عمران خان کی ماڈل پولیس کے کارنامے


\"\"

عمران خان کو اپنے صوبے میں سب سے زیادہ جس شعبے پر فخر ہے وہ ہے پولیس کا شعبہ۔ عمران خان کل لاہور گئے تو انہوں نے اس موقع پر پنجاب پولیس کو رگڑنا اور اپنی پولیس کی تعریف کرنا نہیں بھولے۔ میں جان بوجھ کے پولیس پہ تنقید نہیں کرتا میں پولیس کو مظلوم طبقہ سمجھتا ہوں۔ اسے پبلک بھی گالیاں دیتی ہے اور حکمران بھی۔ میڈیا جب چاہے ان کی ورری پہ سوال اٹھا سکتا ہے۔ پولیس مقابلے ان سے کروائے جاتے ہیں اور پھر دہشت گرد انہیں آسان ٹارگٹ سمجھ کر بدلہ لے لیتے ہیں۔ کم وسائل کے باوجود یہ ملکی دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں کمزوروں پہ تنقید زیادتی سمجھتا ہوں لیکن عمران خان جس پولیس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں وہ ہمیں کے پی کے میں کم ہی نظر آئی۔ شاید عمران خان پشاور و گرد و نواح کو ہی کے پی کے سمجھتے ہیں۔

آئیے ضلع مانسہرہ کی پولیس کی ایک جھلک آپ کو دکھاتا ہوں دیکھئیے کپتان کی پولیس کتنی بدل چکی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ بتا رہا ہوں اگر آپ کہیں تو مزید کئی واقعات ثبوت کے ساتھ بتاؤں گا۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ 2 نومبر 2016 کو ہزارہ یونیورسٹی کے دو طلباء قتل ہوئے ایک طالب علم سوات کا تھا اور دوسرا مانسہرہ کا۔ پٹھان طلباء نے اپنے ساتھی کے لیے احتجاج کیا اور کہا کہ قاتل کو پکڑا جائے پولیس نے مذاکرات کیے لیکن بات نہ بنی۔ طلباء کا مطالبہ تھا کہ ابھی قاتل کو گرفتار کیا جائے ہمارے ساتھ پہلے بھی زیادتیاں ہوئی ہیں اب ان زیادتیوں کو بند ہونا چاہیے پولیس جب مذاکرات میں کامیاب نہ ہوئی تو اس نے روایتی ہتھکنڈا استعمال کیا اور مار دھاڑ شروع کر دی۔

چلیں بات یہاں تک رکتی تو جواز تھا کہ روڈ کھلوانے کے لیے ایسا کیا لیکن پولیس نے دو قدم آگے بڑھ کے مزید اقدامات اٹھائے پولیس نے ہاسٹلوں سے سوئے ہوئے طلباء کو آدھی رات جگایا اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ آدھی رات ان کو اٹھا کے کہا گیا ابھی گھر چلیں۔ کچھ کو قید کیا کچھ پہ تشدد کیا اور کچھ کو زخمی کر کے معذور کر دیا۔ آج بھی یونیورسٹی کے دو طلباء دماغی لحاظ سے اور آنکھوں سے معذورہو چکے ہیں۔

پولیس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا مزید آگے بڑھ کے پروفیسر صاحبان رجسٹرار اور وی سی کی بھی تذلیل کی وی سی ہزارہ یونیورسٹی کہتے ہیں اس دن میرے ساتھ میرے پروفیسرز نہ ہوتے تو پولیس نے مجھے بھی گھسیٹنا تھا پولیس کا رویہ انتہائی مایوس کن تھا۔ یونیورسٹی کی طرف سے جب پولیس کے خلاف درخواست دی گئی تو پولیس نے نیا کام شروع کر دیا ہفتہ قبل ہزارہ یونیورسٹی کی سرکاری گاڑی نمبر A۔1304 کا ایک عام سپاہی کے ذریعے چالان کروایا گاڑی میں وی سی ہزارہ یونیورسٹی خود موجود تھے اور وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے سفر کر رہے تھے وی سی صاحب اس واقعے کو بھی پی گئے اس لیے کہ وی سی ایماندار اور شریف انسان ہے۔ آپ وی سی ہزارہ یونیورسٹی کی ایمانداری اور فرض شناسی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وی سی صاحب آٹھ بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں ماتحت عملے سے کام لے رہے ہیں دفتر میں عیاشیاں بند کر دیں اپنے ساتھ ہجوم نہیں رکھتے خود ہر کلاس میں جاتے ہیں۔ اس شریف آدمی کا پالا پولیس سے پڑ چکا ہے۔ پولیس نے وی سی صاحب کو مزید سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خان صاحب کی پولیس نے مورخہ 13فروری کو یونیورسٹی کی سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی جس کا نمبرA۔ 1138 ہے کو یونیورسٹی سے مانسہرہ سفر کے دوران کالج دوراہا میں پولیس کانسٹیبل زبردستی لفٹ لے کر سٹی تھانے مانسہرہ لے گیا۔ یہ گاڑی بھی سرکاری کام کے سلسلے میں مانسہرہ جا رہی تھی۔ گاڑی کو تھانے میں بند کرکے متعلقہ پولیس اہلکار نے لکھ دیا کہ یہ گاڑی چوری کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گاڑی 2002 میں سابقہ وی سی داؤد اعوان کے دور میں خریدی گئی جس کا سرکاری نمبر A۔ 1138ہے۔

یہ ہیں مثالی پولیس کے کارنامے۔ خان صاحب آپ بہت اچھے آپ کی پولیس بھی بہت اچھی۔ بس اتنا کیجئے میرے اساتذہ کو چور نہ بنائیں ان پہ چوری کے مقدمے نہ بنائیں۔ ہم نے آپ کی زبانی سنا کہ مغرب اساتذہ کا اتنا احترام کرتا ہے کہ وہاں کے جج صاحبان اساتذہ کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ آپ یا آپ کی پولیس معزز اساتذہ کے احترام میں کھڑی ہو جائے ہاں یہ چھوٹا سا اورمعصوم سا مطالبہ ضرور کروں گا انہیں چور تو نہ بنائیں مستقبل کے معماروں کی تربیت کرنے والوں کو جب چور کہا جائے گا تو پھر دنیا میرے اساتذہ کا کیا احترام کرے گی؟ خان صاحب پنجاب پولیس اور شہباز شریف پہ ضرور گرجیں یہ آپ کا سیاسی حق ہے بس ایک نظر اپنے صوبے کی طرف بھی کیجئے۔ پشاور سے باہر بھی نکلیں پشاور ہی کے پی کے نہیں ہے مانسہرہ بھی کے پی کے میں آتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ عمران خان تک یہ پیغام پہنچا تو وہ ضرور معاملے کی تحقیقات کروائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔