میڈیا کا بٹوارا


\"\"تیرہ فروری کی بھیانک شام سوا چھ بجے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے گیٹ کے سامنے’ فارما کمپنیز اور میڈیکل سٹورز‘ کے اراکین کے احتجاج کے دوران فضا ایک خوفناک دھماکے سے گونج اُٹھی۔ ابتدا ئی اطلاعات کے مطا بق سات افراد شہید ہوئے۔ ملک کا ہر ذی شعور انسان اپنے ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کر بس یہی دعا کر تا رہا کہ مزید شہادتیں نہ ہوں مگر شہیدوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور ڈی آئی جی ٹریفک لا ہور احمد مبین اور ایس ایس پی آپر یشن زاہد گوندل سمیت تیرہ افراد شہید اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ۔

اِسی تاریخ کو ڈھائی گھنٹے بعد کوئٹہ میں سریاب پل کے قریب بم کو نا کارہ بنا تے ہوئے دھما کہ ہوا، جس میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عبدالرزاق سمیت دو افراد شہید ہوئے۔ اسی دن شمالی وزیر ستان میں سٹر ک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھما کہ ہوا، جس میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوئے ۔

ملک کے ہر شہر ی کا دل اشک بار تھا۔ نیوز چینل پہ مسلسل جائے و قو عہ کے منا ظر دکھائے جا رہے تھے ۔ کبھی وزیر اعظم تو کبھی آرمی چیف کی طر ف سے مذمتو ں کا سلسلہ جاری تھا۔ سو شل میڈیا پہ بھی عوا م کی طرف سے مذمتیں اپنے عروج پر تھی ، کوئی اسے را کا حملہ ٹھہراتا تو کوئی پی ایس ایل کے فائنل میچ اور پاکستان میں انٹر نیشل کر کٹ کے خلاف سازش قرار دیتا۔ ہر کوئی اپنے حصے کا تجزیہ بھر پور انداز میں کر رہا تھا ۔

میں نے بھی سو شل میڈیا کا رخ کیا اور پوسٹ میں چند مذمتی بول اپنے اکا ؤنٹ پر اپ لوڈ کئے ۔سو شل میڈ یا جسے آج کل ظلم کے خلاف مظلوموں کو انصاف دلانے کا ایک پلیٹ فا رم سمجھا جا تا ہے۔ فیس بک کی اتھل پتھل دنیا میں اپنے نیوز فیڈ کے ذریعے میں لو گوں کے پو سٹ پڑھتا آگے بڑھتا جا رہا تھا کہ ایک نو جوان کی طرف سے پو سٹ دیکھا تو کافی تعجب ہوا ایک نیوز چینل کے ہا ئی لائیٹس کی تصویر لی گئی تھی۔ لکھا تھا۔۔۔ ”کوئٹہ : سر یاب کے قریب دھماکہ دو افراد جا ں بحق، گیارہ زخمی “\"\"

”لاہور دھماکہ خود کش تھا، تیرہ افرادشہید ہو ئے “

میں نے سو چا شاید کوئی غلطی ہو ئی ہو گی، نو جوان کو کمنٹ میں دلاسہ دیا اور نیوز فیڈ آگے دیکھتا گیا ۔

ایک اور نیوز ویب سائٹ کی طرف سے پوسٹ تھی۔

لکھا تھا ۔۔۔ ”کوئٹہ میں دھماکہ دو افراد جاں بحق “

”لا ہور خود کش حملے میں دو اعلیٰ افسروں سمیت تیرہ افراد شہید “

کئی ذہنوں میں یہ سوال ابھرے ہونگے ۔ ”کیا کوئٹہ کے بم ڈسپو زل اسکواڈ والے اتنے ہی محب وطن تھے ،جتنے لاہور کے پولیس آفسر یا اُن کی وفاداری پہ کوئی شک تھا ؟ کیا وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف شہید ہونے والے ایف سی اہلکار اور لاہور میں شہید ہونے والے پو لیس اہل کاروں میں کوئی فرق تھا ؟ کیا کوئٹہ کو سینکڑوں دھما کوں سے بچانے والے عبدالرزاق عر ف کمانڈر وطن کی خدمت کر تے ہوئے شہید نہیں ہوئے یا لاہور کے فرض شناش ڈی آئی جی (ٹریفک ) احمد مبین نے وطن کی خدمت کا کوئی اور ہی حلف لیا تھا ؟ اگر ایک صوبے کا پولیس آفیسر شہید تو دوسرے کا جاں بحق کیوں ؟کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟“

فرنٹ میڈیا کی بات کریں تو اخبار کی شہ سرخی پر نظر ڈالتے ہی کئی لوگوں کو دُکھ ہو گا ۔\"\"

”لا ہور خود کش حملہ تیرہ شہید “

 ” کوئٹہ اور جنو بی وزیرستان میں بھی دھما کے: 2 اور 3 جاں بحق “

الیکٹرونک میڈیا ، فرنٹ میڈیا ، سو شل میڈیا، ان سب پہ ایک پسماندہ صوبے کے لو گوں کو جاں بحق اور دوسرے صوبے کے لو گوں کو شہید ٹھہرایا جائے تو یہ پسماندہ صوبے کے لو گوں کو علیحدہ کر نے کے مترادف ہے پھر پسماندہ صوبے والے خود کو محب وطن ثابت کر نے کی یا محب وطن بننے کی جتنی بھی کو شش کر لیں ناکام رہیں گے ۔

اپنا تو خون پانی…. جینا مرنا بے معنی….!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شعیب آرین کی دیگر تحریریں
شعیب آرین کی دیگر تحریریں