عربی زبان، دہشت گردی اور ہماری حکمت عملی


\"\"قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ملک میں عربی کی لازمی تعلیم پر غور کرتے ہوئے حکمران پارٹی کی رکن اسمبلی نے بتایا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا سبب طالب علموں کی عربی زبان سے ناشناسائی ہے۔ اس لئے فوری طور پر عربی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کا اہتمام ہونا چاہئے۔ تاہم متعلقہ وزارت کی طرف سے واضح کیا گیا کہ نہ تو اس مقصد کے لئے  وسائل موجود ہیں اور نہ ہی مناسب تعداد میں عربی کے استاد دستیاب ہیں۔ البتہ اس دلیل پر کسی نے سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ آخر عربی جاننے اور دہشت گردی کا باہم کیا رشتہ ہے۔ گو کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی سید علی رضا عابدی نے یہ ضرور کہا کہ عربی بولنے والے بھی تو دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق اقلیتی اور مسترد کی گئی پارٹی سے ہونے کی وجہ سے اس بات کو مزید بحث کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے عربی زبان کی تدریس کے بارے میں تو اظہار خیال نہیں کیا لیکن ان کا موقف تھا کہ مساجد میں قرآن کی ترجمہ کے ساتھ تدریس کا اہتمام کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان کے خیال میں اسلام آباد کی بیشتر مساجد قرآن دانی میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ اس پرجوش استدلال سے بھی یہ جاننا مشکل ہے کہ اگر ملک کے سب طالب علم قرآن کے اسباق ازبر کر لیں گے تو اس سے ملک میں دہشت گردی کا تدارک کیوں کر ممکن ہوگا۔ البتہ ملک کے جمہوری نظام کے سب سے بڑے ایوان میں موجود فاضل اراکین کے خیالات اور تبصروں سے یہ اندازہ بہرصورت کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کی مذمت کے باوصف یہ نمائندے عوام کی حفاظت کے لئے اقدامات کو اپنی ذمہ داری سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہ یہ بھی جاننے کی زحمت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے کیوں کر نمٹا جا سکتا ہے۔

عربی دانی ہی اگر دہشت گردی سے بچنے کا ذریعہ ہوتی تو امریکہ سمیت دنیا کے ہر ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے اس آسان طریقہ کو اختیار کیا جا سکتا تھا۔ گزشتہ دہائی کے دوران پوری دنیا نے دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کا سدباب کرنے کے لئے  اربوں ڈالر صرف کئے ہیں۔ غلط یا درست مگر دو ملکوں کے خلاف طویل اور مہنگی جنگ برپا کی گئی۔ افغانستان اور عراق میں شروع کی گئی ان جنگوں کے بھیانک اثرات اب پوری دنیا میں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ خاص طور سے شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اور داعش کے عروج کی ایک بڑی وجہ عراق پر امریکی حملہ ہی تھا۔ مغربی ماہرین بھی اب اس بات کا تسلیم کر رہے ہیں۔ جو لوگ عراق کی جنگ کو ضروری بھی قرار دیتے ہیں، وہ بھی اس کے بھیانک اثرات کو تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ابتدائی حکم نامے جاری کئے تھے، ان میں ملک میں مہاجرین کی آمد پر عارضی پابندی کے علاوہ سات مسلمان ملکوں کے شہریوں پر امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس حکم نامے کو بعد میں ایک عدالت نے معطل کر دیا تھا۔ لیکن یہاں یہ ذکر یوں اہم ہے کہ ان سات ملکوں مٰن ایران کے سوا سب ممالک میں عربی زبان ہی بولی جاتی ہے۔

اس وقت جو  دہشت گرد گروہ سب سے زیادہ طاقتور اور خطرناک سمجھا جا رہا ہے، اس کا نام داعش ہے۔ اس گروہ نے عراق میں جنم لیا اور شام کی خانہ جنگی میں پروان چڑھا۔ عراق اور شام کے جس وسیع علاقے پر قبضہ کرکے اسلامی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، وہاں کے باشندے بھی عربی بولتے اور پڑھتے ہیں۔ داعش نے اپنے زیر نگیں علاقوں میں جن اقلیتی گروہوں کو استبداد اور ظلم کا نشانہ بنایا ان میں عیسائی اور یزیدی بھی شامل تھے۔ یہ سارے لوگ عرب میں ہی رہتے آئے ہیں اور عربی زبان ہی بولتے ہیں۔ یوں مشرق وسطیٰ میں اسلامی خلافت کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے نام پر تباہ کاری اور ہلاکت برپا کرنے والوں کے علاوہ ، وہ سارے لوگ بھی عربی النسل ہیں جو ان لوگوں کے ظلم کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعض فاضل اراکین عربی سیکھنے کو دہشت گردی سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس سادہ لوحی کا مظاہرہ اگر کوئی عام شہری کرے تو اسے اس کی لاعلمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں گزشتہ تین روز میں دہشت گردی کے پانچ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے سہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملہ میں 40 افراد جاں بحق ہوگئے۔ لیکن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ اگر اسکولوں میں عربی سکھانے کا اہتمام کر لیا جائے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس طرز گفتگو کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

قومی اسمبلی کے ارکان کی طرف سے عربی کے بارے میں یہ احمقانہ استدلال یوں بھی کئی پہلو لئے ہوئے ہے کہ ملک کے سیاست دان اور فوجی یکساں طور سے عرب ملکوں کے رہنماؤں سے ذاتی مراسم استوار کرتے ہیں اور ملک و قوم کی قیمت پر انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت پاناما لیکس کیس میں سارا معاملہ ایک قطری شہزادے کے خط کی سچائی پر ٹکا ہوا ہے جس نے یہ بیان کیا ہے کہ اس کے خاندان نے وزیراعظم کے والد سے 12 ملین درہم نقد وصول کئے تھے اور پھر اسے کاروبار میں لگا کر اتنا منافع حاصل کیا گیا اور میاں شریف کے خاندان کو ادا کیا گیا کہ اس کی بدولت نہ صرف یہ کہ شریف خاندان جلا وطنی کے برسوں میں جدہ میں اسٹیل مل قائم کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ منافع ادا کرنے کے لئے لندن کے قیمتی علاقے میں چار بیش قیمت اپارٹمنٹس بھی نواز شریف کے صاحبزادوں کے حوالے کر دیئے گئے۔

عرب رہنماؤں سے اسی شیفتگی کا شاخسانہ ہے کہ ہمارے متعدد لیڈر جدہ یا دوبئی وغیرہ میں وسیع املاک کے مالک ہیں اور مشکل وقت میں وہاں قیام کرتے ہیں۔ ابھی سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے سابق سعودی حکمران شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ساتھ برادرانہ ذاتی تعلقات تھے۔ اسی لئے انہوں نے لندن اور دوبئی میں جائیداد خریدنے کے لئے پرویز مشرف کی مدد کی تھی۔ اگرچہ پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ اس باہمی دوستی کا ان کی سیاسی حیثیت یا حکومت میں رہنے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ ’’مہربانی‘‘ (اسے نامعلوم مقدار میں نقد امداد سمجھا جائے) ان کے اقتدار سے علیحدگی کے بعد 2009 میں کی گئی تھی۔ یہ بہرحال ایک سابق آرمی چیف، ملک کے صدر اور حکمران کا بیان ہے۔ اگر کبھی اس کی جانچ کرنے کی نوبت آئی تو اس شاہی سخاوت اور پاکستان کے ساتھ وابستہ سعودی عرب کے مفادات میں تعلق تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ پرویز مشرف خود بھی جانتے ہیں اور یہ بات اسے سننے پڑھنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ کوئی خود مختار شخص خواہ وہ لاتعداد وسائل کا مالک بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، کیوں پرویز مشرف یا نواز شریف نام کے کسی شخص کی مالی مدد فراہم کرے گا۔ یہ خسروانہ کرم نوازی ان سہولتوں کا ثمر ہوگی جو پاکستان کے حکمران کے طور پر کسی بھی ملک کو فراہم کی جاتی ہیں۔ دو خود مختار ملکوں کے تعلقات کو ذاتی تعلقات میں بدلنا اور اسے اپنی خوبی کے طور پر بیان کرنا صرف پاکستانی لیڈروں کا ہی خاصہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح یہ ابھی کل کی بات ہے کہ سعودی شاہی خاندان نے پاک فوج سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو خصوصی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ جنرل اور ان کے خاندان کو سعودی عرب لے جانے کے لئے خصوصی طیارہ لاہور بھیجا گیا۔ ریاض میں سابق آرمی چیف کا شاہانہ اور فراخدلانہ استقبال ہوا اور یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ انہیں سعودی کمان میں قائم کی گئی ’’اسلامی فوج‘‘ کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم اس معاملہ پر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب دینا چونکہ مشکل تھا اس لئے فی الوقت یہ معاملہ دبا دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستانی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ملک کے لیڈر خواہ وہ سیاسی ہوں یا فوجی، کیوں کر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کو ذاتی تعلقات کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ملک کی اکثریت کے عقائد کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ یہ کام عرب ملکوں سے مالی وسائل وصول کرنے والی یا اس کی خواہش رکھنے والی مذہبی تنظیمیں تو کرتی ہی تھیں، اب حکمران بھی اس غلط فہمی کو راسخ کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالانکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات دو ملکوں کے باہمی مفادات اور ضرورتوں کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتے ہیں۔ ان کا اس بات سے کوئی علاقہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں ملکوں میں مسلمان آباد ہیں یا مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ اگر یہ چیز حقیقی سیاسی مراسم میں کوئی معنی رکھتی تو سعودی عرب یا دوسرے عرب ممالک نہ تو بڑھ چڑھ کر بھارت کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی کشمیر کے سوال پر ان کی زبانیں گنگ ہوتیں۔ اگر عقیدہ ہی دو ملکوں کے درمیان تعلق میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا تو سب مسلمان ملک بیک زبان ان مظالم کی مذمت کرتے جو کشمیری افواج برس ہا برس سے کشمیر میں روا رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں بھارت کے پاس پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ لیکن عملی طور پر جب بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پاکستان اس پر احتجاج کرنے والا تنہا ملک ہوتا ہے۔

ان حالات میں ملک میں عربی شناسائی یا اس زبان کی تدریس کو دہشت گردی سے نجات پانے کا راستہ بتانے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے نام پر جو مسلح گروہ پاکستان میں تیار کئے گئے تھے اور جس مزاج کی ترویج کا آغاز کیا گیا تھا، اس کی وجہ سے ہی بعض عناصر مسلسل جنگ جوئی پر آمادہ ہیں۔ سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں، اس ملک کا شیرازہ بکھر گیا اور 9/11 میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن یہ عسکری گروہ اور مار دھاڑ کی ثقافت پاکستان پر تسلسل سے حملہ آور ہے۔ اس مزاج کو ترویج دینے میں سعودی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کا بھی بڑا حصہ ہے۔ مملکت پاکستان اور اس کے ادارے اس پوری صورتحال کا جائزہ لے کر معاملات درست کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے گروہوں کے بارے میں مسلسل نرمی اختیار کی جاتی ہے جو سعودی وسائل سے استوار ہوئے تھے لیکن ہمسایہ ملک انہیں اپنے ہاں دہشت گردی میں ملوث قرار دیتے ہیں۔ نہ ہم بیرون ملک سے آنے والے وسائل کو کنٹرول کرتے ہیں اور نہ ان عناصر کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں جو افغانستان یا بھارت میں تخریب کاری کے لئے اپنے ہرکارے روانہ کرتے ہیں یا ایسے عناصر کی کسی نہ کسی طرح سرپرستی کرتے ہیں۔ بلکہ جنرل پرویز مشرف جیسے رہنما حق نمک ادا کرنے کے لئے جماعت الدعوۃ کے لیڈر کی نظر بندی کو غلط قرار دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔

یہ ایک سنگین صورتحال ہے۔ اس کا اس ملک کے عوام کی اسلام دوستی اور عقیدہ سے وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمان ہونے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ اپنی زبان ، ثقافت یا رسوم و رواج کو خیر آباد کہہ دیا جائے۔ اور نہ ہی یہ اتنا آسان معاملہ ہے کہ اسکولوں میں عربی کی تدریس سے بم پھوڑنے اور خود کش حملے کرنے والے سر جھکا کر اپنے گھروں میں دبک جائیں گے۔ اس قسم کی حجت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرتی ہے اور یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ ملک کی حکمران قوتیں یا تو ان عوامل سے آگاہ نہیں ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک میدان کارزار بنا ہوا ہے یا انہیں جاننے اور ان کا تدارک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دونوں صورتیں مہلک اور خطرناک ہیں جو دعوؤں اور وعدوں کے باوجود اس ملک کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 592 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “عربی زبان، دہشت گردی اور ہماری حکمت عملی

  • 16-02-2017 at 10:37 pm
    Permalink

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

  • 18-02-2017 at 10:37 am
    Permalink

    سيد مجاهد علي كا تجزية شانداراورحقثقي هه
    محمد غطريف شهباز ندوي

Comments are closed.