پاناما کیس؛ لندن فلیٹس کی ملکیت کے مزید ثبوت عدالت میں پیش


\"\"

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پاناما کیس کی سماعت کر رہا ہے، سماعت کے آغاز پر حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نےاپنے موکل کی جانب سے لندن میں اپنے فلیٹس کی ملکیت سے متعلق مزید ریکارڈ جمع کرا دیا، سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ تمام دستاویزات گزشتہ رات لندن سے منگوائی گئی ہیں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ جودستاویزات آپ دکھارہےہیں وہ آف شور کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کے نام ہیں، سوال یہ ہے کہ نیلسن اور نیسکول کا ڈائریکٹر کون تھا، دستاویزات سےثابت کریں کہ حسین نواز کمپنیاں چلا رہے تھے۔

سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ حسین نواز نے فیصل ٹوانہ کو اپنا نمایندہ مقرر کیا تھا لیکن تمام ہدایات حسین نواز دیتے تھے، فیصل ٹوانہ نے ایرینا کمپنی کی جانب سے معاہدہ کیا، فروری 2006 سے جولائی 2006 تک مریم نواز بطور ٹرسٹی شیئر ہولڈر رہیں اور شیئرز سرٹیفکیٹ مریم نواز کے پاس رہے، جولائی 2006 میں منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ شیئرز جاری ہوئے، 2014 میں شیئرز منروا سے ٹرسٹی سروسز کو منتقل ہوگئے۔ بیئریر سرٹیفکیٹ کی منسوخی سے مریم نواز کی بطور شیئرز ہولڈرز حیثیت ختم ہو گئی، مریم نے بیئریر سرٹیفکیٹ بطور ٹرسٹی اپنے پاس رکھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔