ویلنٹائن ڈے اور خدائی فوجدار


anis aliبسنت منانے سے جو خطرہ مملکت خداداد کے مسلمانوں کو درپیش تھا ، وہ تو کب کا ٹل چکا۔

اب ایک نیا خطرہ قاتل کی نگاہوں کی طرح بڑھتا چلا آ رہا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے دو نمبر تقدیس کے لبادے اوڑھے ہمارے خدائی فوجدار پھر میدان میں ہیں۔

اس مرتبہ خطرہ پھول پیش کرنے سے ہے۔ ویلنٹائن ڈے سے۔

ظاہر ہے کلاشنکوف کی چھاؤں میں زندگی کے مزے لوٹنے والے پر اسرار بندے یہ کیسے دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے ہتھیا روں کی نالوں پر پھولوں کے رنگ بکھیر دیئے جائیں۔

رنگ تو صرف ایک ہی ہے۔ خون کا رنگ۔ بہاتے جائیں۔ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔

لیکن کیا کیا جائے کہ رنگ و بوکا چھڑکاؤ تو پھول کی فطرت میں ہے۔ اور رنگ تو یہ اب بھی بکھیرتے ہیں۔ جنازوں پر۔ کفنوں پر۔ مزاروں پر۔ قبروں پر۔

شاید اب یہی ان کا مقسوم ہے۔

تلور کے قتل عام پر سے پابندی اٹھا لینے کے بعداب پھول پیش کرنے پر قدغن لگا دینا ، چند ہی روز کے اندر اندرعزت مآب کا دوسرا اہم فیصلہ ہے۔ اس سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ عزت مآب قومی اہمیت کے فیصلوں کو اولیت دینے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

کبھی کبھی ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اسی خطے میں صرف ایک نسل پہلے کے ہمارے بزرگ شاید اپنی ثقافت اور اسلامی شعار سے کماحقہ واقفیت نہ رکھنے کے باعث ، کیسی گمراہی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ تو بسنت بھی مناتے تھے۔ ہولی دیوالی کے تہوار بھی۔ دسمبر میں دس چھٹیاں کرسمس ہالیڈیز کے نام پر بھی ملتی تھیں۔ نماز بھی ایک مسجد میں پڑھتے تھے۔ رمضان میں ریستوران اور چائے خانے بھی کھلے رہتے تھے۔ کیسے بھٹکے ہوئے تھے یہ لوگ۔

لیکن قصور ان کا بھی نہیں تھا۔ یہ واقفیت انہیں ہو بھی کیسے سکتی تھی۔ تب اتنے علما، فضلا اور اتنے مدارس تھے ہی کب۔ اصل اسلام تو نافذ ہی اب ہوا ہے۔

اور پھراسلام کے نام پر قبائلی بدوؤں کی ثقافت تھوپ دیئے جانے سے پہلے اس ملک میں مختلف عقیدوں، مسلکوں، نظریات اور سیاسی موقف رکھنے والوں کے آپس کے تعلقات کیسے تھے۔اب اس کی تفصیل میں ہم کیا جائیں۔ کسی لائبریری کی آرکائیوز میں سے پچاس ، ساٹھ کی دہائیوں کے پرانے اخبار نکال کر پڑھ لیجئے۔ آپ کو محسوس ہوگا شاید آپ کسی ترقی کرتے مہذب ملک کے حالات پڑھ رہے ہیں۔

اختلاف رائے ترقی کے کسی بھی عمل میں لازمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن طاقت کے زور پر اپنی رائے کا اطلاق کسی طور بھی دیر پا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ چلن اختیار کیا جائے تو پھر جس کو جب موقع ملے گا اپنی رائے دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یہ صورتحال قانون شکنی کو جنم دیتی ہے، اور لوگ اس سے بچنے کی نئی نئی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔اور پھر انسانی فطرت بھی یہی ہے کہ اسے جس چیز سے زبردستی روکا جائے ، اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ آپ ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا کر دیکھ لیجئے۔ اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو ایسی ہی دوسری بے سروپا پابندیوں کا ہوا ہے۔

جہاں لوگوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے ، مقصد صرف نمبر بنا ناہو، وہاں ایسی لیپا پوتی سے کام نہیں چلتا۔ بے مہار کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات ، پہلے ہی حکومت کی نیک نامی مٹی میں ملا چکے ہیں۔ نا اہلی اور ریاستی امور سے لاتعلقی کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ ریاست کی رٹ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ تو پھر کون ان پابندیوں کو مانے گا۔ وہ مانیں گے جو عام قوانین کا احترام بھی نہیں کرتے۔ لائن میں نہیں لگ سکتے۔ ٹریفک رولز توڑتے ہیں۔ ایمبولنس تک کو راستہ نہیں دیتے۔ مٹھی گرم کرنے کا گر جانتے ہیں۔”جانتا ہے میں کون ہوں “ جن کا تکیہ کلام ہو۔

دراصل یہ مسئلہ عام آدمی کا تو ہے ہی نہیں۔ تھر میں بھوک سے مرتے بچوں کی ماو¿ں کو پانی تک تو ملتا نہیں۔ پھول انہیں کس نے دینے ہیں۔غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے عوام، تعلیم سے محروم بچے، بھٹہ مزدور، بے روزگار، دیہاڑی کے مزدور، چرواہے، خانہ بدوش، اور ایسے ہی کروڑوں دوسرے، جانتے ہی نہیں کہ ویلنٹائن کس چڑیا کا نام ہے۔ ہاں شہروں میں متوسط طبقے اور امر اور حاکموں کے بچے بخوبی واقف ہیں اور اسے منانا بھی جانتے ہیں۔ انہیں روک کر دکھائیے۔

نجانے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا تعلق برصغیر سے ہے جہاں میلے ٹھیلے کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور اس کا اپنا ایک حسن ہے۔ انہیں میلوں ٹھیلوں سے دوسری روایات نے بھی جنم لیا۔ ان میلوں میں گانا بجانا بھی ہوتا ہے۔ ناچ بھی، خواہ دھمال کی صورت میں ہو یا جھومر بھنگڑے کی شکل میں۔ انہی میلوں سے عشق و محبت کی داستانیں بھی وابستہ ہیں۔ کبھی چولستان میں لگنے والے چنن پیر کے میلے سے متعلق روایات پڑھ لیجیئے۔ کچھ انگریز مہم جوو¿ں کی بیان کردہ بھی ہیں۔آپ کو پتہ چلے گا کہ چولستان کی خاموش طبع اور شرمیلی عورتیں اس میلے میں کیسے کھل جاتی ہیں اور عشق و محبت کی کیسی کیسی داستانیں جنم لیتی ہیں۔ خواجہ فرید کی کافی کا ایک بند ہے:

وچ روہی دے راہندیاں نازک نازو جٹیاں
راتی کرن شکار دلیں دے ڈیہاں ولوڑن مٹیاں

( روہی ، یعنی چولستان میں ناز و ادا والی جٹیاں رہتی ہیں۔ جو دن میں تو دودھ بلوتی ہیں اور راتوں میں دلوں کا شکار کرتی ہیں)

اگر سچ پوچھیئے تو چنن پیر کے مزار پر لگنے والا میلہ بھی ایک طرح سے ویلنٹائن ڈے کی کئی روزہ تقریب ہی ہوتی ہے۔ اب اسے روک کر دکھائیے۔

ذرا منافقت دیکھیئے کہ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں، یہ سب بھی عشق و محبت کی داستانیں ہیں۔ ہم انہیں پڑھتے یا سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔ ہماری فلموں اور ڈراموں میں بھی مسلسل محبت کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔ ہم انہیں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر اس خاص دن کے موقع پر کوئی شوہر اپنی بیوی کو پھول پیش کر دے تو ہماری قومی غیرت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ تو مغرب کے ’بے حیا‘ معاشرے سے درآمد کیا گیا ایک بیہودہ تہوار ہے۔

اچھا ! مغرب میں تو اسے بےہودہ نہیں سمجھا جاتا۔

شاید بےہودگی کا ان کا پیمانہ مختلف ہے۔ ہاں کرپشن اور منافقت کو وہ ضرور بیہودہ سمجھتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری تو بیشتر چیزیں آئی ہی باہر سے ہیں۔ یہاں تک کے نام بھی۔

ہم اپنے نام کے ساتھ عباسی تو لکھ سکتے ہیں، آدھی واسی نہیں


Comments

FB Login Required - comments