کیپٹن مبین۔ بیچ میٹ، دوست اور ہیرو


\"\"

چھ بج کر سات منٹ تک کیپٹن مبین مظاہرین سے مذاکرات کر رہا تھا، ٹی و ی اسکرین پر اس کا خوبصورت چہرہ دکھایا جا رہا تھا، جوان رعنا، پولیس کی وردی میں ملبوس، بدن میں گویا بجلی سی بھری ہو، پھرکی کی طرح گھومتا پھر رہا تھا…. اور پھر اگلے لمحے ایک دھماکے نے زندہ دل کیپٹن مبین کو کیپٹن مبین شہید بنا دیا۔ مبین….میرا بیچ میٹ، میرا یار، میرا ہیرو!
اس وقت رات آدھی سے زیادہ بیت چکی ہے، ٹی وی پر لاہور مال روڈ دھماکے کی خبریں چل رہی ہیں، یہ بحث نکل پڑی ہے کہ ان حالات میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہونا چاہئے کہ نہیں، ٹویٹر پر ہیش ٹیگ بن چکا ہے، کیپٹن مبین اور دھماکے میں دیگر شہید ہونے والوں پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، اکثر لوگ رات کا کھانا کھا چکے ہیں، کچھ فون ہاتھ میں لے کر اوپر نیچے کر رہے ہیں، دنیا داری کے معاملات بھی چل رہے ہیں…. مبین کا پوسٹ مارٹم البتہ ہو چکا ہے…. ٹی وی پر اشتہارات چل رہے ہیں، لوگ بازاروں میں خریداری کر رہے ہیں، دہشت گردی کو آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا عزم دہرایا جا چکا ہے اور یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اس واقعہ کی مذمت کر دی گئی ہے اور اس بات کی مذمت بھی کر دی گئی ہے کہ ہر مرتبہ فقط مذمت کرکے یہی فقرے بولے جاتے ہیں، سیاستدان ٹی وی چینلز پر بیانات دے کے سو چکے ہیں، مبین کے بچے البتہ نہیں سوئے، خاص طور سے چھوٹا، دو برس کا لاڈلا جو باپ سے فون چھین لیا کرتا تھا ’’نہ تنگ کر میرے باپ‘‘ اکثر مبین مجھ سے بات کرتے کرتے اپنے شہزادے کو کہتا جو اُس کی گود میں ہوتا۔ اس بچے کا کھلونا چھن گیا۔ مال روڈ پر کل سے ٹریفک پھر رواں دواں ہوگا، جس پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج ہو رہا تھا وہاں شاید کچھ عرصے بعد پھر کوئی دوسرا احتجاج ہو، اسمبلی میں اجلاس بھی ہوں گے، اس سے متصل فائیو اسٹار ہوٹل بھی آباد رہے گا، ہزاروں گاڑیاں دھماکے کی اس جگہ سے روز ویسے ہی گزریں گی جیسے ملک کے دیگر شہروں میں ایسی سینکڑوں جگہوں سے گزرتی ہیں جہاں دھماکے ہو چکے ہیں، کچھ دن بعد یہ واقعہ ذہن کے کسی گوشے میں محو ہو جائے گا، زندگی رواں دواں رہے گی، سوائے مبین کی بیوہ کے لئے جو روزانہ یہ دعا کر کے مبین کو گھر سے روانہ کرتی تھی کہ یااللہ میرے سرتاج کو اپنی امان میں رکھنا، آج شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوئی، مبین آج گھر واپس نہیں آیا۔
مبین سے میری پہلی ملاقات نومبر 1996میں ہوئی، سی ایس ایس کے بعد ہم دونوں نے سول سروس اکیڈمی جوائن کی تھی، مبین اُن لوگوں میں سے تھا جو پہلی ہی ملاقات میں یار بن جاتے ہیں، ہم میں دوستی دو وجہ سے بہت جلد ہو گئی، مبین کی بذلہ سنجی اور ہاکی کا جنون۔ اکیڈمی کی ہاکی ٹیم میں ہم دونوں شامل تھے اور اکثر پی ٹی وی پر نشر ہونے والی اسّی کی دہائی کی ہاکی کمنٹری کی پیروڈی کیا کرتے تھے، تب سے ہم نے ایک دوسرے کو نک نیم سے بلانا شروع کیا، اپنی آخری فون کال میں بھی مبین نے مجھ سے اسی کھلنڈرے لہجے میں بات کی تھی۔ زندگی سے بھرپور قہقہہ لگانے والا اور چہرے پر بچوں کی سی اٹل معصومیت والا مبین اُن دوستوں میں سے تھا جن سے محض دوستی نہیں پیار ہوتا ہے۔
میرے اس بہادر دوست کی کوئٹہ میں بھی تعیناتی رہی، وہاں اُس نے اپنی جان پر کھیل کر کئی حملے ناکام بنائے، ایک دو مرتبہ تو ایسا ہوا کہ شہر میں کسی جگہ دھماکہ ہوتا تو مبین جائے وقوعہ پر پہنچتا تو اگلا دھماکہ ہو جاتا، اپنے ہاتھوں سے اُس نے کئی شہدا کے لاشے اٹھائے، شاید اسے اندازہ تھا کہ ایک دن وہ بھی اسی طرح جام شہادت نوش کرے گا مگر آفرین ہے کیپٹن مبین پر کہ کبھی اس جانباز سپاہی نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنے فرض سے کوتاہی نہیں برتی، آخری دم تک وہ فرض شناسی کی مجسم تصویر بنا رہا اور بالآخر اپنی جان اس ملک پر قربان کی جس میں روزانہ سینکڑوں خرابیاں نکال کر ہم اپنے گھناؤنے کرتوتوں کا جواز تراشتے ہیں۔
کیپٹن مبین کے ساتھ دوسرا شہید ہونے والا افسر زاہد گوندل ہے جو میرے بھائی کا بیچ میٹ تھا، اس کے علاوہ ڈولفن فورس کا جوان بھی دیگر شہدا میں شامل ہے جبکہ کچھ رپورٹرز اور دوسرے لوگ جو جائے وقوعہ سے چند گز کے فاصلے پر تھے خوش قسمتی سے بچ گئے اور کچھ ایسے بھی تھے جو وہاں سے چند سیکنڈ پہلے گزر ے تھے۔ دھماکہ لاہور میں ہو یا کوئٹہ میں، ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کہیں کسی کا دوست مارا جاتا ہے، کہیں کوئی چند لمحوں کے فرق سے بچ نکلتا ہے، کہیں کسی جاننے والے کی خبر آ جاتی ہے اور کہیں موقع پر موجود ہونے کے باوجود جان بچ جاتی ہے۔ اس مرتبہ میرا یار اس جگہ موجود تھا جہاں سے اگر وہ چند سیکنڈ پہلے کچھ گز پرے ہو جاتا تو آج مجھے کیپٹن مبین کو شہید نہ لکھنا پڑتا۔ مبین کی پُرخطر تعیناتیوں اور رسک لینے کی اُس کی عادت کے باوجود میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں کیپٹن مبین کو کبھی شہید لکھوں گا۔ صفوت غیور سے لے کر کیپٹن مبین تک، یہ قوم احسان مند ہے پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اُن تمام جوانوں اور افسروں کی جنہوں نے اُس ملک کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں جہاں اکثر لوگوں نے آج تک کبھی ایک چیتھڑا قربان نہیں کیا۔
رات کے دو بج چکے ہیں، زندگی چل رہی ہے، دنیا کے کام جاری ہیں، ایک نہیں ہے تو میرا یار مبین اب اس دنیا میں نہیں ہے، میرے فون میں اس کا نمبر محفوظ ہے اور اُس کے ایس ایم ایس بھی، مگر اب اِس نمبر سے مجھے کبھی کال نہیں آئے گی ’’معاف کیجئے آپ کا ملایا ہوا نمبر عارضی طور پر بند ہے‘‘ کا پیغام سنائی دیتا ہے، کاش یہ عارضی طور پر ہی بند ہوتا، ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوتا۔ کاش مجھے یہ کالم نہ لکھنا پڑتا۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 123 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada