نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو دہشت گردی نہ ہوتی، عمران خان


\"\"

چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے سانحہ مال روڈ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کے اہلخانہ کے لئے بہت مشکل وقت ہے اور ہم شہدا کے لواحقین اورزخمیوں کےغم میں برابر کے شریک ہیں جب کہ  سانحے پر ان کے مشاہدے میں 4 باتیں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو دہشت گردی نہ ہوتی اور اگر کراچی میں رینجرز آپریشن ہوسکتا ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں مسئلہ ہے تو جو دہشت گرد دندناتے پھررہے ہیں ان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا، یہ کس کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں اسے فوری نافذ کریں، ملک اکٹھا ہو کر صحیح معنوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتے گا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پولیس کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہوناچاہیے، رینجرز اور پولیس پر نہ چھوڑا جائے کہ دہشت گردی ختم کریں گے، پولیس کا محکمہ ٹھیک ہونے میں حکمران سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، وہ اس ادارے کو اپنے انتقام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں،  حالانکہ خیبر پختونخوا میں ہم نے کوئی جادو نہیں کیا صرف پولیس کو غیرسیاسی اور غیرجانبدار کیا اور اب خیبرپختونخوا کی پولیس پاکستان کی مثالی پولیس ہے لیکن یہاں تو حمزہ شہباز رائیونڈ میں بیٹھ کر ایس ایچ اوز تعینات کرتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات دوسرا بڑا ایشو ہے، فاٹا اور کے پی کا انضمام وقت کی ضرورت ہے جب کہ آپریشن ضرب عضب کا فائدہ اٹھانا ہے تو فاٹا اصلاحات ضروری ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  مشال خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں قابل اعتراض مواد نہیں ملا

دوسری جانب عمران خان نے گنگا رام اسپتال پہنچ کر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی جب کہ وہ ڈی آئی جی احمد مبین شہید کے گھر جاکر ان کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کریں گے۔

واضح رہے گزشتہ روز لاہور میں مال روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور ایس ایس پی سمیت 7 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری جاں بحق ہوئے تھے جب کہ درجنوں زخمی شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔