چیئرمین نیب کی سپریم کورٹ میں پیشی


\"\"

بلوچستان میں ایک سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے، قومی احتساب بیورو نے گرفتار کیا، اور پھر خبر آئی کہ اپنا حصہ لے کر (پلی بارگین) کرلیا۔ اسی مقدمے میں احتساب بیورو نے سابق مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو کو بھی شریک ملزم کے طور پر گرفتار کرلیا۔ وہ ہائی کورٹ سے ہوتے ہوئے اپیل میں سپریم کورٹ آ گئے کہ ان کو ضمانت پر رہائی دی جائے کیونکہ احتساب بیورو ریفرنس دائر کررہاہے اور نہ ہی مقدمہ آگے بڑھ رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی جسٹس دوست محمد کررہے تھے نے خالد لانگو کی درخواست کی سماعت کی تو ججوں کے علم میں آیا کہ ملزم کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اسے وی وی آئی پی کمرہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی (جن کا تعلق بلوچستان سے ہے) نے احتساب بیورو سے جواب طلبی شروع کردی۔ بولے، ملزم خالد لانگو کا ٹرائل ہو رہا ہے اسے خصوصی پروٹوکول کیوں دیا جا رہا ہے؟ ملک میں کوئی وی وی آئی پی پروٹوکول نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان حکومت کو عدالتی فیصلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مرکزی ملزم مشتاق رئیسانی سے تو احتساب بیورو نے پلی بارگین کرلی اور شریک ملزم کو گرفتار کررکھاہے، بظاہر نیب اپنا قانون ملزمان سے سودے بازی کے لئے استعمال کرتا ہے، کیا چیئرمین نیب قانون سے بالاترہے؟ چیئرمین نیب کا احتساب کون کرے گا؟ چیئرمین نیب ٹی وی پر کہتے ہیں عدالت نے ملزم چھوڑ دیا۔ تاریخ میں ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا جس میں برآمد کی گئی رقم گننے کے لئے مشینیں لگانا پڑیں، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود ریفرنس دائر نہیں ہوا، نیب مکمل طورپر اپاہج ہو چکا ہے۔

بڑی مشکل سے احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کو بولنے کا موقع ملا تو کہنے لگے، خالد لانگو مشیر خزانہ کے علاوہ لوکل گورنمنٹ گرانٹ کمیشن کے چیئر مین بھی تھے، خالق آباد اور مچھ یونین کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب 31 کروڑ کی منظوری دی لیکن علاقے میں صرف پانچ کروڑ خرچ ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز بولے، خالق آباد یونین کونسل کی کل آبادی اکیس ہزار ہے، اکیس ہزار کی آبادی کے لیے اربوں کے ترقیاتی فنڈزکا مطلب ہے یہ پاکستان کی خوش قسمت یونین کونسل ہوگی۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کرپشن ملکی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، کرپشن کے ہوتے ہوئے معیشت بہتر کیسے ہوسکتی ہے، نیب کا تفتیشی شعبہ محکمہ انتہائی کمزورہے، خالد لانگو کو کب مشیر خزانہ بنایا گیا۔ بطور مشیر خزانہ خالد لانگو نے کتنوں منصوبو ں کے لیے فنڈز کی منظوری دی۔ کیا جن پروجیکٹس کے لیے پیسے جاری ہوئے وہ موقع پر موجود بھی ہیں۔ نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ خالد لانگو اکتوبر 2013 سے مشیر خزانہ تھے، خالد لانگو کے فنڈز منظوری کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ جسٹس دوست محمد نے سوال کیا کہ جب تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں تو مشتاق رئیسانی سے پلی بارگین کی کیوں جلدی تھی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ نیب نے ملزم کو مئی سے حراست میں لے رکھا ہے، اتنے عرصے سے ریفرنس فائل نہ ہونا نیب کی بد نیتی کیوں نہ سمجھا جائے۔ نیب کو تفصیل دینی چاہیے تھی کہ خالد لانگو کے دور میں کتنے فنڈز جاری ہوئے۔

جسٹس فائز عیسی نے چیئرمین نیب کو روسٹرم پر طلب کرکے ریفرنس دائر نہ کرنے کا پوچھا تو پراسیکیوٹر جنرل نیب وقاص قدیر نے کہا میں موجود ہوں مجھ سے پوچھ لیا جائے۔ جج بولے بتائیں اب تک ریفرنس کیوں دائر نہیں ہو؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ دوسے تین روز میں ریفرنس دائر کردیں گے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا سوال یہ تھا کہ اب تک کیوں دائر نہیں کیا گیا، آپ جواب نہیں دے سکتے تو چیئرمین کو بلالیں۔ اس دوران جج اور پراسیکیوٹر میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پراسیکیوٹر بولے یہ میرا شعبہ ہے کہ جواب دوں اور نیب کا موقف بتاؤں، جج نے کہا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ آپ کی بجائے چیئرمین سے پوچھے۔ تکرار کے بعد دیگر ججوں نے مداخلت کی تو پراسیکیوٹر جنرل نیب اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور چیئرمین نیب قمر زمان چودھری آگے بڑھے۔ جسٹس قاضی فائز نے چیئرمین سے کہا، بہتر ہے کہ نیب کا نعرہ ’سے نو ٹو کرپشن‘ تبدیل کرکے ’سے یس ٹو کرپشن‘ کرلیں۔ آپ کا نعرہ تھا کرپشن کا خاتمہ، آپ تو کہتے ہیں کرپشن کرو پلی بارگین کرلو، کرپشن کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ادارہ خود مسئلہ بن گیا ہے، چیئرمین صاحب آپ قانون کی پرواہ نہیں کرتے۔

احتساب بیورو کے چیئرمین بولے، ٹرائل کورٹ نے ابھی تک مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین کی درخواست پرفیصلہ نہیں کیا، گزشتہ روز ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی، پراسیکیوٹر جنرل اور متعلقہ ڈی جی کی مشاورت سے فیصلہ کرتا ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا قانون میں کسی سے مشاورت کا ذکر نہیں، آپ نااہل ہیں یا اپنا کام خود نہیں کرتے۔ چیئرمین بولے، ضابطے کے تحت قانونی مشاورت کرتا ہوں۔ جج نے کہا عدالت میں زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کریں، بتائیں ملزم کے خلاف ریفرنس کی منظوری میں 9 ماہ کاعرصہ کیوں لگا۔ چیئرمین نیب نے جواب دیا، وائٹ کالرکرائم کی تحقیقات میں وقت لگتا ہے، نیب نے اس کیس میں شاندار کردار ادا کیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر بولے، آپ کو تقریر کرنے کا نہیں کہا جتنا پوچھا ہے اتنا بتائیں۔ چیئرمین نے کہا کرپشن کی تاریخ کاسب سے بڑا اسکینڈل ہے۔ جسٹس فائز عیسی بولے، آپ کو شرمندگی ہوتی نہیں یامحسوس نہیں کرتے۔ چیئرمین نے کہا شریک ملزم سہیل مجید کی پلی بارگین درخواست منظور کی۔ جسٹس دوست محمد نے کہا شریک ملزم سہیل کے اعترافی بیان میں خالد لانگو کا ذکر نہیں۔

عدالت نے ملزم خالد لانگو کے وکیل فاروق نائیک کوضمانت کی درخواست پردلائل دینے کے لئے کہا تو وہ بولے، بلوچستان حکومت معاملات چلانے کے قواعد کو دیکھا جائے تو تمام ذمہ داری سیکرٹری خزانہ پر عائد ہوتی ہے، وزیر، مشیر کا معاملے سے تعلق نہیں ہوتا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا جمہوریت میں پالیسی اور منصوبے بنانا وزیر کا ہی کام ہوتا ہے، سیکرٹری عمل درآمد کا ذمہ دارہوتا ہے۔ وکیل بولے، محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی پر مشیر کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، منصوبوں کی منظوری کے لئے تین اجلاس ہوئے، ان میں پانچ افسران موجود تھے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا آپ دیگر افسران کو معاملے میں شامل کرکے خطرہ مول لے رہے ہیں۔ وکیل بولے، نیب بتائے خالد لانگو نے کہاں غلط کام کیا؟ کیا فائدہ اٹھایا؟ جسٹس مقبول باقر نے کہا عدالت بھی یہی جواب ڈھونڈ رہی ہے کہ کتنے پیسے کہاں اورکیسے خرچ ہوئے، کہاں سے آئے تھے؟ نو ماہ ہوگئے ریفرنس تک دائر نہیں کیا گیا۔ وکیل بولے، میرے موکل کو تو نیب نے ایک طرح سے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے جملہ پھینکا، نو ماہ کا تو حمل بھی ابارشن کرکے ضائع نہیں کیا جاسکتا، بدقسمتی سے ہم تباہی کی جانب گامزن ہیں، حالات کو دیکھتے ہوئے کیا عدالت تفتیشی اداروں سے نرمی نہیں برتنی چاہیے کہ مکمل تباہی کے گڑھے میں نہ گر جائیں۔

وکیل بولے، عدالت تفتیشی اداروں سے نرمی برتے گی تو ملزم کو نقصان ہوگا کیونکہ ملزم قانون کا لاڈلا بچہ ہوتا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا، لاڈلہ بچہ تو وہ بھی ہوتا ہے جو ہسپتال سے چرایا جاتا ہے۔ وکیل نے کہا، عدالت میرے موکل خالد لانگو کی بیماری کو بھی مدنظر رکھے۔ جسٹس دوست محمد بولے، اس کے لئے بری امام 5 دیگیں چڑھائیں، اللہ شفا دے گا۔ جسٹس دوست محمد نے کرپشن کے ملزمان کی جانب سے بیماری کے بہانے ضمانت لینے کا پشاور کا اپنا وہ واقعہ پھر سنایا جو اس سے قبل بھی کئی بار سنا چکے ہیں، جسٹس دوست بولے، پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا ایک وارڈ نیب ملزمان کی آماجگاہ تھا، کرسیاں صوفے لگے ہوتے تھے، ایک بااثر ملزم کے وکیل نے عدالت میں ضمانت کی درخواست پر دلائل میں کہا کہ دل کا مریض ہے اس لیے ضمانت دی جائے، ہمارے چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے کہا کہ ضمانت دے دیتے ہیں وہ نہ ہو کچھ ہو جائے تو ہمارے ذمے لگے۔ خیر، کچھ دن بعد ایک سیشن جج صاحب کی بیٹی کی شادی میں چیف جسٹس صاحب مجھے بھی ساتھ لے گئے، وہاں میں نے دیکھا وہی ملزم جس کو ضمانت دی تھی اپنی پلیٹ میں مٹن کی بوٹیوں کا مینار لیے کھا رہے تھے، میں نے چیف جسٹس کو کہا، سر وہ آپ کا مریض ہے جس کو دل کی بیماری کی وجہ سے ضمانت دی تھی۔

وکیل نے کہا، سپریم کورٹ کے سامنے پرانے مقدمات کے فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں، شہباز شریف کو بھی اسی طرح ضمانت ملی تھی، آئین میں سب کی برابری کا آرٹیکل 25 بھی موجود ہے۔ جسٹس دوست محمد بولے، اس طرح تو میڈیکل رپورٹ اور علالت کے باعث سابق صدر( پرویزمشرف) کو بھی باہر جانے دیا، جہاں تک برابری کے آرٹیکل 25 کا تعلق ہے ہم اس کو سمجھتے ہیں، غریب پکڑا جائے، اس سے برآمدگی بھی ہو جاتی ہے، مال بھی واپس ہو جاتا ہے مگرپلی بارگین نہیں ہوتی، نہ ہی اس کو رہا کیا جاتا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے کہاغریب کو تو کھانا بھی جیل کاہی کھانا پڑتا ہے، کوئی وی آئی پی نہیں ہوتا۔ پہلے بی کلاس اس لیے دی جاتی تھی کہ بندہ پڑھا لکھا ہے اس کو عام مجرموں سے دور رکھا جائے، انگریز تو جزائر انڈیمان بھیج دیتے تھے تاکہ وہیں مر جائے۔ اب تو گریجویٹ بھی لوٹ مار کرتے ہیں اور اس کی وجہ بے روزگاری ہے جو کرپشن کی دین ہے۔

سپریم کورٹ نے خالد لانگو کی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ وجوہات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا جس میں احتساب بیورو کی ملزم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں تاخیر کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔