عبدالسلام ضعیف: قلعہ جنگی کے مظلوم قیدی


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام کی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ کے چند صفحات۔

بہت سے قیدیوں نے اس وقت مجھے اپنی سرگزشت سنائی جب وہ میرے ساتھ والے پنجروں میں قید تھے۔ یمن کے مختار اور تاجکستان کے یوسف اس وقت قندوز کے علاقے قلعہ جنگی میں تھے جب طالبان لڑاکوں کے ایک بڑے گروہ نے شمالی اتحاد کی ازبک ملیشیا کے گھیرے میں آنے کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔

ان کا خیال تھا کہ ان کی ہتھیار ڈالنے کی شرائط طے ہو چکی ہیں اور ان کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن ازبک لڑاکوں نے اپنے وعدے فراموش کر دیے۔ طالبان کو مارا پیٹا گیا اور کئی پر تشدد کیا گیا یا انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کو سینکڑوں کی تعداد میں دھاتی کنٹینروں میں ٹھونس دیا گیا۔ ان میں سے کئی قیدی شدید زخمی بھی تھے۔

قلعہ جنگی میں ان کو ایک دوسرے پر پھِینکا گیا، پھر مارا گیا اور پہریداروں نے انہیں آپس میں لڑنے پر مجبور کیا۔ انہیں کھانے پینے کو کچھ نہ دیا گیا۔ اس وقت ان کی تمنا تھی کہ کاش ان کو مار دیا گیا ہوتا۔

یوسف تاجک نے بتایا کہ جس وقت سپاہی اس کے کپڑوں کی تلاشی لے رہے تھے تو ایک نے اس کے منہ میں پیچھے کی جانب سونے کی رنگت والا دانت دیکھ لیا۔ یوسف نے اس کی منت سماجت کی اور بتایا کہ دانت سونے کا نہیں ہے لیکن اس نے دانت کھینچ نکالنے کی کوشش کی۔ وہ دانت جبڑے میں اندر کی طرف تھا۔ سپاہی دھات کا ایک ٹکڑا لایا اور دانت نکالنے کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی۔ اس نے یوسف کو اس وقت چھوڑا جب دوسرے سپاہیوں نے کہا کہ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ دانت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

مختار اس وقت بہت کم عمر تھا۔ جب اس نے قلعہ جنگی میں اپنی روداد سنائی تو وہ رونے لگا۔ اس نے کہا کہ وہ مرنا چاہتے تھے اور انہوں نے دوستم کے سپاہیوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جب ان کے ہاتھ کھولے گئے تو انہوں نے کچھ ہتھیار چھین لیے اور لڑنے لگے۔ چھے روز تک وہ ڈٹے رہے اور ان میں سے کئی مارے گئے اور اس کے بعد ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

\"\"

محمد یوسف افغان نے بتایا کہ طالبان نے اسے اس کے گاؤں سے بھرتی کیا تھا۔ جب ان کو دوستم کی ملیشیا نے گرفتار کیا تو اس کا خیال تھا کہ اسے واپس گاؤں بھیج دیا جائے گا۔ لیکن اسے اور دوسرے ساتھیوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا گیا اور پیٹا جانے لگا۔ زخمی افراد کو یا تو گولی مار دی گئی یا بارش کے پانی کے جوہڑوں میں ڈبو کر مار دیا گیا۔ ملیشیا نے ان کا سب کچھ لوٹ لیا۔ ان کے پیسے، سویٹر، بوٹ حتی کہ ٹوتھ پیسٹ تک لوٹ لیا گیا۔ کچھ ساتھیوں کو مار مار کر قتل کر دیا گیا۔ پھر ان کو شپنگ کنٹینر میں بھر دیا گیا۔

اس نے بتایا کہ کنٹینر میں تقریباً تین سو لوگوں کو بھر کر اسے بند کر دیا گیا۔ ان کو چار دن تک حالتِ سفر میں رکھا گیا۔ وقفے وقفے سے ان کو روک کر دروازہ کھولا جاتا۔ لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے نکال کر مارا پیٹا جاتا اور پھر واپس کنٹینر میں ڈال دیا جاتا۔ آخر کار کنٹینر کو زمین پر اتار دیا گیا۔ ملیشیا والوں نے آخری مرتبہ دروازے بند کیے اور پھر چلے گئے۔

تین دن تک وہ اندر بند پڑے رہے۔ لوگ مدد کے لئے چیخ چلا رہے تھے۔ کچھ نے بتایا کہ انہوں نے رسول پاکؐ کا دیدار کیا ہے۔ جب دروازہ کھلا تو بیشتر قیدی مر چکے تھے اور وہ ان کی لاشوں پر چڑھ کر باہر نکلا۔ پہلا شخص جو کہ اس نے دیکھا وہ ریڈ کراس کا ایک نمائندہ تھا۔ لیکن پھر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور جزوان کے ایک قید خانے میں لے جایا گیا۔

طالبان کے آٹھ ہزار کے قریب قیدیوں نے ہتھیار ڈالے تھے لیکن ان میں سے صرف تین ہزار زندہ بچ پائے۔ میں اس وقت اسلام آباد میں تھا اور ان کو رہا کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دوستم سے کئی مرتبہ بات کی اور اس نے مجھے یقین دلایا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔ میں اقوام متحدہ کو بھی قیدیوں کے بارے میں بتانے گیا اور انسانی حقوق کے کمیشن اور ریڈ کراس بھی۔

عبدالغنی کا تعلق قندھار صوبے کے علاقے خوشاب سے تھا اور اس نے بتایا کہ اسے گھر سے گرفتار کیا گیا اور اس پر گورنر قندھار نے الزام لگایا گیا کہ اس نے ہوائی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے کوئی راکٹ نہیں چلائے ہیں مگر پھر بھی اسے اللہ نور کے حوالے کر دیا گیا جو کہ کمیونسٹ حکومت کا ایک ظالم کمانڈر تھا۔ وہ لشکر گاہ کے فوجی اڈے کا کمیونیکیشن کا انچارج تھا مگر اس وقت وہ قندھار کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کا سربراہ تھا۔

عبدالغنی کو قندھار ائیرپورٹ پر لے جایا گیا اور ایک اندھیرے کمرے میں اسے آہنی تاروں سے پیٹا گیا مگر اس نے اقبال جرم نہ کیا۔ پھر اسے چھت سے الٹا لٹکا دیا گیا اور سارا دن پیٹا جاتا رہا۔ اس سے اذیت برداشت نہ ہوئی اور آخر کار اس نے الزام قبول کر لیا۔ اسے امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں

گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے

جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے

ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی

ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306

ملا عبدالسلام ضعیف: ریڈ کراس، مسیحا یا جاسوس؟

ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کیمپ میں قرآن پاک کی بے حرمتی

ملا عبدالسلام ضعیف غداری پر آمادہ نہ ہوئے 

ملا عبدالسلام ضعیف گوانتانامو بے میں

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو بے اور ریڈ کراس کا کردار

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو کے پہرے دار

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو بے میں انسانیت سوز مظالم

عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو کے مرتد اور جاسوس قیدی

 ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتامو – زندہ لوگوں کا قبرستان

عبدالسلام ضعیف: قلعہ جنگی کے مظلوم قیدی


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 493 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar