دہشت گردوں سے صرف پولیس ہی نمٹ سکتی ہے


گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے میں دو قابل پولیس افسران سید احمد مبین اور زاہد گوندل شہید ہوئے۔ ان کی کاؤنٹر
ٹیررازم کے خلاف خدمات بھی رہی ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن کر چکے تھے۔ بظاہر تو یہ ایک سافٹ ٹارگیٹ کا معاملہ دکھائی دیتا ہے مگر اصل بات تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو گی۔

دہشت گرد جب کسی علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کا نشانہ سول انتظامیہ ہوتی ہے۔ ریاست کی پہنائی گئی وردی ریاست کی عملداری کی علامت ہوتی ہے۔ دہشت گرد قانون کی عملداری کو ناکام بنانے کے لئے پولیس، عدالت اور سرکاری افسران کو علاقہ بدر کر دیتے ہیں یا مورچہ بند کر دیتے ہیں۔ عوام کے دلوں سے وہ حکومت کا ڈر نکال کر اپنا خوف اس میں بٹھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد علاقے پر ان کی اپنی فورس دکھائی دینے لگتی ہے اور ان کے اپنے اہلکار علاقے کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی طاقت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ حکومت کو ان سے نمٹنے کے لئے فوج طلب کرنی پڑ جاتی ہے۔ یہی کچھ سوات میں ہوا تھا۔ یہی کچھ فاٹا میں ہوا ہے۔

ہم ترقی یافتہ ممالک میں دہشت گردوں سے نمٹنے کی حکمت عملی دیکھتے ہیں تو یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے فوج طلب نہیں کی جاتی ہے۔ اس کی بجائے پولیس کے انتہائی اعلی تربیت یافتہ دستے ہی سامنے آتے ہیں جو کہ دہشت گردوں سے مقابلہ بھی کرتے ہیں، اور مغویوں کو ان سے بچاتے بھی ہیں۔ جس جگہ ہمارے ملک میں فوجی کمانڈو طلب کیے جاتے ہیں، اس جگہ ان ممالک میں پولیس کے کمانڈو ہی یہ کام کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں بھی پولیس کو فوج کے کمانڈوز سے تربیت دلوا کر ایلیٹ فورس بنائی گئی تھی۔ مگر دکھائی یہی دیا ہے کہ وہ صرف پروٹوکول ڈیوٹی ہی کرتی ہے ورنہ جب بھی کوئی بحرانی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو فوجی دستے اور سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو ہی طلب کرنے پڑتے ہیں۔ پولیس دہشت گردوں کے حملوں سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوتی ہے۔

اب گزشتہ چند برس سے پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم کے شعبے نے مثالی کام کیا ہے۔ وہ دہشت گردی ہونے سے پہلے ہی اس کا سد باب کرنے کے سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ فوجی دستے کسی سامنے دکھائی دینے والے دشمن سے تو لڑ سکتے ہیں مگر گلی محلوں میں چھپے ہوئے دشمن تک ان کی پہنچ نہیں ہوتی ہے۔ ان گھروں میں پوشیدہ دہشت گردوں تک علاقے کا تھانیدار ہی پہنچ رکھتا ہے جس کے مخبروں کا جال اس کے حلقے میں پھِیلا ہوتا ہے۔

لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پولیس کو قانون نافذ کرنے والا آزاد ادارہ بنانے کی بجائے اسے حکمران جماعتوں کو ووٹ لا کر دینے والا غلام ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے عوام ممبران اسمبلی کو قانون سازی کے لئے نہیں چنتے۔ وہ ان کو پولیس تھانے میں مدد کرنے کے لئے یا کونسلر کا کام کرنے کے لئے ان کو چنتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں ایک سابقہ وزیراعلی پنجاب تو بنفس نفیس لاہور کے ایک تھانے میں تشریف لے گئے تھے اور انہوں نے ذاتی طور پر اپنے ایک ووٹر کے فرزند ارجمند کو حوالات سے ایسی بات کہتے ہوئے نکالا تھا کہ ’منڈے کھنڈے تو بدمعاشی کرتے ہی رہتے ہیں، باہر نکال اسے تھانیدار‘۔

اب اگر ممبر اسمبلی نے اپنے حلقے سے ووٹ لینے ہیں، اور سیاسی جماعت نے اپنے ممبر اسمبلی کو الیکشن جتوانا ہے، تو پھر علاقے کے تھانیدار اسی کی مرضی کے تعینات ہوں گے اور وہ اس کا ہر جائز یا ناجائز حکم ماننے پر مجبور ہوں گے۔ اعلی پولیس افسر بھی ان ممبران کا حکم ٹالنے کی جرات نہیں کر سکتے ہیں ورنہ ان کی سزا علاقہ بدری ہوتی ہے۔

اس صورت میں پولیس والے اپنی ملازمت بچائیں یا جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں سے عوام کو بچائیں؟

اگر ہم دہشت گردی سے نمٹنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں پولیس کو سیاسی اثر سے نکالنا ہو گا اور اسے جدید خطوط پر آراستہ کرنا ہو گا جہاں اس کے تشدد کے زور پر حاصل کیے گئے ’ثبوت‘ کو عدالت مسترد کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ عدالتی نظام میں ایسی تبدیلیاں کرنی ہوں گی جہاں جج اور گواہ کسی خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکیں اور کسی بھی فوجداری کیس کا فیصلہ ایک سے تین ماہ کی مدت میں کر دیا جائے۔ نظام عدل میں ایسی تبدیلی کی ضروت ہے کہ دہشت گردی اور دیگر حساس نوعیت کے مقدمات میں جج، وکیل اور گواہ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بھی کارروائی کا حصہ بن سکیں۔ورنہ صفوت غیور، سید احمد مبین اور زاہد گوندل جیسے قابل افسروں کا خون رائیگاں جاتا رہے گا اور دہشت گردی کا عفریت ہماری جانیں لیتا رہے گا۔

بدقسمتی سے ہماری حکومت کی توجہ پولیس اور عدالتی اصلاحات پر نہیں ہے۔ اس کے لئے دہشت گردی ختم کرنا نہیں بلکہ ووٹ حاصل کرنا زیادہ اہم ہے خواہ اس کا راج زندہ شہروں کی بجائے لہو سے اٹے ہوئے قبرستانوں پر ہی کیوں نہ رہ جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 634 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar