بے غیرت معاشرے کی غیرت


\"\"

غیرت کے نام پر قتل، پتہ نہیں یہ ترکیب سب سے پہلے کس نے استعمال کی تھی؟ کسی صحافی نے، دانشور نے یا پھر کسی اور نے۔ جس نے بھی کی ہو آج اس کا دھڑا دھڑ استعمال ہو رہا ہے، لیکن کیا یہ ترکیب سہی ہے؟ کیا واقعی جس کو غیرت کے نام پر قتل کا نام دیا جا رہا ہے وہ غیرت کے نام پر قتل ہی ہے یاپھر کچھ اور ہے جسے غیرت کے پردوں میں لپیٹ دیا گیا ہے؟ غیرت کیا ہے؟ کیا محض وہ جذبہ جو عورت کے لئے مرد کے ذریعہ بنائے گئے قوانین سے انحراف کی صورت میں بیدار ہوتا ہے؟ کیا غیرت صرف مردوں کا خاصہ ہے؟ کوئی صورت ایسی بھی ہے کہ عورتوں کی غیرت بھی بیدار ہو جائے؟ کیا غیرت مردوں پر آکر ختم ہو گئی اور اس پر انہیں کی اجارہ داری ہے؟

بہت سے سوال ہیں۔ 6 دسمبر 2016 کو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر چھپی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ تین برس کے دوران پاکستان میں 2ہزار سے زیادہ عورتیں غیرت کے نام پر مار دی گئیں۔ الجزیرہ کی ویب سائٹ پر 28 نومبر 2013 کو شائع رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا میں غیرت کے نام پر قتل کا ہر پانچواں معاملہ بھارت سے ہے۔ رپورٹ نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں پانچ ہزار ایسے معاملات ایک برس میں سامنے آئے جن میں سے بھارت کے ایک ہزار معاملے تھے۔ غیر سرکاری تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ غیرت کے نام پر قتل قبیلے کی مرضی سے ہوتا ہے بلکہ قبیلے میں سر بلندی کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے کوئی ایک آدھ معاملہ ہی کسی طرح حکام کی جانکاری میں آ پاتا ہے۔ عدالتیں شواہد کی کمی کا حوالہ دے کر ملزمین کو بری کر دیتی ہیں۔ شہادتیں آئیں بھی کہاں سے، جس لوگوں کو شاہد بننا تھا وہ تو قبیلے کے غیرت دار قاتلوں کو احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہ نفسیات کا ایک عام سا معاملہ ہے کہ کوئی کسی مجرم کے خلاف گواہی کب دیتا ہے؟ جبکہ اسے جرم سے تکلیف ہوئی ہو یا وہ جرم کسی کے ساتھ زیادتی لگا ہو۔ غیرت کے نام پر قتل قبائلی ذہنیت کو جرم نہیں جواں مردی لگتا ہے اس لئے کوئی کیوں گواہی دینے لگا۔

غیرت کے نام پر قتل کا حالیہ معاملہ بتاتا ہے کہ کس چیز کو ہم غیرت کا نام دے کر قاتلوں کا دامن دھونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ غیرت انسانی نفسیات کا حصہ ہے لیکن یہ جذبہ اپنے کچھ خصائص بھی رکھتا ہے۔ غیرت کا تعلق براہ راست جس شئے سے ہے وہ ہے اخلاقیات۔ اگر معاشرے میں اخلاقی اقدار ہی موجود نہ ہوں تو وہاں غیرت کا کوئی بھی تصور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کسی معاشرے میں عورت کہلائی جانے والی مخلوق کو بنیادی حقوق ہی مہیا نہ کرائے جاتے ہوں، عورتوں پر تشدد معمول کی بات ہو، گھر میں مرد پیٹ بھر کھا کر خراٹے بھرتے ہوں اور عورتیں پتیلی کھرچ کر پیٹ بھرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ بچیوں کو بوڑھوں کے ساتھ شادی کے بندھن میں باندھا جاتا ہو، ایک مرد کئی کئی بیویوں کا شوہر ہو لیکن نفقہ سب سے کم عمر بیوی کو ہی دیتا ہو، بچوں کی فوج ہو جن کو بیماری میں دوا نہ ملتی ہو اور ماں بخار میں تپ رہے بچے کو سینے سے لپٹا کر سسکتی ہو۔ ایسے بے غیرت معاشرے میں اگر کوئی مرد غیرت کا نام لے تو کچھ مت کیجئے بس زور زور سے قہقہہ لگائیے۔

یہ معاملہ دراصل غیرت کا ہے ہی نہیں۔ یہ بے غیرتی کا احساس ہے، جو لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے مردہ اور بے حس معاشرے میں کوئی وقعت نہیں رکھتے ایسے احساس کمتری کے مارے افراد صرف اس آس میں کہ انہیں بھی کوئی کچھ سمجھ لے، کسی بھی حد کو پھلانگ جانے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ اب اگر یہ فریب نہیں تو کیا ہے کہ قندیل بلوچ جب گھر پر پیسہ بھیجتی تو اس کے بھائی اس میں سے اپنا حصہ لینے آ جاتے تھے لیکن جب انہیں بھائیوں نے اسی بہن کو مار ڈالا تو اسے غیرت کے نام پر قتل کہہ دیا گیا۔ غیرت اس وقت کہاں گئی تھی جب اسی بہن کی کمائی کھائی جا رہی تھی؟ غیرت کے نام پر قتل دراصل ایک ڈر کے سبب ہے اور وہ ڈر یہ کہ اگر خواتین پڑھ لکھ گئیں، اپنی روٹی پانی کے لئے خودکفیل ہو گئیں تو جاہل مردوں کی سماج میں کیا معنویت رہ جائے گی؟ پھر ایک نٹھلے کو دو دو تین تین بیویاں کیسے ملیں گی؟ اپنے پیروں کے نیچے سرکتی زمین ان قاتلوں کو تحریک دیتی ہے کہ وہ غیرت کی دہائی دے کر اپنا مفاد حاصل کر لیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالک اشتر

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 29 posts and counting.See all posts by malik-ashter