فیس بک ، جھروکے اور چلمن


jamil abbasiفیس بک کی نگری بھی عجب نگری ہے۔رنگ برنگی اور بھانت بھانت کی۔کبھی گل گلزار تو کبھی چاچے گلریزغمناک سی۔کبھی پتے پرٹھہری شبنم سی تو کبھی گیلی لکڑیوں کے دھویں سی۔کبھی مشک و عنبر سی مہکتی تو کبھی زکام آلود ناک سڑکتی۔کبھی کوملتا سے لبھاتی تو کبھی مرنڈا سے غرارے کرتے مولوی عبدالودود سی۔مطلب کہ اس نقار خانے میں کیا طوطی، کیا طوطیاں اتنے وافر تعداد میں موجود ہیں کہ آپ کہ ککھ پتا نہیں لگتا کہ یہ جو انوسنٹ لو کے نام سے بنی آئی ڈی کو آپ رال ٹپکاتے دیکھ رہے ہیں اس کے پیچھے کلو قصائی آپ کی محبوبہ پر بھینگی آنکھ رکھے ہوئے ہے۔اوریہ جو آپ پروفائل پر لگی سنی لیون کی پکچر پر ہاتھ پھیرے جا رہے ہیں یہ حکیم حکیم خان ہزاروی ہیں جو سانڈے کا تیل بیچتے ہیں۔ فاحذر۔ اور آپ جس معصوم محبت کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے کی سوچتے، اپنے صاحب ذوق ہونے کا ثبوت دیتے، زیر لب نوعمری میں دیکھی جانے والی تلسی سپاری کی اشتہاری لائن ’ہم جسے لاجواب کہتے ہیں‘ گنگنائے جا رہے ہیں وہ حاجی قدرت اللہ عطر فروش کی آئی ڈی ہے جس کے ذریعے وہ ہم اور آپ جیسوں کو دربار عطر کی خوشبویات خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ بھی ذرا سنتے جائیں۔ جس کرسٹل ہارٹ سے آپ روز شام ڈھلے آہیں بھرتے چیٹ کرتے ہیں وہ خبیث نکڑ پر رکھی کیبن کا پان والا ہے جو آپ کا ایزی لوڈ آپ کو بیچتا ہے۔ بڑا خبیث ہے قسمے۔ بہرحال یہ پڑھ کر آپ پریشان نہ ہوں اور برابر ایزی لوڈ بھیجتے اور اپنی معصوم محبت کے وفور میں ’انوسنٹ لو‘ پر لائن مارتے رہیں۔ بس معصوم محبت سے پرہیز لازم ہے کیونکہ دربار عطر کی بو سے خدا دشمن کو بھی پرے رکھے اوردیکھئے۔ارے ارے۔ ناراض نہ ہوئیے ہم تو آج اپنے مہربانوں کے ذکرخیر کے ارادوں میں ہیں۔آپ والے تو بقصد تبرک ذکرہوگئے۔لیجئے ہم اپنی فہرست مہربانان یاد کرتے ہیں۔ ہماری فہرست میں سب سے پہلے وہ خواتین و حضرات ہیں جن کے معدے میں ملک و ملت کا شدید درد ہے۔ اب اس کا علاج تو حکیم خان ہزاروی کا جلاب کر سکتا ہے پر کیا کریں وہ اس کی ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں۔جہاں کہیں آپ نے …. معافی معافی ،نہیں نہیں…. آپ نے نہیں میں نے کچھ لکھ دیا،بک دیا۔ تحت درد معدہ ان کا نزول ہو جائے گا۔فرمایئں گے ’ارے صاحب آپ نے کبھی خالہ غفورن کی مرغی کی خبر تو لی نہیں کہ وہ روز کتنے انڈے دیتی ہے اور ہما شما پر خوب زور ہے۔لگتا ہے خالہ غفورن کی مرغی سے آپ کا ذاتی عناد ہے۔‘

ہم ابھی ان کی فلسفیانہ باتوں پر بائیں آنکھ ذرا سی بند کر کے سوچنے کی کوشش کریں گی تو ’ایک دھکا اور‘ کے تحت سر ہلاتے ارشاد ہوگا’اور میاں ماسی مصیبتی کے کھیت میں لگے بینگنوں کا رنگ جامنی سے ذرا کالا ہوگیا ہے۔مگر نہیں اس یہودی سازش پر آپ سے کچھ پھوٹا نہ جائے گا۔کیونکہ اس سے ملت کو فائدہ ہونے کی جوامید ہے‘۔ بات چونکہ حکمت بھری ہوتی ہے تو ظاہر ہے ہمیں لاجواب ہوکر خامشی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی راہ نہیں دکھائی دیتی۔ ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہجور آپ کی خالہ ہے تو ہم کائے کو لکھیں۔ اب یہ بات چھڑی اور ان مہربانوں کے اعتراضات کے جواب آج تک پیش نہ کرپانے کا دکھ دوبار تازہ ہو کر طبیعت میں ذرا وحشت پیدا کرگیا تو اسی وصف کے اثرات تلے ہم شاعروں کو یاد کرتے ہیں جن کی دن دگنی رات چوگنی ہوتی تعداد مارک زکر برگ کے فیس بک کو ایک بلین تک لے گئی ہے۔ یہ شعرا درد جگر کے مرض میں مبتلا ہو کر شعر یوں نکالتے ہیں جیسے پٹاری سے سپیرا سانپ کو بر آمد کرتا ہے۔ ان کی نیک نیتی سے پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کے دوستوں میں سے کوئی رطب و یابس ٹیگنے سے رہ کر بد نصیب نہ ہو جائے۔اگر ایسا ہوجائے توکل کلاں بروز حشر کیا جواب دیں گے۔ آپ چاہے لاکھ دہائیاں دیں پر نہ سائیں…. وہ جانتے ہیں کہ ٹیگ نہ کرنے والی آپ کی سب دہائیاں انکسار و رمز کا استعارہ ہیں۔ آپ کو علم نہیں کہ حکمت تو ان کے گھر کی لونڈی ہے جناب۔اگر کبھی آپ نے بفرض محال ان پر اعتراض جڑ دیا تو منہ پر فرمادیں گے’ہمیں معلوم ہے گدھا کیا جانے گلقند کا مزالیکن ہماری ڈیوٹی تو گلقند کھلانے پر لگی ہے حضور‘۔ اب آپ ہی کہئے یہ بات وزن دار تو نظر آتی ہے بھئی۔

چلئے آگے کا رخ کرتے ہیں کیونکہ شاعروں و شاعرات سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ایک اور قسم بھی فیس بک کی مارکیٹ میں موجود ہے اور ظاہر ہے ہم آپ کے نہیں اپنے مہربانوں کے تذکرے میں ہیں۔وہ اگر ہندوانا بھی لائیں گے تو فیس بک پر ہی کٹے گا۔ ویسے ان کا ذکر کرنا خطرے کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک تو وہ کٹنے کٹانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔اوپر سے اپنے فراز صاحب بھی جاتے جاتے فرماگئے ایسوں کی دشمنی اچھی نہیں فراز۔اب ہم ان کے ساتھ ساتھ فراز صاحب سے بھی دشمنی مول لیں؟نہ بھئی ایسا دن ہماری قسمت نا لائے۔ ہم اور قسم کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔وہ ہے دل جلے۔یہ اکثر کبابئے ہوتے ہیں اور ان کے دل گردہ جگر کے ساتھ ہاتھ بازواور منہ بھی جلا ہوتا ہے۔ ان کے پہچاننے کی وصف جو سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے وہ یہ کہ ان کے سرخ دل میں ایک تیر گھونپا ہوا آرپار نظر آرہا ہوتا ہے۔ کبھی ان کی وال پر جائیں تو ان کے غم دیکھ کر بندہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ ان کے درد زیادہ ہیں یا ڈاکٹر شاہد مسعود کے؟ ان کی تعداد بھی شاعروں سے ٹکر کھاتی نظر آتی ہے۔کبھی اگر انہیں ان سے بھڑادیا جائے تو قومی فائدہ ہونے کی امید ہے۔آخر میں یہ فقیر پر تقصیر دو اقسام کا تذکرہ کر کے اپنی راہ لے گا۔ ان میں سے ایک آپ ہمارے مشہور پیجز جیسے بی بی سی،ڈان،جنگ،ایکسپریس جیسوں پر ملاحظہ کرتے ہونگے اور ان کا تعلق ہمارے یا آپ کے یا ہماشما کے مہربانوں میں آتا ہے۔ ان کی نمایاں خصوصیت معاشرے میں گالم گلوچ کی ترویج ہے جس سے وہ اقوام عالم میں اپنے وطن کی سربلندی کا عزم رکھتے ہیں۔ اگر بھولے بھٹکے سے آپ کی فرینڈ لسٹ میں کوئی ایسا سربلند جواں شامل ہوگیا تو وہ آپ کی طرف سے لگائی گئی مونا لیزا کی پینٹنگ کی تصویر پر تبصرہ کرے گا “کیا آپ کی ماں بھین نہیں ہے؟”اب اسے کیسے سمجھایا جائے کہ عزیزم ہم ماں بھین رکھتے ہیں اور بمثل آپ انڈے سے بر آمد نہیں کئے گئے۔میں نے تو آج تک کسی پر فخر سر بلند کو ایسا کہنے کی جرات نہیں کی اگر آپ کو شوق ہو تو بسم اللہ۔ آخری قسم ان قدردانوں کی ہے جو علمیت سے مالامال ہونے کی دعوی رکھتے ہیں۔ ان سونٹا بردار مصلحین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ معاشرے میں ان کے سرٹیفکیٹ یافتہ لوگوں کے علاوہ کوئی دکھنا نہیں چاہیے۔ اگر کہیں دکھ گیا تو انہیں اپنی اور فیس بک کی دنیا و آخرت خطرے میں نظر آتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے ہم زیادہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ فراز صاحب نے بھی ان معاملات میں سکوت کو ترجیح دی۔بس آخر میں ننھی منی سی عرض ہے کہ ذرا غور کریں اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ یہ جو آپ صبا جان کو ہفتے کے ہفتے صرف تیس روپے کا ایزی لوڈ بھیجتے ہیں قسمے اس میں سے چھ روپے ٹیکس کے کٹ کر مجھے صرف چوبیس روپے لوڈ ملتا ہے۔ کبھی ہفتے دوسرے ہفتے سو پچاس بھی لوڈ کروادیا کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “فیس بک ، جھروکے اور چلمن

  • 12-02-2016 at 7:00 am
    Permalink

    یار کیا خوب انداز ہے. ما شا اللہ.

    • 12-02-2016 at 9:18 am
      Permalink

      پسند کرنے پر سراپا شکر گذار ہوں۔

Comments are closed.