پشاور میں جج کی گاڑی پر خودکش حملے میں 2 افراد جاں بحق، متعدد زخمی


\"\"

پشاور کے علاقے حیات آباد میں پی ڈی اے کے دفتر کے قریب سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان وزیر کے گھر کے سامنے دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جب کہ 18 زخمی ہوگئے ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ہے۔ جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز سجاد خان کا کہنا ہے کہ دھماکا خود کش اور حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے ماتحت عدلیہ کے ججز کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ گاڑی میں خواتین ججز بھی موجود تھیں، دھماکے میں گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جب کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص اور میڈیا کے نمائندوں کو جائے وقوعہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی، شہر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دھماکے کی جگہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا اور فاٹا میں پورے پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی ظاہر کررہے ہیں۔ اس واقعے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 4 ججز سمیت 5 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں 3 خواتین ججز بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب وزیرداخلہ چوہدری نثار نے حیات آباد دھماکےکی شدید مذمت کرتے ہوئے  واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ جس جگہ دھماکا ہوا ہے اس کے ارد گرد کئی اہم سرکاری دفاتر اور عمارات موجود ہیں جن میں شوکت خانم اسپتال بھی شامل ہے، دھماکے  کے کچھ دیر بعد تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کرنا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔