کیا پاکستان کو حافظ سعید نے پھنسایا؟


\"\"

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ وہی رہا ہے جس کو میڈیا پروموٹ کرے نہ کہ جو حقیقی ہو۔ اس لئے موجودہ حالات میں کشمیر کا مسئلہ جس انداز میں پاکستان کے لئے ایک فضول سا مسئلہ بنایا جارہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان کے مشہور جرنلسٹ حامد میر صاحب جب آپا آسیہ اندرابی سے سوال کرتے ہیں تو پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہندوستانی فلمیں پاکستان میں دکھانی چاہئیں؟ یعنی سب سے اہم ایشو یہی ہے۔ موجودہ حکومتوں کا رویہ کشمیر کے بارے میں انتہائی شرمناک ہے کہ ہم ایک لاکھ لوگوں کے شہید ہونے کے باوجود اپنا مقدمہ انتہائی فضول انداز میں لڑ رہے ہیں اور ہمیشہ معذرت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہماری کشمیر کمیٹی کے چئیرمین مولانا فضل الرحمان ہیں۔ یعنی اس کی غیر فعالی کے لئے اتنا کافی ہے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر آپا آسیہ اندرابی کا ایک جملہ کافی ہے“وہ تسلی دیتے ہیں زخم پر نمک رکھ کر“۔ ہماری کشمیر پالیسی کی حقیقت کو جاننے کے لئے جناب گیلانی صاحب کے کشمیر کمیٹی کی سرپرستی پر بیان کو بھی ملاحظہ کیا جائے اور اس پر انہوں نے کبھی اس پر تردید نہیں کی۔

محترم وصی بابا نے ”ہم سب“پر ایک مضمون لکھا کا جس کا عنوان تھا ”حافظ سعید ہمیں اب اور کتنا پھنسائیں گے“۔ اس موضوع کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کی ساری مشکلا ت کے ذمہ دار حافظ سعید صاحب ہیں کیا پچھلے ستر سالوں میں یہاں جو ہوا اس کا ذمہ دار حافظ سعید ہے کیا یہاں کرپشن کا دور دارا ہے اس کا ذمہ دار حافظ سعید ہے کیا غربت اور بے روزگاری کے ذمہ دار بھی یہی ہیں جناب پاکستان جن مشکلوں میں پھنسا ہے وہ کچھ اور ہیں اور میرے خیال میں حافظ سعید ان مشکلوں میں آسانی کے لئے کوشاں ہیں جس کا آُ پ کو بھی ادراک ہے۔ وصی بابا کے کالم کے متن کا موضوع سے ساتھ بالکل تعلق نہیں ہے۔

جہاں تک گوریلا جنگ پر وصی بابا نے کچھ لکھا ہے تو وہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک آرٹ ہے جس کا استعمال آج بھی ہر جگہ ہورہا ہے اور ہر ملک اس کو اپنے مفاد کےلئے اسپورٹ کر رہا ہے دنیا کا ہر ترقی یافتہ ملک اس میں اپنا حصہ ڈال چکا ہے۔ جس کی مثال روس کا یوکرائین میں چیچن گوریلا بھیجنا، امریکہ کا شامی گوریلوں کی مدد کرنا، کردوں پر مہر بانیاں، ایران کا حزب اللہ کو استعمال کرنا۔ لیکن اس سب کے باوجود کیا کبھی روس، امریکہ، ایران اور سعودیہ نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا تو جواب ہے ہرگز نہیں۔ لیکن آخر ایسی کیا وجہ ہے ہم اپنے لئے گوریلا وار کو ایک فضول چیز سمجھتے ہیں جبکہ بھارت، امریکہ نے یہی گوریلا وار ہمارے خلاف شروع کی ہوئی ہے ٹی ٹی پی کی شکل میں۔ لیکن ہم اتنا حقیقت پسند بن چکے ہیں ہم سی آئی اے کا یہ دعویٰ تو مان سکتے ہیں کہ ان کے الیکشن کو روس نے ہائی جیک کرایا لیکن یہ نہیں مان سکتے کہ امریکہ یا ”راء ”پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں کام کررہے ہیں۔ اور یہ سب گوریلا وار ٹیکٹس کے ذریعے ہورہا ہے جناب ہر ملک گوریلا وار کو اپنے ٹول کے طور پر استعمال کر رہا ہے لیکن ایک ہم ہی ہیں جو اس پر نادم ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میری نظر بندی کے احکامات واشنگٹن سے آئے ہیں، حافظ سعید

وصی بابا کہتے ہیں ”ممبئی حملے“ ہوئے کشمیر کا مسئلہ پیچھے چلا گیا۔ وصی بابا پہلی بات ممبئی حملے کا کیس ابھی حل ہی نہیں ہوا دوسری بات کئی شواہد ہیں کہ انڈیا خود ملوث ہے۔ اس کے علاوہ 2008 میں حملے ہوئے اس سے پہلے تقریبا 61 سال گذر چکے کیا ہم کشمیر کامسئلہ حل کرا سکے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کیا ہم کشمیری عوام سے مخلص ہیں جو ستر سال میں ان کا مقدمہ آج بھی وہیں ہے جہاں 1948 میں تھا۔

اس کے علاوہ وصی بابا کہتے ہیں کہ سید علی گیلانی کا بیان ملاحظہ کیا جائے قطع نظر اس سے کہ ان کی تردید آئی ہے ہم اتنا سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گے گزشتہ برس مسرت عالم کی رہائی پر سرینگر میں ہوئے پروگرام میں ”حافظ سعید سے رشتہ کیا“ کے نعرے لگوانے والوں میں گیلانی صاحب بھی شامل تھے۔ حافظ سعید کی کشمیریوں کے لئے کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں برہان وانی شہید کی کال جو انڈین میڈیا نے لیک کی ہے ذرا اس کو ملاحظہ کریں کہ وہ حافظ سعید کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے ہمارے ہاں یہ دو باتیں باور کرائی جاتی ہیں کہ کشمیری پاکستان کے مخالف ہیں اور حافظ سعید سے تنگ ہیں۔ نہ تو کشمیری پاکستان کے مخالف ہیں اور نہ ہی حافظ سعید کے۔ باقی چھوڑیں ”دنگل“ فلم سے مشہور ہونے والی اداکارہ زائرہ وسیم کی ماں کی تین سال پہلے کی پوسٹ جو دل دل پاکستان پر مبنی تھی اس پر انڈین میڈیا کا واویلا دیکھیں۔ نہ تو زائرہ وسیم اور نہ ہی اس کی ماں مذہبی ہیں بلکہ وہ جدید خیالات کے حامل ہیں اس کے باوجود ان کے لئے پاکستان کتنا اہم ہے اندازہ لگائیں۔

اسی بارے میں: ۔  سعودی عرب میں مِنی سکرٹ کی تفتیش کیسے کی جاتی ہے؟

جہاں تک عامر رانا صاحب کی دفاعی تجزیہ کاری کا تعلق ہے تو بلاشبہ وہ ایک بہترین اور مدلل تجزیہ نگارہیں لیکن یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ دریا کے باہر بیٹھ کر گہرائی کا اندازہ لگالیتے ہیں اوراس میں یقینا ان سے غلطی ہوتی ہے۔ نہ تو جماعت الدعوہ ”حرکت المجاہدین“ کی فکر کی حامل ہے اور نہ ہی میرے خیال میں حاٖظ سعید صاحب اپنے کارکنان کو یہ شخصیت پرستی سکھاتے ہوں گے کہ اگر مجھے کچھ کہا جائے تو سونامی لے آنا ملک میں۔ وصی بابا اگر جماعت الدعوہ کے خلاف کوئی بھی ایکشن لیا جائے تو وہ مشتعل نہیں ہوں گے باقی جہاں تک کچھ لوگوں کی یہ سوچ ہے اس کو تقسیم کرکے اس کی طاقت ختم کی جائے تو اس کو کئی بار تقسیم کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن نتیجہ صفر رہا۔

خیر میرےعلم کے مطابق جماعت الدعوہ سیاست میں آرہی ہے اور یہ ایک اچھا آپشن ہے جو ان کو استعمال کرنا چاہیے۔ ہماری ریاست اگر دنیا سے ملکر چلنا چاہتی ہے تو جماعت الدعوہ بھی اس بات پر کوئی اور نقطہ نظر نہیں رکھتی ہوگی لیکن شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے خودداری، قومی حمیت یا غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ حافظ سعید نہ تو پاکستان کے لئے کوئی خطرہ ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کو پھنسوا رہے ہیں جس کا ادراک محترم وصی بابا کو بھی ہے اس وجہ سے وہ یہ مانتے ہیں کہ آج تک کوئی ایف آئی آر ان کے خلاف نہیں آئی اور نہ ہی وہ کبھی اقلیتوں یا کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو سراہتے ہیں بلکہ وہ ببانگ دہل داعش اور طالبان کو للکارتے ہیں اس سب کے باوجود ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان کو دھکے سے ”دہشت گرد“ ثابت کیا جائے۔

کل لاہور میں ہونے والے دھماکے میں حافظ سعید اور ان کی جماعت نےسب سے پہلے ریسکیو آپریشن کرکے اس پر دوبارہ مہر ثبت کردی کہ ”حافظ سعید پاکستان کو اب اور کتنا پھنسوائیں گے“۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “کیا پاکستان کو حافظ سعید نے پھنسایا؟

  • 15-02-2017 at 1:37 am
    Permalink

    محترم محمد بلال صاحب نے کافی دلائل دیۓ اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حافظ سعید پاکستان کی سلامتی کے لیے لازم ملزوم ہیں ۔۔ محترم اس میں ھمارے شعور کا کوئی قصور نہیں ھمیں بچپن سے یہی سکھایا گیا ہے کہ ھمارے تمام تر مسائل کا حل جہاد یا جہادی تںظیموں کے دستے ہیں یا ان کو تخلیق کرنے والی قوتیں ہیں ۔۔ ھمیں سوچنے سمجھنے کا درس ہی نہیں دیا گیا ۔۔ ھمیں حافظ سعید سے کوئی مسلۂ نہیں ھمارا مسلۂ صرف اور صرف حافظ سعید کو استعمال کرنے والے ہیں ۔۔ جیسے اسامہ بن لادن ،ملا محمد عمر ، صوفی محمد یا مولوی فضل اللہ وغیرہ کو استعمال کیا گیا جب ان کو استعمال کرنے والوں کو اپنے مفادات دواؤ پر لگتے نظر آۓ تو انہوں نے غیرون کے ساتھ مل کر ان سب کے خلاف جتنا ھو سکا غیروں کا ساتھ دیا ۔۔ آج حافظ سعید کے ساتھ بھی وہی ھو رہا ہے ۔ افغانستان کا مسلۂ بھی کبھی کشمیر سے کم نہ تھا اور آج کشمیر کا مسلۂ بھی افغانستان سے کم نہیں ۔۔۔ حافظ سعید کوئی بڑی بلا نہیں ہے جس کے بغیر مقبوضہ کمشیر کے لوگ آزادی کی جدو جہد ترک کر دیں گے ۔ کشمیر کا مسلۂ کب کا حل ھو چکا ھوتا مگر پاکستان کی ملٹری اسٹبشلمنٹ کو یہ کسی صورت قبول ہی نہیں تھا ۔۔ کیونکہ مسلۂ کشمیر کے خاتمے سے ان کے اپنے دیر پا مفادات کا جنازہ نکل جاتا ہے ۔۔ آج دنیا بھر میں ایک پاکستان فوج امیر ترین گنی جاتی ہے ۔۔ اور پاکستان کے اندر ان کی طرز زندگی جیسی زندگی دنیا کی کسی فوج کے پاس نہیں ۔۔
    حافظ سعید کی جگہ کوئی اور بھی ھوتا تو اس کا فضول میں بڑھکیں مارنے میں کیا جاتا ۔ مفت کی واہ واہ سڑکوں گلیوں میں خطیب بھیج کر مقبوضہ کمشیر میں جہاد کے نام پر جوانوں کو اگھٹا کرنا فوج سے مال بٹورنا اور سرحد پر لے جاکر لڑکون کو خود ہی گولیاں ماروا کر مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں اپنا نام مشہور کروانا کونسا بڑا کارنامہ ہے یہ حافظ سعید سے پہلے بھی لوگ کرتے رہے ہیں اور آج بھی عراق ، شام ، لبنان لیبیا اور افغانستان میں کر رہے ہیں۔ سی آئی اے ، ایم آئی فائیو ، اپنے ملکوں سے جہادیوں کو جمع کرتے ہیں انہیں شام یا عراق بھیج کر اپنا کام نکلواتے ہیں جب ان ایحنسیون کو پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنے گھر وآپس آ رہے ہیں تو ان کو وہی پر مروا دیتے ہیں ۔۔
    اور رہا حافظ سعید کے رفاعی کام تو محترم پاکستان افواج تقریبا چالیس سال اقتدار میں رہی انہون نے آج تک ایک فوج کے علاوہ کوئی ادارہ ایسا نہیں چھوڑا جو کرپشن اور بددیانتی سے پاک ھو۔ نہ ہی انہون نے کوئی ایسا ادارہ بنانے کی ضرورت کبھی سمجھی کہ جس کے ذمہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تمام تر صلاحیتیں ھوں ۔ ایسا یہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان کو اچھی طرح پتہ ہے کہ کوئی بھی منظم ادارہ ایسا قائم ھوگیا تو ان کی تمام ادارون پر اجارہ داری ختم ھو جاۓ گی ۔۔ عدلیہ ، انتظامیہ، مقننہ اور عوامی فلاح و بہبود کا کوئی ایسا ادارہ انہون نے نہیں چھوڑا جس میں انہون نے اپنی لچ نہ تلی ھو ۔۔ اگر آج ھمارے ملک کے تمام ادارے ترقی یافتہ ممالک کی طرح فحال ھوتے تو جماعت الدعوۃ یا دیگر رفاعی تنظیمون کی پاکستان میں کسی کوکبھی ضرورت ہی محسوس نہ ھوتی ۔۔

Comments are closed.