کیا عالمگیریت سے واپسی ممکن ہے؟


\"\"

جب سے برطانیہ، یورپی یونین سے علیحدہ ہوا ہے اورصدر امریکہ ٹرمپ نے نئی معاشی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ دنیا میں عالمگیریت پر بحث زور وشور سے شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دنیا میں عالمگیریت کا ماحول تیزی سے بننا شروع ہوا۔ دنیا کے مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ بنی اور ساتھ ہی مالیات کو کنٹرول کرنے کے لئے مالیاتی ادارے معرض وجود میں آئے۔ اس وقت سے لیبر، ٹیکنالوجی اشیاء اور سرمائے نے تیزی سے سرحدیں عبور کرنا شروع کیں۔ عالم سطح کی بڑی کاروباری کمپنیوں کا ایک سیلاب آیا۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ 10۔ بڑی عالمی کمپنیاں 285 ٹریلین ڈالر کی مالک ہیں۔ ایسے ہی چند بڑے ادارے50% عالمی تجارت کنڑول کرتے ہیں۔ 80 ملین روزگار کے مواقع بھی ایسی ہی بڑی کمپنیوں کے پاس ہیں۔ کرہٌ ارض پر انہی کا طوطی بولتا ہے۔ قومی حکومتیں اب ان کے مشورہ کے بغیر کام نہیں کرسکتیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالمگیریت اب اپنے جوبن پر ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یورپی یونین کا تصور عالمگیریت کی ایک شکل تھی۔

عالمگیریت سے جو مسائل پید ا ہوئے ان سے جان چھڑانے کے لئے برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوا۔ ٹرمپ نے بھی انتخابی مہم میں ”پہلے امریکہ“ اور ”ساختہ امریکہ“ کے نعرے لگائے۔ عالمگیریت کے منفی اثرات نے امریکہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں 70۔ لاکھ روزگار کے مواقع امریکہ سے باہر منتقل ہوگئے ہیں۔ امریکہ میں اشیاء سازی صرف 9%رہ گئی۔ اور اب امریکی دوسرے ممالک کی بنی ہوئی سستی اشیاء صرف کرتے ہیں۔ ایک امریکی ماہر کے مطابق امریکہ کے پاس اب برآمد کے لئے کوڑا کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ان کی یہ بات مادی اشیاء کے حوالے سے تھی۔ کچھ دہائیاں پیشتر امریکہ ہی عالمگیریت کا سب سے بڑا وکیل تھا۔ اور اب اسی کا صدر امریکی کمپنیوں کو واپس امریکہ آنے اور اشیاء سازی شروع کرنے کے بارے کہہ رہا ہے۔

دیکھا جائے تو اس وقت امریکی عوام سب سے زیادہ غریب ہیں۔ امریکہ پر20۔ ٹریلین ڈالرکا قومی قرض ہے۔ اگر یہ قرض 32۔ کروڑ امریکیوں پر تقسیم کیاجائے تو امریکیوں کی مالی حالت کا ہر ایک کو پتہ چل سکتا ہے۔ امریکہ کی سالانہ آمدنی، قرض کی نسبت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ، آخر دنیا کی سرداری کی کچھ تو قیمت اداکرنی پڑتی ہے۔ اب ٹرمپ لاکھوں امریکی کمپنیوں کو کہہ رہے ہیں کہ واپس امریکہ آؤ اور اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرو۔ 200بڑی عالمی کمپنیوں میں سب سے زیادہ امریکی کمپنیاں ہیں۔ اس کے بعد چین، جرمنی، جاپان، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ کچھ بڑے ادارے اٹلی، برازیل اور کینڈا کے بھی ہیں۔ بڑی کمپنیاں اس وقت اپنے گھر سے باہر جاتی ہیں۔ جب ان کو دنیا کے دوسرے ممالک میں سستی لیبر اور وسیع مارکیٹ ملتی ہے۔ صنعتی ٹیکسوں میں بھی رعائت ملتی ہے۔ یوں ان کے لئے منافع کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ دنیا کی ہزاروں بڑی کمپنیاں اب ایسے منافعوں کی عادی ہوچکی ہیں۔ بہت سے ملکوں میں دہائیوں سے کام کرتے ہوئے وہاں بہت کچھ اثاثے بناچکی ہیں۔

ٹرمپ نے آکر Immigrantsپر تو فوری پابندی لگادی ہے۔ اب ان کی یہ کوشش ہے کہ جیسے برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوا ہے۔ ایسے ہی امریکہ (NAFTA) یعنی شمالی امریکی فری تجارتی معاہدے سے الگ ہوجائے۔ یہ معاہدہ 20 سال پہلے کلنٹن کے دور صدارت میں میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ہواتھا۔ امریکی ماہرین کے مطابق اس سے امریکہ کو بے پناہ نقصان ہوا۔ اس معاہدے کی وجہ سے امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ (NAFTA) کے تحت تجارت میں امریکہ کو صرف گزشتہ ایک سال میں177۔ بلین ڈالر کا خسارہ ہوا۔ امریکہ کے شمال اور جنوب میں واقع دونوں پارٹنر کے لوگ قطار اندر قطار امریکہ میں ایسے ہی آرہے ہیں۔ جیسے پاکستان میں افغانی بغیر روک ٹوک کے آتے رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کہ ٹرمپ نے کسی بھی وقت (NAFTA) کو توڑ دینے کا اعلان کردینا ہے۔ جیسے اس نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے۔

امریکہ اب عالمگیریت سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ امریکی ماہرین کے مطابق اگر (NAFTA) مزید2دہائیاں برقرار رہا تو امریکیوں کے لئے40۔ لاکھ روزگار کے مواقع مزید ختم ہوجائیں گے۔ امریکی معیشت میں اگر اشیاء سازی کم ہوتی ہے تو اس میں آٹو میشن یعنی روبوٹس کا بھی بڑا دخل ہے۔ انہیں نہ تو صحت الاؤنس دینا پڑتا ہے۔ اورنہ ہی یہ اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے آگے عالمگیریت مضبوط بند کی طرح کھڑی ہے۔ عالمگیریت کے حق میں تیزی سے چلتے ہوئے پہیے کو الٹنا ٹرمپ کے لئے بہت مشکل ہے۔ امریکی کمپنیوں سے ان کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ اور انہیں سرمایہ کاری واپس لانے کے لئے کہا جارہا ہے۔

لیکن خبریں آرہی ہیں کہ100۔ کمپنیوں نے ٹرمپ کے خلاف اتحاد بنا لیا ہے۔ وہ ٹرمپ کیImmigration اور دوسری پالیسیوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ بات آہستہ آہستہ واضح ہوگی۔ جب سرمایہ دار طاقتور ہوجاتے ہیں تو وہ ریاست کی پالیسیوں کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ سرمایہ جب منہ زور ہوجائے تو اسے روکا نہیں جاسکتا۔ اور نہ ہی زبردستی واپس لایا جاسکتا ہے۔ یہ بات نہ صرف امریکی سرمایہ داروں کے لئے بلکہ دنیا کے تمام سرمایہ داروں کے لئے درست ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ اور چینی سرمایہ دارصر اس ملک میں اپنا صنعتی یونٹ لگاتے ہیں۔ جہاں ان کو زیادہ فائدہ نظر آتا ہو۔ تمام دنیا میں اب یہی چلن ہے۔ اب عالمی سرمایہ دار اپنی مرضی کررہے ہیں۔ 1980ء سے عالمی تجارت تیزی سے بڑھی ہے۔ چین کی سستی اشیاء نے امریکہ، یورپ اور باقی ماندہ دنیا کے بازاروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ لوگ اب ان سستی اور معیاری اشیاء کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان سے نہ اب دنیا کی جان چھوٹے گی اورنہ عالمگیریت میں کمی آئے گی۔ WTO کا ادارہ جو اب سے 2۔ دہائیاں قبل بنا تھا۔ اس کی کوشش یہی تھی کہ تجارت کے راستے کی تمام رکاوٹیں دورہوجائیں اور کسی بھی ملک میں بنی ہوئی شے بغیر ڈیوٹی کے باقی ماندہ ممالک میں فروخت ہو۔

عالمگیریت کا غیر ترقی یافتہ ممالک کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں نے جب ایسے علاقوں میں فیکٹریاں لگائیں تو وہاں کے لوگوں کو روزگار بھی بہت ملا۔ جیسے پاکستان میں جاپان اور برطانیہ نے کافی عرصہ پہلے سرمایہ کاری کی اور اس سے پاکستانیوں کو بہت فائدہ ہوا۔ اسی عالمگیریت کے تحت اب چین 54۔ ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اور پاکستان کی معیشت میں ہرطرف معاشی سرگرمی دیکھی جارہی ہے۔ دبئی کی رونقیں توصرف غیر ملکی سرمائے کی وجہ سے ہیں۔ یہ بات توہر کوئی جانتا ہے کہ سرمایہ سرحدوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ اس کا سفر ایسے علاقوں کی طرف ہوتا ہے جہاں اس کو حالات زیادہ موافق نظر آتے ہیں۔ اب دور Post Natioin State کا ہے۔ کرۂ ارض پر علاقائی تعاون کے معاہدے ہورہے ہیں۔ یورپی یونین ایک بڑی کامیابی ہے۔ (NAFTA) اس کے بعد آیا۔ آسیان اور سارک بھی ایسے ہی مقاصد کے لئے بنے تھے۔ جنوبی امریکہ والوں نے بھی اپنے ممبران کو سہولتیں دے رکھی ہیں۔ SCO ایشیاء کے بڑے ممالک کے درمیان طے پانے والا نیا معاہدہ ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ذرائع ابلاغ نے بہت تیزی سے سفرکیا ہے۔ کبھی صرف پرنٹ میڈیا اور ریڈیو ہی تھا۔ ٹی۔ وی نے آکر پورے کرۂ ارض کو واقعی بہت قریب کردیا۔ اور اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے آکر رہی سہی کسرنکال دی ہے۔ مالیاتی وصولیوں اور ادائیگیوں کے طریقے اب سرے سے بدل گئے ہیں۔ اربوں کے سودے اب میڈیا کے ذریعے ہورہے ہیں۔ ویڈیو کا نفرنسز نے سفر کی ضرورت ختم کردی ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیم میں بھی انقلاب برپا کردیا ہے۔ ای۔ مارکیٹنگ اب دنیا کا چلن ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے اب دنیا کی ہرشے قریب ترین محسوس ہوتی ہے۔ حکومتی اور غیر حکومتی شعبوں میں عالمگیریت کی وجہ سے اب یکسانیت آتی جارہی ہے۔ دنیا کے اکثر کارخانوں اور دفتروں میں اب کام کے طریقے ایک ہی جیسے ہوگئے ہیں۔ یہ ساری کامیابیاں انسان نے صدیوں کی کامیاب کوششوں سے حاصل کی ہیں۔ ٹرمپ کا نعرہ ”پہلے امریکہ“یا“ساختہ امریکہ۔ “اب کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔ دنیا آگے کی طرف جاتی ہے۔ پیچھے کی طرف سفر ممکن نہیں ہوتا۔ عالمگیریت کی وجہ سے بے شمار دیگر شعبوں سے بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے صرف معاشی پہلو پر بحث کی ہے۔ اب عالمگیریت سے واپسی ناممکن ہے۔ اس سے جوخرابیاں پیداہوئیں انہیں دور کرنیکی کوشش کرنی چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments