لاہور دھماکہ: مانا جائے کہ نفرت جیت رہی ہے!


 \"\"لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں 20 کے لگ بھگ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں دو اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ دھماکہ شام کے وقت پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع ایک احتجاجی جلوس کے موقع پر ہوا۔ حملہ کرنے کا طریقہ دہشت گردوں کا آزمودہ ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے اس جلوس کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنایا اور اس مقصد میں کامیاب رہے۔ متعدد انسانوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ وہ ملک بھر کے باشندوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت متعدد اقدامات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کے جو دعوے کرتی ہے، اس قسم کا ایک واقعہ ان کا پول کھول دیتا ہے۔ اس کے باوجود صدر پاکستان، وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حسب معمول اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے حکمرانوں کی نیت پر شبہ کرنا محال ہے لیکن یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ 20 برس تک دہشت گردی سے نمٹنے کے بعد بھی اس ملک کی سکیورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیاں آخر ان عوامل کو ختم کرنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہیں جو تسلسل سے حملے کرنے، انسانوں کو بے مقصد ہلاک کرنے اور ریاست پاکستان کو بے بس ثابت کرنے میں کامیاب ہیں۔ پاک فوج دو برس سے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور قبائلی علاقوں سے ان کے اڈے ختم کرنے کےلئے جنگ کر رہی ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے دعوے بھی دن رات سننے کو ملتے ہیں لیکن دہشت گرد یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں کہ انہوں نے کہاں اور کس جگہ کو نشانہ بنانا ہے۔ وہ مقام کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ پشاور ، کوئٹہ یا لاہور۔۔۔۔۔۔ ان تخریبی عناصر کو ہمدرد اور سہولت کار مل جاتے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان کے ادارے ان کے متحرک ہونے سے پہلے ان کا قلع قمع کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے لاہور میں حملہ کے بارے میں متنبہ کر دیا تھا۔ یہ کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں حساس مقامات اور اجتماعات کی حفاظت کا اہتمام کرنا چاہئے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا دہشت گردی سے بچنے کا ایک ہی طریقہ بچا ہے کہ اپنی آزادیوں اور معمولات زندگی کو ترک کر دیا جائے۔ اسکولوں کی دیواریں بلند کی جائیں، اسپتالوں کے باہر خاردار تاریں نصب کی جائیں، شہروں، قصبوں اور محلوں میں داخل ہونے والے راستوں پر پولیس کے ناکے لگائے جائیں اور ملک کی نصف آبادی کو کسی نہ قسم کی وردی پہنا کر ان پر حفاظت کی ذمہ داری تھوپ دی جائے اور باقی نصف کو اس خوف میں مبتلا رہنے کےلئے چھوڑ دیا جائے کہ نہ جانے کب کون دہشت گردی دھماکہ کرے گا اور کب کوئی جنت کا متلاشی جسم سے بم باندھ کر لوگوں کے ہجوم میں گھس جائے اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے خود ”مقدس“ سفر پر روانہ ہو جائے گا لیکن اپنے ہم نفسوں کو آگ اور خون کے طوفان کے حوالے کر جائے گا۔ مائیں اپنے بچوں کو باہر بھیجتے ہوئے خوف و ہراس میں مبتلا رہیں گی اور زندہ واپس لوٹنے کی صورت میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی دو دہائیاں ہمیں یہ سکھانے میں ناکام رہی ہیں کہ اس مزاج اور رویہ کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا۔ کہا گیا کہ یہ جو اللہ کا نام لے کر دھماکے کرتے ہیں، وہ اسلام کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔ فتوؤں کے ڈھیر لگا دئے گئے کہ یہ گمراہ لوگ ہیں جو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرکے جنت کی خواہش کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب جہنم واصل ہوں گے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ یہ فتوے اور اعلان ان لوگوں پر اثر نہیں کرتے جو انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ موت کا گھناؤنا کھیل کھیلنے کو کامیابی اور سرخروئی کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔

دہشت گردی کی مذمت کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہیں نیست و نابود کرنے کےلئے آپریشن ضرب عضب سے لے کر مختلف نوعیت کی عسکری کارروائیاں کرنا بھی بے حد اہم ہے۔ لیکن یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ حکومت کے یہ اقدامات کامیاب کیوں نہیں ہوتے۔ مفتیوں کے خطابات بے اثر کیوں ہیں اور اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ بم کا ہر دھماکہ انسانوں کو نگلنے میں کیوں کامیاب ہو رہا ہے۔ ایک لمحہ توقف کرکے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی کے دعوے کرنے سے پہلے ناکامیوں کی فہرست تیار کر لی جائے۔ یہ بتانے سے پہلے کہ ملک کے لوگوں کی حفاظت کیسے کی جا سکتی ہے، یہ جان لیا جائے کہ موت کا پیغام عام کرنے والے کون لوگ ہیں اور وہ کیوں مسلسل اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ تسلیم کیا جائے کہ دہشت گردی کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے سے متعلق ہماری تفہیم میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور موجود ہے۔ جسے دور کئے بغیر حفاظت ممکن نہیں ہے۔ ہر سانحہ کے بعد مذمت اور عذر خواہی کی بجائے یہ جائزہ لیا جائے کہ کون لوگ کس طرح سے حملہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ انہیں دوبارہ وہی ہتھکنڈہ اور طریقہ اختیار کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ جب تک یہ اعتراف نہیں کیا جائے گا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مملکت کی حکمت عملی اور تدبیریں موثر نہیں ہیں، اس وقت تک انہیں کارآمد بنانے کےلئے اقدامات کا آغاز نہیں ہو سکتا۔

 اڑھائی برس قبل کراچی ائر پورٹ اور اس کے بعد پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ سے قبل اس ملک میں دبنگ طریقے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکی منصوبہ قرار دے کر مسترد کرنے والے لوگ ہر طرف موجود تھے۔ جانا جائے کہ کیا یہ لوگ صرف خاموش ہو گئے ہیں یا انہوں نے اپنی رائے تبدیل کرنے کی ضرورت بھی محسوس کی ہے۔ ملک پر حکمران سیاسی پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد ان عناصر سے مذاکرات کرنے اور انہیں مین اسٹریم کا حصہ بنانے کی بات کرتی تھی جو اس وقت افغانستان میں بیٹھ کر دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے وسائل سے تربیت اور گولہ بارود حاصل کرکے پاکستانیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ پوچھا جائے کہ کیا یہ پارٹی اور اس کے زعما نے جو ” محب وطن طالبان“ کے ساتھ مذاکرات کرنے اور ان کی ناراضگی دور کرنے کا علم اٹھائے ہوئے تھے، اب یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی سوچ غلط تھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کی نیت اور سوچ کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ وہ دشمن کو ہمدرد یا غلط فہمی کا شکار سمجھ رہے تھے۔ کیا اب وہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ جن کے بارے میں یہ دلیل دیتے تھے کہ انہیں گمراہ کیا گیا ہے، دراصل وہی عناصر مملکت پاکستان کو معطل و ناکارہ کرنے کےلئے ایسے مشن پر کاربند تھے جو وہ کبھی اور کسی قیمت پر ترک کرنے کو تیار نہیں تھے۔ یہ اعتراف ملک دشمنی کا اقرار نہیں ہوگا بلکہ اندازے کی غلطی کہلائے گی۔ لیکن اس غلطی کو تسلیم کئے بغیر دہشت گردی کو شکست دینے کےلئے درست حکمت عملی اختیار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ خاص طور سے اس صورت میں کہ یہی لوگ فیصلے کرنے کے مجاز اور پالیسی مرتب کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔

 پاکستانی قوم اور اس کے حکمرانوں کےلئے یہ تسلیم کرنے کا وقت آ چکا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ ناکامی سے دوچار ہے۔ یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ خلوص نیت سے ہو رہی ہے اور بطور قوم اہل پاکستان اس جنگ کو جیتنے کا عزم رکھتے ہیں۔ لیکن کامیابی کےلئے پرعزم قوم کو اپنی کمزوریاں جاننے اور ناکامیوں کا ادراک کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ انہیں دور کیا جا سکے اور دشمن پر اس طریقے سے وار کیا جائے جو واقعی مہلک ثابت ہو۔ کسی ملک کو قلعہ بنا کر اس میں آباد لوگوں کی حفاظت نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ یہ صدائیں امریکہ سے لے کر یورپ اور دیگر دور دراز ملکوں تک سنی جا سکتی ہیں کہ دیواریں اونچی کر لی جائیں تو اپنے لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن مواصلت اور ایک دوسرے پر انحصار کے اس دور میں دیواریں تعصب ، نفرت اور دوری کی علامت ہیں۔ جتنی دیوار بلند ہ گی نفرتیں اسی قدر راسخ ہوں گی۔ یہ فاصلے اپنائیت اور یکجہتی کے اس احساس کو ختم کرتے ہیں جو موت کے پیامبروں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔

 لاہور سے اٹھائی جانے والی لاشیں اپنی مردہ پرسکوت آنکھوں سے اس قوم کے فیصلہ سازوں کی طرف دیکھتی ہوں گی۔ یہ تحیّر اس سوال کی شکل اختیار کر رہا ہے کہ تباہی پھیلانے والے چند ہاتھ حفاظت کرنے والے درجنوِں، سینکڑوں لوگوں سے کیوں بازی لے جاتے ہیں۔ یہ سوال سننے کی ضرورت ہے۔ اس سوال میں اپنی ناکامی اور کج روی کی تصویر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ فہرست مختصر ہے جس میں وہ سنہری اصول درج ہیں جو لوگوں کو زندگی کا حق دیتے ہیں۔ ان اصولوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہر کس و ناکس کو ازبر ہیں۔ بس ان صداؤں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ جو ہر لحظہ کسی نہ کسی بنیاد پر مارنے اور ہلاک کرنے کو جائز قرار دینے کےلئے بلند ہوتی ہیں۔ یہ سبق عام کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلاف زندگی ہے اور زندگی ہے تو سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ جو لوگ موت کے ذریعے اصلاح کا پہلو تلاش کرتے ہیں، وہ بے شک گمراہی کا شکار ہیں لیکن یہ چند لوگ ایک خاص علاقے میں تاک لگائے ہوئے کوئی گروہ نہیں ہے۔ گمراہی کا یہ رویہ تو ملا کے درس ، مبلغ کی تقریر ، صحافی کے قلم اور مقرر کی گفتگو سے ہر دم، ہر لحظہ مترشح ہو رہا ہے۔ وہ چند لوگ جو منہ چھپا کر کسی کونے کھدرے سے نکل کر دھماکہ کرتے ہیں، اس پیغام اور طرز عمل کی پیداوار ہیں جو انسانوں کو بانٹتا اور اختلاف پر کفر کے فتوے صادر کرتا ہے۔

 جب تک خود احتسابی کے تکلیف دہ عمل کا آغاز نہیں ہوگا۔ جب تک یہ اقرار نہیں کیا جائے گا کہ ہم سے کچھ غلط ہو رہا ہے۔ جب تک ہم نفرت کی جہتوں کو سمجھ کر اس کے اثرات سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت تک نہ ایک دوسرے کا احترام عام ہوگا۔ نہ جیو اور جینے دو کا سبق یاد کیا جائے گا اور نہ دھماکوں کے ذریعے گھروں کے چراغ گل کرنے کا سلسلہ رکنے کا نام لے گا۔ لاہور کے شہدا یہ ضرور پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا ان کی قربانی پاکستانی قوم اور اس کے حکمرانوں کو منزل کا تعین کرنے کا سبق یاد کروا سکے گی۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 476 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *