دہشت گردی زبان سے نہیں ذہن سے پیدا ہوتی ہے


\"\"

دہشت گردی ایک عالمی جنون ہے۔ لڑائی جھگڑا، جنگیں، گوریلا جنگ، چوری، ڈکیتی، مار پیٹ یہ سب دنیا میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اسے روکنے والوں نے ہر زبان کا سہارا لیا لیکن فساد زبان سے نہیں رکتا، ذہن سے رکتا ہے۔ جس الم ناک صورت حال سے ہم اس وقت دوچار ہیں اس سے نمٹنے کا واحد حل ذہن تبدیل کرنا ہے۔

عربی زبان کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ قدیم عربی شاعری اٹھا کر دیکھ لیجیے اس سے زیادہ شان دار ادب شاید ہی کسی دور میں تخلیق ہوا ہو۔ خیال کی ندرت، زبان و بیان، جذبات کا اظہار، سبھی کچھ اس میں نظر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ہم لڑائی جھگڑوں کے قصے بھی اس میں پڑھیں گے۔ بات یہ نہیں تھی کہ پانی پلانے پر جھگڑا ہو یا گھوڑا آگے بڑھانے پر جھگڑا تھا، بات اس نسلی تفاخر کی تھی جو صدیوں سے ان میں رائج تھا۔ یہی حسب نسب اور اپنی بات کے درست ہونے کا فخر ہم آج بھی اپنے آس پاس بے تحاشا دیکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ جب اکٹھا ہو کر ایک گروہ کے افراد میں تبدیل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی بات ہر قیمت پر منوانا چاہتے ہیں۔ خود کش دھماکے اور دہشت گردی وہ قیمت ہے جو ادا کر کے پاکستان لہولہان ہو چکا ہے لیکن نہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ پاتا ہے نہ ہی علی الاعلان اس کا کھرا نکالا جاتا ہے۔

تو ذہن تب بدلے جا سکتے ہیں جب ہم مسئلے کی جڑ کو پہچانتے ہوئے اس کا اعتراف کریں اور اس کے خاتمے کی کوشش شروع کی جائے۔ اسمبلی میں ہونے والی تازہ ترین بحث کے دوران نواز لیگ کی ایک ممبر نے یہ نکتہ بیان کیا کہ بچوں کو عربی زبان نہیں پڑھائی جا رہی اس لیے دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔

عربی ایک بہت وسیع زبان ہے۔ آج بھی عالمی ادب کے جتنے تراجم عربی میں ہو رہے ہیں، اردو، ہندی یا فارسی وغیرہ سے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ گویا عرب نوجوان جدید ادب سے بھی واقف ہیں اور چوں کہ پڑھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ ترجمے بکتے بھی ہیں اور جس چیز کی ڈیمانڈ ہو گی، مارکیٹ میں وہی پیش کی جائے گی۔

پاکستان کی بات ہو تو نظر آتا ہے کہ عرصہ دراز سے ثواب کی خاطر یا سکولوں کی فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو مدرسوں میں ڈالتے ہیں اور وہاں سے وہ عربی، اردو اور فارسی کسی حد تک سیکھ کر باہر آتے ہیں۔ یعنی عربی سے وہ واقف ہیں۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب عربی سے اس واقفیت کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ تشدد پسندی کے عمومی رجحانات کا سرا مدرسوں ہی سے جا کر ملتا ہے۔ تو بہرحال عربی کا جدید ادب یا مثبت فکر رکھنے والے مضامین کی ہمیں اس نصاب میں کمی نظر آتی ہے۔

امن چاہنے والے دنیا کی ہر زبان میں اپنی بات کرتے ہیں، قدیم شعرا میں سب سے زیادہ متنبی اور جدید میں نجیب محفوظ، محمود درویش، نزار قبانی وغیرہ نے یہ سب عربی میں کہا، بابا فرید، گرو تیغ بہادر، بلھے شاہ نے پنجابی میں اظہار کیا، کبیر داس، میرا بائی، تلسی داس کے پاس ہندی زبان تھی، وہ اسی میں مرکیاں اٹھاتے رہے، سچل سرمست سندھی میں یہی سب کہتے تھے، رحمان بابا پشتو میں سمجھاتے رہے، اردو میں فیض صاحب سے بہتر کس کی مثال دی جا سکتی ہے، شاہ حسین کو سرائیکی والے بھی اپنا کہتے ہیں، پنجابیوں کا بھی ان پر کلیم ہے، بات وہ بھی یہی کرتے تھے، فارسی میں اپنے حافظ، سعدی، رومی، تبریزی، آملی، یہی پرچار کرتے پھرے، مگر یہ سب سننے کے لیے وہ کان چاہئیے جو ایسی باتوں پر توجہ دے سکیں۔ ان تمام شاعروں کے کلام سے بھی ہم کچھ نہ کچھ ایسا نکال سکتے ہیں جس پر فساد کی سلطنت کھڑی کی جا سکے، بات وہی ذہن اور ذہن سازی کی آ جاتی ہے۔

اسمبلی میں دلائل دیتے ہوئے انہیں خاتون ممبر نے یہ بھی کہا کہ والدین بچوں کو انگریزی سکولوں میں ڈال دیتے ہیں اور عربی زبان سکھانے کی فکر نہیں کرتے، اسی رجحان کا سرا دہشت گردی سے جوڑا گیا جو کہ حیرت انگیز ہے۔ انگریزی سکولوں کا نصاب اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ چھٹی جماعت کے کورس میں مایا تہذیب، مصری تہذیب، قدیم ایرانی تہذیب، قدیم چین سے متعلق پورے پورے باب شامل ہیں۔ گویا سکھایا جا رہا ہے کہ بھئی دنیا بہت وسیع ہے، اسے دیکھو، اسے جذب کرو، رائے قائم کرنے کے لیے عمر پڑی ہے۔ کسی ایک درسی کتاب میں کوئی ایک مضمون ایسا نہیں ملتا جسے ہم ذمہ دار قرار دیں اور کہیں کہ بچوں کی ذہنی تربیت میں شدت پسندی شامل کی جا رہی ہے۔ ہاں جہاں بات سوشل سٹڈیز کی ہو گی یا دیگر روایتی مضامین ہوں گے وہ چاہے اردو میں ہوں یا انگریزی میں، بنیادی فکر وہی ملے گی جس کی رو سے چند مخصوص ممالک آنکھیں بند کر کے ہمارے دشمن ہوں گے اور چند مخصوص تہذیبوں کے پیچھے ہم لٹھ لے کر پڑے نظر آئیں گے۔ سوائے دو تین بڑے انگریزی میڈیم سکولوں کے، نصابی فکر کی یہ اہم اور بنیادی کمزوری اس وقت پورے پاکستان میں رائج ہے۔ اور یہی مسئلے کی الجھی ڈور کا سرا ہے۔

بات اتنی سی ہے کہ زبان کوئی بھی ہو، اگر ہم پہلے دن سے اپنے بچے کو یہ نہیں سکھاتے کہ بیٹا دشمن کبھی ماں کے پیٹ سے دشمن پیدا نہیں ہوتا، اسے اس کی سوچ اور اس کا نظریہ تمہارا دشمن بناتا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مار ہی دیا جائے، اسے بات چیت سے بھی قائل کیا جا سکتا ہے۔ پھر دشمنی کا یہ فلسفہ ایک الگ شخص پر تو کسی حد تک اپلائے کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں بات پورے ملک کی ہو، پوری قوم کی ہو، وہاں کئی طرح کے لوگ ہوتے ہیں، کچھ تمہارے ہم خیال بھی ہوں گے، تو سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک کر ان سے دشمنی نہیں کی جا سکتی چاہے وہ کوئی ملک ہو چاہے وہ کوئی قوم ہو۔

ایک بار اگر ذہن میں یہ چیز بیٹھ جائے تو بم دھماکوں یا جنگوں کی مذمت کرنا فکری طور بچوں کے لیے بھی ممکن ہو گا اور یہ بات بہرحال کسی بھی زبان میں سمجھائی جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 181 posts and counting.See all posts by husnain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *