لاہور دھماکہ اور بند ہوتا برج خموشاں کا دہانہ


\"\"آج پھر فضا میں بارود اور خون کی بو ہے۔ آج پھر ریاستی امان کے نام پر لہو کا خراج دینے کو کئی معصوم اپنی جان وار بیٹھے ہیں۔ وہ جن کی آنکھوں میں زندگی کی امید آخری دم تک ماند نہ پڑی ہوگی۔ وہ جن کے پیاروں کی منتظر اشک آلود آنکھیں اب دروازے کی اور حسرت سے لگی ہوں گی۔ عجب مقامِ حیرت ہے کہ جان لینے والا بھی اور جان دینے والے بھی سبھی نے اپنے لیے شہادت کا لقب چنا ہو گا، جسے بڑے فخر سے سینے پہ سجائے وہ زمیں کی گود میں پنہاں ہو جائیں گے اور ان کے ارزاں خون پہ رقصاں ابلیس اپنے نئے جشن کی تیاری میں بڑے خشوع و خضوع سے منہمک ہو جائیں گے۔

خوف اور دہشت سے لرزتے میرے دل پہ ابھی پرانے خون کے دھبے بھی زخمِ تازہ کی مانند سجے ہیں۔ وہ جو میری ہم نام تھی۔ وہ کہ جس نے ابھی چند روز قبل ہی مقدس غیرتوں کے سرخ ہاتھوں سے سفید کفن پہنا تھا۔ میں جانتی ہوں اب تک اس کا قاتل مفرور کا لقب پا کر کسی فائل کی زینت بن چکا ہوگا۔ اور ایسے کئی دن اور مہینے بیتنے کے بعد، جب اس کے پیاروں کی ترستی بے نور آنکھیں کسی نادیدہ ہاتھ میں ڈولتے عدل کے ترازو کو تکتے تکتے پتھرانے لگیں گی، تب اس کی فائل بہت اہم حادثات و سانحات کی دستاویزات کے بوجھ تلے دب کر سمٹ جائے گی اور اس کی جگہ لینے کو میرے قبیلے کی کوئی اور پاکیزہ روح آجائے گی۔کہ یہ کاروانِ غیرت ہے جس کی منزل ہی عبرت ٹھہری۔

سچ کہوں تو اب مجھے اپنا آپ اسد محمد خاں کے افسانے’’برجِ خموشاں ‘‘ کے اُس کردار سے مماثل لگتا ہے جو اپنے گردوپیش کے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر بے بسی سے بے حسی کی چادر تلے چھُپنا چاہتا ہے۔ وہ جس سے معترض ہونے کا آخری حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
’’اب تو کسی چیز پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض اسے کرنا چاہیے جس کے بس میں کچھ ہو۔ میرے بس میں کچھ نہیں ہے۔ صرف تماشائی ہونا میرے اختیار میں ہے، اس لیے میں صرف تماشا دیکھ رہا ہوں۔‘‘

یہ وہ کردار ہے جو جانتا ہے کہ نفرتوں اور متعصب رویوں سے پرورش پانے والی ریاست کی بنیادوں کو جب مذہبی عناد، غیرت اور مفاد پرستی کے نام پر معصوم لوگوں کے خون سے سیراب کیا جائے تو بنجر زمین محض نفرت اگلتی ہے اور خون تھوکتی ہے۔ کیونکہ آوازِ حق اُٹھانے والے ریاستی جبر کے عقوبت خانوں اور حق گوئی کی بے جا پابندیوں کے خوف سے سہمے کسی خود ساختہ برجِ خموشاں میں مقید ہو جاتے ہیں۔

’’ میں سر اُ ٹھائے برجِ خموشاں کے دہانے سے نظر آتے روشن آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ مردار خور پرندوں کے غول روشن آسمان کے مقابل آکر اسے ڈھک لیتے ہیں۔ ممکن ہے یہ بصری دھوکا ہو۔۔ مگر میں اپنی ہڈیوں میں محسوس کر رہا ہوں کہ ابتلا کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘

یہ ایسی ابتلا ہے جس میں مبتلا ہوئے ہمیں ستر سال ہونے کو آئے لیکن نہ تو اس ابتلا کی کوئی انتہا ہے نہ اس سے کوئی جائے مفر،ہم سب بے حسی کی چادر تلے محض زندہ دکھائی دینے کی کشمکش میں مبتلا لوگ ہیں۔جن کا ہر آنے والا دن کسی متوقع حادثے اور سانحے کے خوف سے لرزتا رہتا ہے۔

’’خواتین و حضرات! مجھے گمان ہے کہ میں کسی حد تک زندہ آدمی ہوں اور غلطی سے یہاں موجود ہوں؛ کہ شاید یہ برج غلطی سے میرے گرد تعمیر کر دیا گیا ہے۔ اس لیے امید کرتا ہوں کہ آپ کا۔۔ خداوند، مجھے اب چیخنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔‘‘

تو صاحبو ایک ایسا ہی گمان میرے اندر بھی ہے کہ شاید میں بھی کسی حد تک زندوں میں شامل ہوں۔ ایسے زندہ وجود جو اپنے گرد اٹھنے والے وحشت و بربریت کے طوفان کو محض اپنی سہمی ہوئی بصارتوں کی نذر کرنے پر قادر ہیں۔جن کے اطراف میں چنگھاڑتی آوازیں ہر قسم کی دلیل سے مبرّا ہو کر، بدلتے موسموں کی لطافتوں سے جنم لینے والے تہواروں کو بھی مذہبی عناد کے محدب عدسوں سے پرکھ کر، کافر یا مسلم قرار دیتی ہیں اور پھر ان پر ریاستی امان میں مخل ہونے کا دعویٰ دائر کر کے پابندیوں کی بیڑیوں میں جکڑ دیتی ہیں۔کہ اب مسائل کا حل تدبیر نہیں صرف پابندی ہے۔

ذرا سوچئے کہ آئے دن دگرگوں ہوتے حالات کو اپنی مرضی کا رخ دینے والے نادیدہ ہاتھ اور مقتدر طبقات  آسمانی ہدایات کی خود ساختہ  تشریح کے بل پر ہماری زندگیوں سے ان تمام لطیف جذبوں، محبتوں، تہواروں اور رشتوں کے تقدس کو ختم کیوں کرتے جا رہے ہیں جو ہماری مشرقی روایات کی پہچان ہوا کرتے تھے؟ہماری فضا میں بسنت کے موسم کی خوشبو نہیں بارود کی بو کیوں اُٹھتی ہے؟ ہماری دھرتی پہ محبتوں کے گلابوں سے لہو کیوں رستا ہے؟ اگر جواب جاننے میں دِقت ہو تو جان لیجیے کہ آپ بھی اسی برجِ خموشاں میں مقید ہیں جس کا دہانہ آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔