سٹہ وٹہ اور کرکٹ


\"\"

کرکٹ گو کہ ہمارا قومی کھیل نہیں ہے۔ لیکن جتنی اہمیت قومی سطح پر کرکٹ کو دی جاتی ہے۔ اس سے یہ کھیل مقبولیت میں دیگر کھیلوں سے آگے ہے۔ کسی زمانے میں کرکٹرز کے معاوضے نچلی سطح پر پائے جاتے تھے۔ کیری پیکرز نے جب سے رات کی کرکٹ کی بنیاد ڈالی اور بین الاقوامی سطح پر عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز کو بھاری معاوضے پر خریدا۔ کرکٹ اور کھلاڑیوں کی شہرت کو مزید چار چاند لگ گئے۔ جب کیری پیکرز نے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو خریدا تو آئی سی سی نے اس کا خصوصی نوٹس لیا اور ہر ملک کی کرکٹ کونسل کو اس امر کا پابند کیا کہ کیری پیکرز سیریز میں کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائیں۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن رفتہ رفتہ تمام ممالک نے کھلاڑیوں پر سے یہ پابندی ختم کردی اور وہ پھر سے قومی کرکٹ ٹیموں کا حصّہ بن گئے۔

کیری پیکرز کی وجہ سے کرکٹ میں پیسہ آچکا تھا۔ ہمارے ملک میں بھی کھلاڑیوں نے معاوضوں میں اضافے کا مطالبہ کیا، جو منظور ہوا لیکن کھلاڑیوں کی نظر میں کھیل کی اہمیت معاوضوں کی حد تک رہ گئی۔ بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی مشہوری کے لیے، کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا شروع کردیں۔ کھلاڑیوں کی کمائی کا ایک ذریعہ یہ بھی مہیا ہوگیا۔ شہرت کا مرض، انسان سے کچھ بھی کروالیتا ہے۔ کچھ کرکٹرز نے تو باقاعدہ فلموں میں کام شروع کردیا۔ جس سے ہوسکتا ہے، وہ مطلوبہ شہرت، رتبے کے اس مقام پر پہنچ گئے ہوں جو ان کو مطلوب تھا۔ لیکن عوامی سطح پر اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ کیری پیکرز سے وابستہ کھلاڑیوں کو کیونکہ دولت کی لت لگ چکی تھی۔ اس لیے شارجہ میں کرکٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اشتہارات کی رقم اور گیٹ منی سے کھلاڑیوں کو معاوضے کی ادائیگی کی روایت پڑی۔ کچھ عرصہ تو سلسلہ درست سمت میں چلتا رہا، پھر میچ فکسنگ کی خبریں آنی شروع ہوگئیں۔ یہیں سے کھیل کا زوال شروع ہوا اور کھلاڑیوں کی دولت و شہرت کا عروج! شارجہ، دبئی اب کرکٹ کے حوالے سے میچ فکسنگ، جوے اور سٹے کے طور پر بدنام ہوچکاتھا۔ بھارت اور پاکستان کے بک میکرز نے بھی اپنا پڑاؤ دبئی میں ڈال لیا تھا۔
کرکٹ میں جوا کھیلنے کا الزام سب سے پہلے وسیم اکرم، سلیم ملک اور اعجاز احمد پرلگا۔ مقدمہ چلا لیکن سزا کی زد میں صرف سلیم ملک آئے اور ابھی تک، ان پر پابندی ہے۔ اب کرکٹ میں جوا اور سٹہ کھیلنے کا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر رواج پڑچکا ہے۔ دیگر ممالک میں جو کھلاڑی جوا کھیلنے کے الزام پر پکڑے گئے، جرم ثابت ہونے پر ان کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ور کرکٹ میں ان کا مستقبل ختم ہوگیا۔

29 اگست 2010 پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ جب سلمان بٹ، محمّد آصف اور محمّد عامر پر اسپاٹ فکسنگ کے الزام لگے۔ لندن کی عدالت میں مقدمہ چلا اور سب کو سزا ہوئی۔ محمّد عامر کے اعتراف جرم اور کم عمری کی وجہ سے، ان کی سزا میں تخفیف ہوئی اور ملک واپس آگئے۔ میڈیا نے محمّد عامر کاساتھ دیا، ملکی سطح پر ان سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ پھر سے کرکٹ ٹیم کا حصّہ بن گئے گو کہ ب تک کسی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے ہیں۔

تازہ ترین جوے اور سٹے کے الزامات میں، جوا اور سٹہ کھیلنے والے کھلاڑی کو قومی کرکٹ ٹیم کا دوبارہ حصّہ بنانے کافیصلہ درست نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اس سے نوجوان کھلاڑیوں کو ترغیب ملتی ہے۔ ابھی تو دولت کمالو بعد کی، بعد میں دیکھی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں خبر آگئی کہ شرجیل خان اور خالد لطیف جوا اور سٹہ کھیلنے کے الزام پر معطل کردیے گئے ہیں اور وطن واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور الزام ثابت ہونے پر تاحیات کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائی تاکہ مستقبل میں کسی کھلاڑی کو سٹہ کھیل کر ملک کے نام کو بٹہ لگانے کی ہمت نہ ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔