لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار نہیں


\"\"

دہشت گردی معاشرتی ناسور بن چکی اس سے کسی کو اختلاف نہیں۔ کہا جاتا تھا مسجد و محراب سے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاتی، یہ بھی ہوگیا۔ الزام تھا دیوبندی تنظیمیں مذمت نہیں کرتیں، وہ بھی کرلیا گیا۔ بدلے میں کئی شہید ہوئے اور پوری قیادت ہٹ لسٹ پر آچکی۔ مگر شر پسندوں کو بھرتی پھر بھی مل رہی ہے۔ کیوں؟

معاملہ صرف اتنا ہے کہ تجزیہ ہو یا حکمت عملی، پوری عمارت محض مفروضوں پر کھڑٰی ہے۔ بھرتی کرنے والوں کا مائنڈ سیٹ جانتے ہیں نہ بھرتی ہونے والوں کا۔ اور المیہ یہ کہ جاننا بھی نہیں چاہتے۔

نیکٹا کے ابتدائی ایام تھے، طارق پرویز اپنے تمام تر خلوص اور محنت کے ساتھ وزارت داخلہ کے ایک کمرے میں بیٹھے رحمٰن ملک کی عیاریوں کے باوجود ایک شاندار ادارہ تخلیق کرنےکی کوشش میں تھے۔ گاہے ہم بھی جا پہنچتے، ایک صاحب سے تعارف ہواکہ اسلام آباد میں اعلیٰ پولیس افسر ہیں اورنیکٹا میں آنا چاہتے ہیں۔ داڑھی دیکھ کران کے اندر کا پولیس افسر جاگ اٹھا۔ مدارس کے خلاف ایک طویل لیکچر گالیوں سے مرصع ارشاد فرمایا۔ پوچھا آپ نے کسی مدرسہ سے تعلیم حاصل کی؟ بولے نہیں، سوال کیا مدرسے کا نصاب دیکھا؟ کہا نہیں، عرض کی پھر یہ سب جو آپ فرما رہے ہیں کس بنیاد پر؟ فرمانے لگے ’’میں کل ایک جگہ فوٹو سٹیٹ کروانے گیاتھا وہاں مدرسہ کے طالب علم اپنی ورک بک کی فوٹو سٹیٹ کر وارہے تھے اس میں لکھا تھا ’’ہر سرکاری ملازم کافر ہے، ہر داڑھی منڈا کافر ہے اسے قتل کردو‘‘ طارق پرویز ہی بولے کہ چھوڑو یار ابھی اتنا بھی اندھیر نہیں مچا۔ جب وہ مصر رہے تو کہنا پڑا کہ پورے ملک میں کوئی ایک بھی مدرسہ ورک بک استعمال ہی نہیں کرتا۔ مگر ان کا کوا سفید ہی رہا بلکہ اپنی اسی جہالت کی بنیاد پر وہ ایک تگڑا آپریشن لانچ کرنے کو بس تیار ہی بیٹھے تھے۔

اسی طرح 2008 میں غیر ملکی خاتون صحافی ایک دوست کے ہمراہ ملنے آئیں۔ ملتان جانا چاہتی تھیں، ان کی اطلاع کے مطابق ’’طالبان بس شہر پر قبضہ کرنے ہی والے ہیں داڑھیاں مونڈنے پر حجام کو قتل کرنے کے پوسٹر لگ چکے ہیں‘‘۔ فورا ً چار پانچ دوستوں کو فون کھڑکایا کہ شاید ابھی کوئی نصف گھنٹہ میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہوگئی ہو۔ وہاں سب لاعلم نکلے۔ مگر ہماری گوری مہمان بضد تھیں کہ ان کی اطلاع درست ہے۔ وہاں کی ایک خاتون صحافی کا ان سے رابطہ کروا کے بھیج دیا۔ اگلے روز وہاں سے اطلاع ملی کہ مہمان گوری ملتانی حجاموں کی منتیں کر رہی ہے کہ کوئی اس سے پیسے لے کرہی سہی مگر آن دی کیمرہ کہہ دے کہ اسے ایسا تھریٹ ملا ہے، مگر کون موت کو ماسی کہے۔ غصہ میں واپس آئیں اور اپنے اخبار کو رپورٹ بھیجی کہ ’’ملتان میں طالبان نے داڑھیاں مونڈنے پر پابندی لگا دی ہے، لیکن خوف سے لوگ تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ نہ صرف یہ خبر شائع ہوئی بلکہ پاکستانی میڈیا میں بھی اس کا کئی جگہ تذکرہ ہوا، کسی اللہ کے بندے نے ازخود جاننے کی کوشش تک نہ کی۔ یہ ہے وہ مائنڈ سیٹ جس کے ساتھ ہم دہشت گردوں کے ایجنڈے کو شکست دینے چلے ہیں۔

میدان کی لڑائی آپ جیت چکے، اب بیانیہ کی جنگ ہے جس میں آپ کے ہاتھ خالی ہیں، کارگرہتھیار تو بعد کی بات آپ کو تو دشمن کے ہتھیار کااندازہ ہی نہیں، نہ جاننا چاہتے ہیں۔ بلکہ آپ کا تمام تر بیانیہ اور پراپیگنڈہ ان کی صفوں میں ان کے موقف کو مضبوط کر رہا ہے۔ آپ کہ ہر گالی اور بے ڈھنگی دلیل انہیں اپنی بدمعاشی کا جواز فراہم کرتی ہے۔ نظریاتی جنگیں دشمن کے دماغ میں گھس کر لڑی جاتی ہیں۔ لازم تھا ٹھنڈے دماغ سے ان کا مائنڈ سیٹ جانیں اور پھر ان چہروں اور زبانوں سے اس کا رد کریں جو ان کے ہاں وزن نہیں تو کم از کم قبولیت ضروررکھتے ہوں۔ اس مقصد کے لئے مسجد و مدرسہ آپ کا کارگر ہتھیار اور بہترین و موثر اتحادی تھا اور ہے۔ کوئی جوابی بیانیہ معتبر ہو ہی نہیں سکتا جس کی پشت پر مسجد و مدرسہ کا اعتبار نہ ہو۔ مگر آپ کی سی ٹی ڈی احمقانہ کارروائیوں سے وہاں دشمن کے لئے ہمدردی کے بیج بو نے کی کوشش میں ہے۔ اپنے دفاعی مورچے دشمن کے حوالہ کرنا اور کس کو کہتے ہیں؟

وہ اپنی سوچ میں کتنے راسخ ہیں اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا۔  1998میں اسامہ بن لادن کا ایک ساتھی ہمیں قندھار سے سپین بولدک تک چھوڑنے آرہا تھا، والدین کی اکلوتی اولاد ابو محمد اب نا معلوم زندہ بھی ہے یا نہیں، عمر کوئی بیس سے پچیس سال ہوگی۔ ڈرائونگ سیٹ پر بیٹھا مسلسل تلاوت کیے جا رہا تھا۔ پوچھا کہاں کے ہو؟ جواب آیا ’’مدینہ ‘‘، کہا وہاں تو روضہ رسولﷺ کی زیارت اکثر ہوتی ہوگی؟ اس نے کہا ’’ہمارا گھر اتنا قریب ہے کہ پانچوں نمازیں وہیں پڑھتے تھے‘‘۔ حیرت سے سوال کیا ’’تم آقا دو عالمﷺ کا پڑوس چھوڑ کر یہاں بیابان میں آن پڑے؟ کیوں؟ ‘‘اس نے چونک کر دیکھا اورکہا ’’نبی ﷺ کے پڑوس سے نبیﷺ کے فرمان پر عمل زیادہ ضروری ہے‘‘۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ماں کا پوچھا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگا’’دس برس ہوگئے ماں کو نہیں دیکھا، وہ فون پر روتی ہے۔ ‘‘ ہم نے کہا پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺکا فرمان تو یہ بھی ہے کہ ماں باپ کی خدمت کرنے والا کوئی اور نہ ہوتو ان کی خدمت ہی خود خاتم النبیینﷺکے ہمراہ جہاد کے برابر ہے۔ اس نے سنا اور سوالیہ انداز میں صرف اتنا کہہ کر چپ ہوگیا ’’ تم شیخ (اسامہ بن لادن) کے مہمان تھے؟ ‘‘۔ وہ ہمیں جہاد مخالف سمجھنے لگا تھا۔

یہ ہے، ان کا مائنڈ سیٹ اور اس کی پختگی۔ جب تک اسے سمجھا نہیں جاتا اس کا اسی علمی مقام سے توڑ نہیں کیا جاتا، سب لا حاصل ہے۔ قطعی لا حاصل۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار نہیں

  • 15-02-2017 at 4:53 pm
    Permalink

    ساری زندگی فرقہ وارانہ اور جہادی صحافت، دیگر فرقوں کے خلاف بے سروپا پروپیگنڈا، کرنے کے بعد سیف اللہ خالد اگر عاقل ہونے کا دعوی کرنا چاہتا ہے تواس پر مشتری کو ہشیاررہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ بھی ایک لبادہ ہی ہوگا۔ خبث باطن کا اظہار جلد یا بدیر ہو ہی جائے گا۔

  • 15-02-2017 at 5:34 pm
    Permalink

    خان اچکزئی،پنجاب میں کہا جاتا ہے کہ اپنی شناخت چھپاکر دوسروں کو گالی صرف وہی دیتا ہے جسے اپنی ولدیت پر شک ہو،اس لئے میں تمہاری گالی کا جواب نہیں دونگا۔البتہ یہ بتادوں کہ پہلے بھی تمہارے جیسے چھچھورے اور خبث باطن کے مریضوں کی ذہنی اور عملی غلاظت سےقوم کو آگاہ کرتا رہا ہوں، اب بھی کر رہا ہوں،آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔

Comments are closed.