں کی چھتیں سر کرتے رہے تو پھر وہی ہوتا رہے گا جو ہوتا آ رہا ہے۔ ذہن بدلنے میں ابھی وقت ہے۔ ابھی ہمارے رہنما فیصلہ نہیں کر پائے کہ دہشت گرد ان کے دوست ہیں یا دشمن، حریف شہید ہے یا مقتول، ملزم کو گرفتار کرنا ہے یا نظر بند، کتابوں میں درس جہاد دینا ہے کہ محبت کے سبق پڑھانے ہیں۔ سانپ پالتے ہی رہنے ہیں یا کبھی مارنے بھی ہیں، جنگ کرنی ہے کہ معاہدہ امن، ووٹ اہم ہیں کہ اصول، کافر کافر کا نعرہ اچھا ہے یا امن کی آشا۔

ابھی ذہن بدلنے میں دیر ہے بھیا۔ تب تک کچھ تو کرو سجن۔ زندگی کا معاملہ ہے۔ فوج، پولیس اور ایجنسیوں کو پچاس سال پرانے مائنڈ سیٹ سے باہر نکلنا پڑے گا۔ یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی۔ فارنسک تجزیے، معلومات کی کوڈنگ، نئے سوفٹ ویر، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی جامع ایپلیکیشنز اور سائنسی بنیادوں پر تربیت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے فعال اینٹی ٹیررسٹ ادارے کی تشکیل کے بغیر ہم یہ جنگ ہارتے چلے جائیں گے۔ موٹر وے بناتے رہیے، پانامہ پر لڑتے رہیں، ایک ارب درخت شوق سے لگائیے پر اس بہتے خون کی خاطر ایک دفعہ مل بیٹھ کر کچھ اس پر بھی فیصلے کر لیں، کچھ فنڈز ادھر بھی لگا دیجیے، کچھ عقل والوں کو ادھر بھی باگ ڈور سنبھالنے دیں۔ جان سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں اور جان نہ مذمت سے واپس آتی ہے نہ معاوضے کے چیک سے۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 58 posts and counting.See all posts by hashir-irshad