عسکری داخلہ پالیسی بھی فیل ہوچکی ہے


پاکستان میں دھماکہ انسانوں پر نہیں بلکہ کبھی سی پیک پر ہوتا ہے یا پی ایس ایل پر، کسی کے لئے دھماکہ پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف کے خلاف ریفرنس پر ہوتا ہے تو کبھی یہ حکومت مخالف دھرنوں پر ہوتا ہے۔ اس بیچ انسان کیا کر رہے ہوتے ہیں اس سے کسی کو غرض نہیں۔ کچھ عرصے پہلے یہ ڈرون حملوں کی سزا ہوا کرتے تھے۔ غرض یہ وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کوئی اہل خرد اس کوچہ نامراد سے گزرے تو خیال کرے کہ یہ لوگ دہشت گردی سے جنگ لڑ بھی رہے ہیں یا نہیں؟

عسکری خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے

پاکستان کے عسکری اداروں نے جو فصل خارجہ لڑائیوں کے لئے ملک میں بوئی اس سے ہماری داخلہ پالیسی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں مکمل امن و امان ناممکن ہوچکا ہے۔ ملک سے باہر جاری جہاد کے لئے جو محفوظ پناہ گاہیں عشروں تک دستیاب تھیں انہوں نے ملک میں جاری اینٹی جہاد کے کام کو متاثر کیا۔ پچھلے ایک عشرے میں ہوئے متعدد فوجی آپریشنوں نے بظاہر زمینی پناہ گاہوں کو تو کسی حد تک ختم کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ذہن سازی کی تمام پناہ گاہیں اپنا کام زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں وہ دسیوں ہزار مدارس ہیں جو جہادیوں کے لئے زرخیز ذہن تیار کرتے ہیں، اور بے شمار مساجد بھی جو عشروں سے جہاد کی ترویج کا کام احسن طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہیں، اسکول کے اساتذہ سے لے کر یونیورسٹی کے پروفیسر، طلبہ تنظیمیں، غرض رائے عامہ تشکیل دینے والے تمام ذرائع اس میں شامل ہیں۔

عشروں پہلے ہمارے ملک کے قومی سلامتی کے اداروں نے ملک کی زمینی، اسٹریٹجک اور نظریاتی سرحدوں کی توسیع کے اپنے عزائم کے لئے جو جہاد شروع کیا تھا اس کے لئے متعدد اقدامات کئے۔ جہاد ایک مخصوص ثقافت کے بنا لڑنا ممکن نہیں، اور جب یہ جہاد غیر ریاستی عناصر سے بظاہر خفیہ ذریعے سے لڑنا ہو تو اس پر اخفا کی چادر اوڑھانے کے لئے جس معاشرتی انجنیئرنگ کی ضرورت تھی اس کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے گئے۔ جہاد کوئی سادہ کام نہیں ہے، اس کے لئے ذہنوں کی آبیاری ضروری ہے، ایک مرد مجاہد پیدا کرنے کے لئے مومنین کی فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے جہادی بیانیے کی ترویج کی ضرورت ہے، کفر کی نشاندھی اور پھر اس کے سدباب کے لئے پرجوش لوگوں کی ضرورت ہے۔ جب کہ دوسری ریاستوں پر مجاہدین کی یلغار اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمانوں کی ریاست پر چڑھائی کے جواز بھی دیے جائیں، جیسے کہ کفار سے معاونت، لبرل حکومت، مغربی جمہوریت کے علمبردار اور آسان لفظوں میں کمتر مسلم یا کافر۔۔۔ ایسا بیانیہ جس میں مجاہدین کو بزعم خود امر بالمعروف و نہی ان المنکر کے نفاذ کا ٹھیکے دار بنا دیا جائے اور اس کے لئے کسی ریاست یا اولی الامر کی ضرورت ختم کر دی جائے۔ یہ بیانیہ تشکیل دینے کے لئے پاکستان کی زرخیز زمین کی خدمات لی گئیں۔۔

غرض مخالف نظریات کا گلا گھونٹ کر اختلاف رائے کی ثقافت ختم کر دی گئی۔ حال یہ ہے کہ بڑے بڑے اداروں میں آج عشروں کی محنت کے بعد خاص نظریات سے وابستہ افراد مسلط ہیں۔ اس کے لئے آپ استاذی وجاہت مسعود سے پوچھیں کہ کیسے ترقی پسند صحافیوں کا ناطقہ بند کیا گیا، پرویز ہود بھائی سے پوچھیں کہ کیسے پروفیسروں کی بھرتیاں کی گئیں، طلبہ سیاست سے تعلق رکھنے والوں سے پوچھیں کیسے ایک خاص تنظیم، جو جہادی ریکروٹ منٹ ایجنسی کی خدمات دیتی تھی، کی سرپرستی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کی گئی اور کسی بھی ریٹائرڈ پولیس افسر سے پوچھئے کہ جہادیوں اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے کس کس جرم سے پردہ پوشی کرنی پڑی۔ غرض کیا مدرسہ تو کیا اسکول، یونیورسٹی، کالج، اخبار اور ٹی وی، مجاہدین کی گرومنگ کے لئے ہم نے اپنا آپ ہی تیاگ دیا، اس کے لئے ہر میڈیم کا استعمال کیا گیا۔

یہ جہادی ہوا میں آپریٹ نہیں کرتے، لاقانونیت سے جب آپ نے بیرونی فتوحات حاصل کرنی ہوں تو پھر ملک میں لاقانونیت سے پردہ پوشی لازمی ہے۔ ان حالات میں سول انتظامیہ کا مفلوج، نااہل اور کرپٹ ہونا لازمی ہے نیز سیاسی اشرافیہ کا ان عناصر سے سمجھوتہ کر کے پیوستہ مفادات وابستہ کر لینا بھی لازم تھا۔

اس جہاد کے لئے جو بھی غیر ریاستی عناصر معاونت کرنے کو تیار تھے ان کی مدد لی گئی۔ روپے پیسے کے لئے خارجی ذریعے تو معلوم ہیں، داخلی طور پر مختلف طریقوں سے رقم اکھٹی کی گئی۔ غیر ریاستی حزب اپنی مدد آپ کے لئے خود بھی ہاتھ پاؤں مارنے لگ گئے، اسلحے کی اسمگلنگ کی چین بنی، محاذ کے پاس درہ آدم خیل میں فیکٹریاں لگ گئیں، حوالہ سسٹم کے ساتھ روابط قائم ہوئے، اغوا برائے تاوان، چوری ڈکیتی، منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے مافیاز سے اتحاد بنے۔ اپنی گوادر پورٹ چین کے آباد کرنے سے پہلے مجاہدین اور ہیرؤین کے سمگلروں نے ’فنکشنل‘ کی۔ نوے کی دہائی میں جیسے جیسے بیرونی فنڈنگ میں کمی آتی گی جہاد جاری رکھنے کے لئے یہ نیٹورک مزید مضبوط اور توانا ہوتے گئے۔

بیرون ملک جہاد کی فنڈنگ اور سپلائی چین کے لئے جن ذرائع کا استعمال کیا گیا بعد میں وہی چیزیں سانپوں کی شکل میں واپس لوٹیں۔ جس غیر ریاستی بیانیہ کی ترویج کی گئی شومئی قسمت پاکستان کی ریاست بھی اس پر پورا اترتی تھی، ہندوستان تو خیر ٹھہرا کافر ملک مگر نائن الیون کے بعد تو جیسی کافروں کی اتحادی افغان حکومت تھی ویسے ہی پاکستان کی حکومت بھی تھی۔ حکمران بھی لبرل تھے، بظاہر مغربی جمہوریت کا کافرانہ نظام بھی رائج ہوگیا اور سو باتوں کی ایک بات جہادی بھائیوں کے لئے یا تو ہم کمتر مسلمان تھے یا کافر سو فرقہ وارانہ لڑائی تو پہلے جاری ہی تھی بعضوں نے جہاد کا رخ ادھر بھی موڑ لیا۔ جہاد کی فنڈنگ کی سپلائی چین تو پہلے سے قائم تھی بس ملک میں اس پر قبضہ کرنا تھا سو ٹی ٹی پی نے خوب کیا۔ فنڈنگ اور سپلائی چین کے لئے جرائم کے مافیاز سے گٹھ جوڑ کیا۔ جواز کے لئے مقامی سطح پر چالیس ہزار سے زائد مدارس سے پھوٹتا بیانیہ حاضر تھا۔ اسکولوں، کالجوں اور تبلیغیوں کی مدد سے مجاہدین کی کھیپ بھی ملتی رہی۔ ٹریننگ ماشاالله ماہر ہاتھوں سے پہلے ہی ملی ہوئی تھی، اگلی نسلوں میں منتقل کرنے میں چنداں مشکلات پیش نہیں آئیں۔ ریاست کو البتہ اس مصیبت نے آ لیا کہ ایک ہی وقت میں جہاد اور اینٹی جہاد کی کارروائیاں کیسے جاری رکھی جائیں۔۔ بیرونی جہادوں پر مقامی دہشت گردی کی چادر پڑی رہے تو سالوں دنیا کے ساتھ چھل کپٹ کھیلی جا سکتی ہے۔ گزشتہ تیس سال اسی آنکھ مچولی میں گزر گئے۔ ایسے میں جب لوگ سیاسی پارٹیوں کی جہادیوں سے تعلقات کا ذکر کرتے ہیں تو بے اختیار مسکراہٹ چہرے پر آجاتی ہے۔۔۔ جب اساتذہ سے لے کر صحافیوں اور بیوروکریسی تک نیز ملک کے ہر شعبے میں چھان پھٹک جاری تھی اس وقت جمہوری وزیراعظم کو مخالف نظریات کی بدولت سکیورٹی رسک قرار دیا جا رہا تھا۔ ان حالات میں پارٹیاں بھی ان جہادیوں سے تعلقات نہ بناتی تو کہاں جاتیں؟ سو وقت کے ساتھ سیاسی کلچر بھی ایسا متشدد ہی ہونا تھا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ 2013 کے انتخابات میں مقامی دہشت گردوں نے صرف انہی پارٹیوں کو انتخابی مہم جاری رکھنے دی جو یا تو انہیں ناراض بھائی قرار دیتی تھیں یا جو ہم نظریہ تھیں۔

یہ سب یہاں کیسے آیا؟ بیرونی جہاد جاری رہے گا تو خارجہ پالیسی تو فیل ہوگی ہی اس کے لئے بنائی گئی خود ساختہ ثقافت کی بدولت سیکیورٹی سسٹم مفلوج ہوجائے گا، داخلہ پالیسی ناکام ہوجائے گی اور امن کا مستقل قیام ناممکن ہوجائے گا۔ دہشت گردوں کے پنپنے کے لئے جو ماحول قائم کیا گیا ہے اس سے آج معاشرہ اس قدر انتشار کا شکار ہے کہ کوئی متفقہ بیانیہ دینا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ جہادیوں کے متولیوں نے ناراض بھائیوں کی پردہ پوشی کے لئے جو عذر تراشے تھے ان کی روایت آج بھی قائم ہے، پہلے غیر کی جنگ، ڈرون حملوں کا رد عمل، نفاذ شریعت وغیرہ جیسے عذر دئے جاتے تھے تو آج را، سی پیک اور پی ایس ایل کا شور مچا کر اصل ذمہ داروں سے قوم کی توجہ ہٹا دی جاتی ہے۔ واہگہ بارڈر پر حملہ ہوتا ہے تو ہم پڑوسی ملک کو بے نقط سناتے ہیں مگر جب تفتیش ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد نے قریب ہی ایک مسجد میں پڑاؤ ڈالا تھا، ایسی مساجد، مدارس تنظیمیں اور افراد جو ہم وطنوں کو کافر اور واجب القتل سمجھتے ہیں کی کمی نہیں ہے۔ اگر ہم واقعی اس جنگ میں سنجیدہ ہیں تو دہشت گردوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ جہادی ثقافت ختم کرنی ہوگی اور ایسا بیرونی جہاد ختم کئے بنا ناممکن ہے۔


Comments

FB Login Required - comments