یونیورسٹی میں ویلنٹائین مبارک کے چرچے


\"\"

غالباً سنہء 1999 کا ذکر ہے یونیورسٹی کی زندگی شروع ہوئی تھی۔ اٹھارہ برس کے طویل عرصے بعد اس واقعہ کا یاد آنا اچھنبے کی بات یوں ہے کہ اس وقت اتنی بے راہ روی نہ تھی اور نہ دیدوں کا پانی مرا تھا۔ خیر مضمون کی جانب آتے ہیں یکم جنوری سب کچھ نکھرا اور نیا نیا لگ رہا تھا۔ یونیورسٹی کی پڑھائی میں مشغول ہوگئے، ایک ماہ گذرنے کا احساس بھی نہ رہا فروری آگیا۔ گویا فروری کیا آیا یونیورسٹی کے رستے پیلے، زرد رنگ گیندے سے سج گئے۔ صبح شٹل سروس کو زحمت نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جسم کے چلتے پہیوں کو مشقت پہ معمور کرنا مقصد یوں کر ٹھہرا کہ چشم طفل کو ان دھلی رنگینیوں سے آشنا کروایا جائے۔ منظر سے لطف اندازی تو شٹل میں بیٹھ کر بھی ہوسکتی ہے لیکن منطقی بحث کے بعد جسم کے پہیوں کوبلآخر ہار ماننی پڑی جواز تھا کہ فلم۔ کو فاسٹ فارورڈ پہ نہیں دیکھنا۔

بھئی واہ کیا دلفریب و رنگین منظر ہوتا ہے فروری کی ٹھنڈی صبح، جھومتے شجر، کیاریوں میں سے جھانکتے شرارتی پھول، کوئی سبزہ کی شال لئے تو کوئی کلی کا روپ لئے۔ راقم بھی خراماں خراماں اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب سفر رہتے کوئی مل جاتا تو گپیں ہانک لیتے ورنہ تو راقم عموماً خود کو ہانکنے کر لے جاتے۔ اسی تفریح میں کچھ دن گذرے کہ شور اٹھا کہ ڈپارٹمنٹ میں بسنت دن منایا جائے۔
اچھا چلو اس میں قباحت کیا۔ طے پایا کہ سب شوخ شرارے پیلے ملبوسات اور سبز و زرد چوڑیوں کے ساتھ قیامت کی حشر سامانیاں کریں گی اور پروانے قیامت کا مان رکھنے کی غرض سے کفن زدہ سفید لباس میں ملبوس ہوں گے البتہ گلے میں زندگی کی نشانی لئے زرد پٹے گلے میں جھولیں گے۔ تدریس اپنے اوقات پہ ہی منعقد ہوگی تاکہ شرارے و پروانے بھی اوقات نہ بھولیں۔ خیر طے شدہ دن جب معمول کی مشقت تفریح کے نام پہ کرتے ہوئے کمرہ جماعت میں داخل ہوئے تو کیا منظر دیکھتی ہیں یہ بینائی کہ گیندے کے پھول تختہ سیاہ پہ تعظیماً سرنگوں ہیں۔ ہائے اللہ اس منظر کے فلسفہ(راقم کا مضمون) کاجوڑ کچھ الجھ رہا تھا ذہن میں۔ خیر کلاس کے فوراً بعد ایک نیا موضوع سماعتوں سے ٹکراتا نکل گیا کہ ویلنٹائین اتوار کو آرہا ہے۔ دوسری آواز نے اااااووووو کا دکھ جواب میں بھر دیا۔

خود کلامی میں سوال کیا بھلا اب یہ کون آرہا ہےاتوار کو؟

خیر لائبریری گئے، راقم کا دوستی کا تکون ہے۔ تکون کے زاویہ اوّل نے گوش گذار کیا کہ دیکھنا اس بار جاوید مجھے ویلنٹائین پہ ضرور فون کرے گا۔ ارے واہ کاش ہمارا بھی کوئی ویلنٹائین ہوتا، سرد آہ زاویہ ثانی نے لقمہ دیا۔ وجہ وہ جو موصوف تھے وہ زاویہ اوّل کے منگیتر ہونے کی شرفیت قبول کر چکے ہیں۔

یہ کیا زاویہ اوّل و ثانی کی نظریں زاویہ ثلث( راقم) پہ آکر گویا رستہ بھول گئی اور پتہ اس سوال کی صورت میں تھا کہ بحث میں شرکت فرما کر ثواب دارین نہ سہی ثواب ویلنٹائین حاصل کریں۔ ( لاحول ولا )

راقم کی گھمبیر خاموشی کو بھانپتے ہوئے زاویہ اوّل نے خفگی سے انگریزی میں کہا کہ

Now don‘t tell me that you dont know about Valentine‘s day۔

اور وہ حق بجانب بھی تھیں کیونکہ راقم نےمتعدد مواقع پہ اپنی قابلیت کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔

زاویہ ثلث نے اپنی سبکی مخفی رکھتے ہوئے توجہ پریزنٹیشن کی جانب کروائی کہ نمبر ویلنٹائین سے نہیں ملنے والے، زاویہ ثلث(راقم) ابھی تک ویلنٹائین کو پیکر خاکی گردان رہی تھیں اور دل میں تہیہ کر لیا کہ آج کی تاریخ میں موصوف کے بارے انسائیکلوپیڈیا سے مدد لے کر رہیں گی۔ اس وقت حضرت بابا گوگلؒ کو عوامی دسترس میں نہ تھے اور انسائیکلوپیڈیا کو بہرحال جدامجد کی حیثیت حاصل رہی اور ہے۔ زاویہ اول و ثانی چائے کا وقفہ لے کر کیفے ٹیریا چلے گئے اور زاویہ ثلث نے مذید مواد کو کاغذ پہ انڈیلنے کا بہانہ کیا اور سبک رفتاری سے ایک ضخیم کتاب کے سامنے سانسوں کو بحال کرتے ہوئے عجلت میں ورق گردانی فرماتے ہوئے ایک صفحے پہ بریک لگائی، جوں جوں سطور سے بینائی آشنا ہوتی رہی چہرے پہ عجیب کیفیات کی آمدورفت محسوس ہوئی۔

کتاب بند کرتے ہوئے منہ سے پھول تھے کہ برسنے کو تھے اور بس اتنا کہنے پہ اکتفا کیا کہ لاحول ولا

تو موا یہ معاملہ تھا ویلنٹائین مبارک کا۔

لیکن آگہی کی بعد ایک قلبی اطمینان کو لئے کیفے ٹیریا کو چلی۔ تکون کے تینوں زاویے محو تھے۔
قصہ مختصر ایک عمر گذار کہ علم ہوا کہ ویلنٹائین مبارک کس خرافات کا نام ہے، یقین جانیے اس وقت یہ صرف خرافات کا نام تھا اب تو مکمل خرافات ہے۔
توبہ توبہ کیجیے راقم ذرا مشرقیت کا پیکر ہیں اس لئے اس خرافات کو پھر کبھی قلم بند کرنے کا مصمّم ارادہ لئے ہوئے ہیں۔
بس قلم میں نیلا تھوتھا بھر لیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مہوش خان بنگش کی دیگر تحریریں
مہوش خان بنگش کی دیگر تحریریں